 |
|
 |
| گرینچ پیر, 25.02.2002 - 17:46 جی ایم ٹی |
|
| دائیں بازو کا سیاسی مستقبل؟ |

واجپئی سخت گیر سیاست دانوں کے نرغے میں؟
|
تحریر: طفیل احمد
ہندوستان کے ریاستی انتخابات میں وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھاری شکست نے بی جے پی کی اب تک کی پالیسیوں پر کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ اتر پردیش میں بی جے پی کی ہار تو کسی حد تک متوقع تھی لیکن پڑوسی ریاست اترانچل میں اس کی بدترین شکست نے پارٹی کے لائحہ عمل پر کئی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
اترانچل وہ ریاست ہے جس کی تخلیق بی جے پی کی حکومت نے گزشتہ سال اس امید پر کی تھی کہ شاید آنے والے دنوں میں اس ریاست کے رائے دہندگان بی جے پی کے ہوکر رہ جائیں گے۔
پنجاب اور منی پور میں بھی بی جے پی کو شکست ہوئی۔ ہندوستانی صحافیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ گجرات میں اسمبلی کے تین نشستوں کے لئے ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھی بی جے پی کو دو نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ گجرات بی جے پی کا ایک قلعہ سمجھا جاتا ہے اور حزب اختلاف کے سیاست دان یہ پیش گوئی کررہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں اس ریاست سے بھی بی جے پی کو ہاتھ دھونا پڑیں گے۔
گجرات میں اگلے سال انتخابات ہونے والے ہیں۔ مرکزی اور بائیں بازو کی جماعتوں کا خیال ہے کہ آئندہ دو برسوں میں ہندوستان کی کسی بھی ریاست میں بی جے پی کے لئے اچھے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔
گزشتہ کئی برسوں سے بی جے پی کے اندر یہ اختلاف رہا ہے کہ کیا پارٹی وزیراعظم واجپئی کی اعتدال پسند سیاست اختیار کرے  سخت گیر موقف رکھنے والے لال کرشن اڈوانی | یا وزیر داخلہ لال کرشن اڈوانی کی سخت گیر سیاست کے راستے پر چلا جائے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی یہ فیصلہ نہیں کرپائی ہے کہ اسے ان میں سے کون سا سیاسی راستہ اپنانا چاہئے۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ وزیرداخلہ لال کرشن اڈوانی اس بات کی حمایت کرتے رہے ہیں کہ پارٹی بابری مسجد کے تنازعے پر سخت گیر موقف اختیارکرے جبکہ پارٹی کے اندر وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی حمایت کرنے والے اعتدال پسند سیاست کی وکالت کرتے رہے ہیں۔
ان ریاستی انتخابات کے بعد اس طرح کے سوالات بھی اٹھائے جارہے ہیں کہ کیا بی جے پی دوبارہ بابری مسجد کے مسئلے کو چھیڑے گی؟ بابری مسجد کی اس متنازع زمین پر سخت گیر موقف رکھنے والے ایک ہندو مندر کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔
واجپئی کی حمایت کرنے والے اور بائیں بازو کے سیاست دان وزیر داخلہ لال کرشن اڈوانی پر یہ بھی الزامات لگاتے رہے ہیں کہ انہوں نے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ آگرہ میں ہونے والے مذاکرات میں واجپئی کو ناکام بنانے کی پس پردہ کوشش کی تھی۔
آج سیاسی مبصرین یہ کہہ رہے ہیں کہ حالانکہ بی جے پی کو کسی فوری انتشار کا سامنا نہیں ہے لیکن ان ریاستی انتخابات کے بعد اب پارٹی کے اندر اعتدال پسندوں اور سخت گیر موقف رکھنے والوں کے درمیان رسہ کشی ضرور زور پکڑجائے گی۔ |
|
 |