BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
 
 
 
گرینچ 13:40 - 30/04/2002
'گجرات میں سینکڑوں مسلم عورتوں کی آبرو ریزی ہوئی'
سونیا گاندھی نے حکومت کو نشانہ بنایا
سونیا گاندھی نے حکومت کو نشانہ بنایا

ہندوستان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ گجرات میں مذہبی فسادات کے دوران سینکڑوں مسلمان عورتوں کی آبرو ریزی کی گئی لیکن پولیس نے عصمت دری کا صرف ایک مقدمہ قائم کیا۔

پارلیمان میں گجرات کے مذہبی فسادات پر بحث کے دوارن سونیا گاندھی نے کہا کہ گجرات کے وزیر اعلیٰ اپنی جانبداری سے گجرات کا نام بدنام کرتے رہے اور مرکزی حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔

سونیا گاندھی نے فسادات میں زندہ بچ جانے والی ایک ایسی خاتون کا بھی ذکر کیا جس کی بیٹی کو عصمت دری کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ اس عورت کے تحریری احوال سے پڑھتے ہوئے اہنوں نے کہاکہ" میری بیٹی ایک پھول کی طرح تھی، اسے ابھی زندگی دیکھنا تھی ...لیکن ظالموں نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔"

محترمہ گاندھی نے کہا ک ملک کے
  میری بیٹی ایک پھول کی طرح تھی، اسے ابھی زندگی دیکھنا تھی ...لیکن ظالموں نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے  
  ایک ماں کی دہائی  
عوام کو نفرت کی سیاست تسلیم نہیں ہے اور یہ کہ ان فسادات سے ہندوستان کا نام دنیا بھر میں بدنام ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات کی خونریزی کو وہ انسانی اقدار پر حملہ تصور کرتی ہیں اور جو ہندوستان کی قدیم تہذیب کے بنیادی کردار کو مسترد کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم روز اپنے بیانات بدلتے رہے۔ کبھی انہوں نے فساد سے متاثرہ افراد کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا تو کبھی پوری مسلم قوم کو مورد الزام ٹھرایا۔

انہوں نے مسٹر واجپئ سے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو فوراً برخاست کرنے کا مطالبہ کیا کیونکہ بقول انکے مسٹر مودی نے ملک کے سیکولر آئین کو مجروح کیا ہے۔

دو مہینے سے جاری فسادات میں نو سو سے زیادہ لوگ

ہزاروں مسلمان بے گھر ہوگئے ہیں
مارے جا چکے ہیں جن میں زیادہ تر مسلمان ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف انتقامی کارروائی کا سلسلہ گودھرا میں ایک ٹرین پر حملے کے بعد شروع ہوا تھا جس میں 60 ہندو ہلاک ہو گئے تھے۔
بحث کا آغاز کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے رہنماء ملائم سنگھ یادو نے حکومت پر دائیں بازو کی ہندو جماعتوں کے دباؤ میں کام کرنے کا الزام لگایا۔

یہ بحث حزب اختلاف کی سرزنش کی تحریک پر کی جارہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے مذہبی فسادات کو روکنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔

بحث کے اختتام پر ووٹنگ کرائی جائے گی جس میں حکومت کی شکست حزب اختلاف کے لئے ایک اخلاقی کامیابی اور حکمراں اتحاد کے لئے شرمندگی کا باعث تو ہوگی لیکن حکومت کوکوئی خطرہ نہیں ہوگا۔

دلی سے ہمارے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کے خلاف تحریک سرزنش منظور ہوجاتی ہے، تو اس کی ساکھ کو زبردست نقصان پہنچےگا۔

ان فسادات میں حکومت کے کردار پر خود قومی جہموری اتحاد میں زبردست اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اور پیر کے روز کوئلہ اور کان کنی کے وفاقی وزیر رام ولاس پاسوان نے یہ کہتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا کہ اب پانی سر سےگزرگیا ہے۔

اس کے علاوہ بی جے پی کی سب سے بڑی حلیف جماعت تیلگو دیشم نے بھی گجرات کے وزیر اعلیٰ کو برخاست کرنے کا مطالبہ کرتےہوئے حکومت سے حمایت واپس لینے کی دھمکی دی تھی۔

 
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright