سترہ مارچ کے حملے میں دو امریکی اہلکار بھی شامل تھے۔
تحریر: طفیل احمد
دارالحکومت اسلام آباد میں گرجا گھر پر ہونے والا سترہ مارچ کا حملہ پاکستان میں عیسائیوں کے خلاف ایسا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ البتّہ اس کی نوعیت ماضی میں ہونے والے حملوں سے کچھ مختلف ضرور ہے۔
گرجا گھر پر اس حملے کو گیارہ ستمبر کے بعد پیدا ہونے والے حالات اور افغانستان میں امریکی فوجی کارروائی کی پاکستانی حکومت کی حمایت کے پس منظر میں بھی دیکھا جارہا ہے۔ بنیادی سطح پر ملک میں جنرل پرویز مشرف کی امریکہ کو حمایت کی وجہ سے مذہبی گروہوں اور شدت پسندوں کے اندر کافی ناراضگی پائی جاتی ہے۔
اسلام آباد میں اور بھی گرجا گھر ہیں لیکن امریکی سفارتخانے کے قریب اس گرجا گھر پر حملہ یہ نشاندہی کرتا ہے کہ شدت پسند امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ لہذا، پانچ ہلاک ہونے والوں میں ایک امریکی سفارتی اہلکار کی بیوی اور بیٹی بھی شامل ہیں۔
اس سے پہلے عیسائیوں کے خلاف پاکستان میں جو حملے ہوئے ہیں ان کی وجوہات مقامی اور مذہبی نوعیت کی تھیں۔ گزشتہ اٹھائیس اکتوبر کو شدت پسندوں نے بہاولپور میں واقع ایک گرجا گھر پر حملہ کیا تھا جس میں سولہ عیسائی ہلاک ہوئے تھے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اس حملے کا تعلق بھی گیارہ ستمبر کے بعد پیدا ہونے والے حالات سے تھا۔ پاکستان میں عیسائی رہنماؤں کے
مارچ کے حملے میں زخمی
مطابق اس حملے کے ذمے دار وہ شدت پسند تھے جو افغانستان میں طالبان کی حمایت کرتے تھے اور طالبان مخالف امریکی فوجی کارروائی کے خلاف تھے۔ اب تک، اکتوبر میں ہونے والا یہ حملہ عیسائیوں کے خلاف پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا شدت پسند حملہ سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان میں مسلمانوں اور دیگر مذہبی گروہوں کے درمیان تشدد کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہندوستان کے شہر ایودھیا میں 1992میں بابری مسجد کی مسماری کے بعد، پاکستان میں بھی ہندو اقلیت اور مسلمانوں کے مابین کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔
لیکن، پاکستان میں تشدد کی نوعیت فرقہ وارانہ رہی ہے۔ سنّیوں اور شیعوں اور سنّیوں کے بریلوی اور دیوبندی مسلک کے ماننے والوں کے درمیان تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔
پاکستان کا قیام مذہب کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا۔ ملک میں مسیحی فلاحی اداروں پر مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے الزامات پہلے سے عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ لیکن عیسائیوں اور دیگر مذہبی فرقوں کے خلاف عوامی جذبات میں شدت اس وقت آئی جب جنرل ضیاء الحق نے مذہبی گروہوں کو خوش کرنے کے لئے توہین رسالت کا قانون نافذ کیا۔
مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیہاتوں، بالخصوص صوبہ پنجاب میں توہین رسالت کے اس قانون کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ اکثر زمینداروں نے عیسائیوں کی زمین پر قبضہ کرنے کے لئے یا دیگر ذاتی وجوہات کی وجہ سے انہیں توہین رسالت کے قانون کے تحت پھنسانے کی کوشش کی ہے۔
لیکن پاکستان کی عیسائی اقلیت اخباروں کی سرخیوں میں اس
بہاولپور میں سولہ عیسائی ہلکا ہوئے تھے۔
وقت آئی جب 1998 میں صوبہ سرحد میں نوشیرہ کے مقام پر ایک ہی عیسائی خاندان کے نو افراد کو ہلاک کردیا گیا تھا۔ مقامی لوگوں کو شبہ تھا کہ یہ حملے اس لئے ہوئے کیونکہ اس خاندان کے افراد روحانی علاج کے بہانے لوگوں کو گمراہ کرتے تھے۔
لیکن عیسائی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ حملہ اسلامی شدت پسندوں کی عیسائیوں کے خلاف مذ ہبی امتیازپسندی کا نتیجہ تھا۔
ایک بیشوپ نے 1998 میں ایک عیسائی کو توہین رسالت کے قانون کے تحت موت کا سزا سنائے جانے کے احتجاج میں خودکشی کر لی تھی۔ جان جوزیف نے عدالت کے احاطے میں ایوب مسیح نامی شخص کو سزا سنانے کے بعد خود کو گولی مارکر ہلاک کرلیا تھا۔ جان جوزیف انسانی حقوق کی دفاع کرنے والی ایک تنظیم کے سربراہ تھے۔
اس قانون کے تحت گرچہ سزائیں سنائی گئیں ہیں لیکن اکثر اعلی عدالتوں میں اپیل کرنے پر عیسائیوں کو بری کردیا گیا ہے۔ ایک دوسرے مقدمے میں منظور مسیح نامی ایک عیسائی لڑکے کو توہین رسالت کے قانون کے تحت گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہا کیا گیا تھا لیکن بعد میں اسے گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