آگرہ مذاکرات کے وقت دہلی میں پاک ہند پرچم لہراتے ہوۓ۔
تحریر: طفیل احمد
برطانیہ سے آزادی کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے باہمی مسائل کو حل کرنے کی کوششیں تعطل کا شکار رہی ہیں جس کی وجہ سے دیگر شعبوں میں بھی دونوں ملک اپنے تعلقات بہتر نہ کرسکے۔
باہمی کشیدگی کی سب سے بڑی وجہ کشمیر کا تنازعہ ہے۔ کشمیر کے مسئلہ پر دونوں ملک کئی جنگیں لڑچکے ہیں۔ یہی سرحد پر فوجی کشیدگی کا باعث بھی رہا ہے، تجارتی تعلقات میں بھی جمود لاتا رہا ہے اور دیگر وسائل کے اشتراک پر قابل اعتماد مفاہمت بھی نہیں ہونے دیتا۔
جب بھی سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو عالمی برادری ہندوستان اور پاکستان پر دباؤ ڈالتی ہے اور باہمی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتی ہے پھر وزارت خارجہ کی سطح سے بات چیت شروع ہوتی ہے یا دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست سربراہ ملاقات کی کوشیں شروع ہوجاتی ہیں جو نا کام ہوتی رہی ہیں۔
پاکستان اور ہندوستان کے سربراہوں کے درمیان پہلی ملاقات 1950میں ہوئی۔ اس کانفرنس میں بھی سرفہرست کشمیر کا مسئلہ تھا، جس کا حل تلاش نہیں کیا جاسکا۔ یہ کانفرنس کراچی میں ہوئی۔ ہندوستان کے پہلے وزیراعظم جواہرلال نہرو نے اسی سال پاکستانی سربراہ حکومت لیاقت علی خان سے
نہرو نے کشمیر میں ریفرینڈم کا وعدہ کیا تھا۔
دوبارہ ملاقات کی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ہندوستان کی فوجی مشقوں کی وجہ سے جب تعلقات زیادہ سنگین ہوگۓ تو پاکستان کے فوجی حکمراں جنرل ضیاءالحق حالات کو بہتر بنانے کی غرض سے کرکٹ کا میچ دیکھنے ہندوستان گۓ اور اسے کرکٹ ڈپلومیسی کا نام دیا گیا۔ اس بات سے قطع نظر کہ دونوں ملکوں کے عوام اور تجارتی حلقوں کی خواہش کے باوجود ہندوستان اور پاکستان کے سیاست داں اور اہلکار دوستانہ تعلقات قائم کرنے اور ہم آہنگی پیدا کرنے میں کیوں ناکام رہے ہیں، اب تک دونوں ملکوں کے مابین سربراہی سطح پر تیس سے زائد رسمی اور غیررسمی ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔
آگرہ: واجپئی۔مشرف ملاقات
14 جولائی 2001: ہندوستانی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی اور پاکستان کے صدر جنرل مشرف کے مابین تاریخی شہر آگرہ میں سربراہی ملاقات ہوئی لیکن معاملہ مشترکہ اعلامیے کے جاری ہونے تک بھی نہ پہنچ سکا۔ 16 جولائی کو جنرل مشرف واپس پاکستان آگۓ۔ کارگل کی لڑائی کے بعد دونوں ملکوں کے سربراہوں کی یہ پہلی ملاقات تھی۔ چند مہینوں بعد دونوں رہنما کٹھمنڈو میں جنوبی ایشائی تنظیم برائے علاقائی تعاون یعنی سارک کے اجلاس میں شریک ہوئے۔ یہ اجلاس 14 جنوری 2002 کو منعقد ہوا تھا۔ لیکن پچھلے تیرہ دسمبر کو دہلی میں پارلیمان پر ہونے والے شدت پسند حملے کی وجہ سے ہند۔پاک سرحد پر کشیدگی برقرار تھی۔ کٹھمنڈو میں دونوں رہنماؤں نے کوئی رسمی ملاقات نہیں کی لیکن اجلاس کے دوران جنرل مشرف خود اپنی نششت سے اٹھے اور واجپئی سے جاکر ہاتھ ملایا۔ ان کی یہ ملاقات اخباروں میں صفحہُ اول کی خبر بن گئی۔
لاہور: نواز۔واجپئی ملاقات
20 فروری 1999: پاکستانی وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے لاہور میں یہ ملاقات کی، جہاں تمام مسائل بشمول مسئلہ جموں کشمیر پر بات چیت ہوئی۔ اس ملاقات کے لۓ بھارتی وزیر اعظم بس سے لاہور آۓ جس کے بعد لاہور۔دہلی بس سروس شروع ہوئی۔
نیویارک: نواز۔واجپئی ملاقات
23 ستمبر 1998: پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر رسمی ملاقات کی۔
ہندوستان کے وزیر اعظم اندر کمار گجرال اور پاکستانی وزیر اعظم کے درمیان نیویارک، ایڈنبرا اور ڈھاکہ میں جنوری 1998 ، اور ستمبر اور اکتوبر 1997میں کئی ملاقاتیں ہوئیں۔
مالے: نواز۔گجرال ملاقات
