ہندوستان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ گجرات میں مذہبی فسادات کے دوران سینکڑوں مسلمان عورتوں کی آبرو ریزی کی گئی لیکن پولیس نے عصمت دری کا صرف ایک مقدمہ قائم کیا۔
پارلیمان میں گجرات کے مذہبی فسادات پر بحث کے دوارن سونیا گاندھی نے کہا کہ گجرات کے وزیر اعلیٰ اپنی جانبداری سے گجرات کا نام بدنام کرتے رہے اور مرکزی حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔
سونیا گاندھی نے فسادات میں زندہ بچ جانے والی ایک ایسی خاتون کا بھی ذکر کیا جس کی بیٹی کو عصمت دری کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ اس عورت کے تحریری احوال سے پڑھتے ہوئے اہنوں نے کہاکہ" میری بیٹی ایک پھول کی طرح تھی، اسے ابھی زندگی دیکھنا تھی ...لیکن ظالموں نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔"
محترمہ گاندھی نے کہا ک ملک کے
میری بیٹی ایک پھول کی طرح تھی، اسے ابھی زندگی دیکھنا تھی ...لیکن ظالموں نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے
ایک ماں کی دہائی
عوام کو نفرت کی سیاست تسلیم نہیں ہے اور یہ کہ ان فسادات سے ہندوستان کا نام دنیا بھر میں بدنام ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات کی خونریزی کو وہ انسانی اقدار پر حملہ تصور کرتی ہیں اور جو ہندوستان کی قدیم تہذیب کے بنیادی کردار کو مسترد کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم روز اپنے بیانات بدلتے رہے۔ کبھی انہوں نے فساد سے متاثرہ افراد کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا تو کبھی پوری مسلم قوم کو مورد الزام ٹھرایا۔
انہوں نے مسٹر واجپئ سے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو فوراً برخاست کرنے کا مطالبہ کیا کیونکہ بقول انکے مسٹر مودی نے ملک کے سیکولر آئین کو مجروح کیا ہے۔
دو مہینے سے جاری فسادات میں نو سو سے زیادہ لوگ
ہزاروں مسلمان بے گھر ہوگئے ہیں
مارے جا چکے ہیں جن میں زیادہ تر مسلمان ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف انتقامی کارروائی کا سلسلہ گودھرا میں ایک ٹرین پر حملے کے بعد شروع ہوا تھا جس میں 60 ہندو ہلاک ہو گئے تھے۔
بحث کا آغاز کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے رہنماء ملائم سنگھ یادو نے حکومت پر دائیں بازو کی ہندو جماعتوں کے دباؤ میں کام کرنے کا الزام لگایا۔
یہ بحث حزب اختلاف کی سرزنش کی تحریک پر کی جارہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے مذہبی فسادات کو روکنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔
بحث کے اختتام پر ووٹنگ کرائی جائے گی جس میں حکومت کی شکست حزب اختلاف کے لئے ایک اخلاقی کامیابی اور حکمراں اتحاد کے لئے شرمندگی کا باعث تو ہوگی لیکن حکومت کوکوئی خطرہ نہیں ہوگا۔
دلی سے ہمارے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کے خلاف تحریک سرزنش منظور ہوجاتی ہے، تو اس کی ساکھ کو زبردست نقصان پہنچےگا۔
ان فسادات میں حکومت کے کردار پر خود قومی جہموری اتحاد میں زبردست اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اور پیر کے روز کوئلہ اور کان کنی کے وفاقی وزیر رام ولاس پاسوان نے یہ کہتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا کہ اب پانی سر سےگزرگیا ہے۔
اس کے علاوہ بی جے پی کی سب سے بڑی حلیف جماعت تیلگو دیشم نے بھی گجرات کے وزیر اعلیٰ کو برخاست کرنے کا مطالبہ کرتےہوئے حکومت سے حمایت واپس لینے کی دھمکی دی تھی۔