|
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر ایٹم بم گرائے گئے تو؟
تحریر: آصف جیلانی اس وقت جبکہ پاکستان اور بھارت کی سرحدوں پر دونوں ملکوں کی دس لاکھ کے قریب فوج جمع ہے اور بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے اپنی فوجوں کو بقول ان کے ’فیصلہ کن فتح‘ کے لئے تیار رہنے کو کہا ہے، فوجی مبصرین کو دونوں ملکوں کے درمیان جوہری جنگ بھڑک اٹھنے کا خطرہ ہے۔ انہیں اندیشہ ہے کہ اس صورت میں جبکہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی روایتی اسلحے سے لیس فوج کم ہے لہذا اگر روایتی جنگ میں پاکستان کو حزیمت کا سامنہ ہوا تو وہ جوہری اسلحے کے استعمال سے دریغ نہیں کرے گا۔ اگر دونوں ملکوں میں جوہری جنگ چھڑی تو تباہی اور ہلاکتیں کس پیمانے پر ہوں گی؟ برطانوی جریدے نیو سائنٹسٹ نے اس سلسلے میں ایک مطالعہ شائع کیا ہے جس کے مطابق بھارت اور پاکستان کے درمیان جوہری جنگ میں تیس لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوں گے اور تقریباً دس لاکھ افراد شدید طور پر زخمی ہوں گے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ ہلاکتوں کا یہ اندازہ ایسی محدود جوہری جنگ کی صورت میں لگایا ہے جس میں دونوں ملک اپنے جوہری اسلحے کا صرف دسواں حصہ استعمال کریں گے اور دونوں ملکوں کے دس شہر اس جوہری حملے کا نشانہ بنیں گے۔ امریکہ کی پرنسٹن یونیورسٹی کے امریکی اور ایشیائی تحقیق کاروں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جوہری جنگ میں اس قوت کے دس جوہری بموں کے مہلک اثرات کا جائزہ لیا ہے جو انیس سو پنتالیس میں امریکہ نے جاپان کے شہر ہیرو شیما پر گرایا تھا۔ ان تحقیق کاروں کے جائزے کے مطابق اگر پندرہ پندرہ کلو ٹن کے پانچ جوہری بم چھ سو میٹر کی بلندی پر بھارت میں نئی دہلی، بنگلور، بمبئی، کلکتہ اور مدراس پر پھٹیں اور اسی طرح پانچ جوہری بم، اتنی ہی بلندی پر اسلام آباد، کراچی، لاہور اور راولپنڈی پر پھٹیں تو ہر شہر میں لاکھوں لوگ لقمہِ اجل بن جائیں گے۔ ان میں سے چھبیس لاکھ افراد بھارت میں اور اٹھارہ لاکھ پاکستان میں ہلاک ہوں گے۔ ان کے علاوہ دونوں ملکوں میں پندرہ لاکھ افراد شدید زخمی ہو جائیں گے اور برسوں تک لوگ تابکاری اثرات کی وجہ سے سرطان جیسی مہلک بیماریوں کا شکار ہوں گے۔ جوہری بم فضا میں پھٹنے کی بجائے اگر زمین پر پھٹے تو تابکاری سے میلوں دور تک ہلاکتیں ہوں گی۔ برصغیر میں ہوا کا رخ چونکہ مغرب سے مشرق کی سمت ہے لہذا اس محدود جوہری جنگ میں تابکاری سے پاکستان کے مقابلے میں بھارت میں زیادہ ہلاکتیں ہوں گی۔ واشنگٹن کے انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکورٹی کا اندازہ ہے کہ بھارت کے پاس تین سو دس کلوگرام پلوٹونیم کے پینسٹھ بم ہیں جبکہ پاکستان کے پاس چھ سو نوے کلوگرام یورینیم کے چالیس بم ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||