12 مئی 1997: مالدیپ کے دارلحکومت مالے میں جنوبی ایشیائی ملکوں کی تنظیم سارک کے اجلاس کے موقع پر اس وقت کے ہندوستانی وزیراعظم اندر کمار گجرال اور ان کے پاکستانی ہم منصب نوازشریف کے مابین رسمی بات چیت ہوئی۔
جکارتہ: نواز۔راؤ ملاقات
3 ستمبر 1992: انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ہونیوالی غیرجانبدار ممالک کی سربراہ کانفرنس کے موقع پر ہندوستانی وزیراعظم نرسمہا راؤ اور ان کے پاکستانی ہم منصب نوازشریف نے بات چیت کی۔
ریو دے جنیرو: نواز۔راؤ ملاقات
14 جون 1992: سسٹینیبل ڈیولپمینٹ یعنی ”بقا کے ساتھ ترقی” کے موضوع پر برازیل کے دارالحکومت ریو دے جنیرو میں ہونیوالی ماحولیاتی کانفرنس کے موقع پر نوازشریف اور ان کے ہندوستانی ہم منصب نرسمہا راؤ نے ملاقات کی۔ دونوں سربراہوں نے نومبر 1991 میں بھی جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک کانفرنس کے موقع پر ملاقات کی تھی۔ ان کی ایک اور ملاقات اسی سال سترہ اکتوبر کو ہرارے میں بھی ہوئی۔
مالے: نواز۔چندرشیکھر ملاقات
21 نومبر 1990: جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک کے اجلاس کے موقع پر ہندوستانی وزیراعظم چندرشیکھر اور وزیراعظم نوازشریف نے ملاقات کی اور اس بات پر اتفاق ہوا کہ دونوں ملکوں کے سربراہوں کے مابین قریبی رابطے کے لۓ براہ راست ٹیلیفون پر رابطہ قائم کیا جاۓ۔
اسلام آباد: بےنظیر۔راجیو ملاقات
16 جولائی 1989: وزیراعظم راجیو گاندھی اپنی کابینہ کے اہم ارکان کے ساتھ اسلام آباد گۓ جہاں وزیر اعظم بےنظیر بھٹو سے تفصیلی گفتگو ہوئی لیکن اس ملاقات کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
اسلام آباد: بےنظیر۔راجیو ملاقات
30 دسمبر 1988: وزیراعظم بےنظیر بھٹو اور ان کے ہم منصب راجیو گاندھی نے اسلام آباد میں سارک سربراہی اجلاس کے موقع پر غیر رسمی بات چیت کی۔ شملہ معاہدہ کے بعد دونوں ملکوں کے سربراہوں کی یہ پہلی ملاقات تھی۔
فوجوں کی مشقوں سے بڑھنے والی کشیدگی کو ختم کرنے کی کوشش کے لۓ پاکستان کے فوجی حکمراں جنرل ضیاءالحق کرکٹ کا میچ دیکھنے جے پور گۓ۔ اسے کرکٹ ڈپلومیسی کا نام دیا گیا۔ اس سفرہند کے دوران جنرل ضیاء نے وزیراعظم راجیوگاندھی سے ایک مختصر ملاقات کی۔
نئی دہلی: ضیاء۔راجیو ملاقات
17 دسمبر 1985: بھارت کے دارالحکومت دہلی میں پاکستان کے فوجی حکمراں جنرل ضیاء الحق اور بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی نے ملاقات کی۔ سری لنکا اور بنگلہ دیش کے اپنے سفر کے بعد جنرل ضیاء دہلی میں رکے تھے۔ اس ملاقات میں ایک دوسرے کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ نہ کرنے پر اتفاق ہوا۔
ڈھاکہ: ضیاء۔راجیو ملاقات
7 دسمبر 1985: وزیر اعظم راجیو گاندھی اور پاکستانی سربراہ ضیاءالحق بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک کے اجلاس کے موقع پر ملے۔ سارک کی یہ پہلی سربراہی کانفرنس تھی۔
نیویارک: ضیاء۔راجیو ملاقات
اکتوبر 1985: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چالیسویں اجلاس کے موقع پر وزیراعظم راجیو گاندھی اور پاکستانی رہنما جنرل ضیاءالحق نے غیر رسمی ملاقات کی۔ جنرل ضیاءالحق اور راجیو گاندھی نے 1985 میں دو بار اپنے روس کے دورے کے دوران ملاقاتیں کی۔
نئی دہلی: ضیاء۔راجیو ملاقات
یکم نومبر 1984: ہندوستانی وزیراعظم اندرا گاندھی کی آخری رسومات میں شرکت کے لۓ جنرل ضاءالحق نئی دہلی گۓ جہاں انہوں نے وزیر اعظم راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات کی۔
نئی دہلی: اندرا۔ضیاء ملاقات
10 مارچ 1983: بھارت کے دارلحکومت نئی دہلی میں غیرجانبدار ملکوں کے اجلاس کے موقع پر پاکستانی رہنما ضیاءالحق اور وزیراعظم اندرا گاندھی کے مابین ملاقات ہوئی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
نئی دہلی: اندرا۔ضیاء ملاقات
2 نومبر 1982: جنوب مشرقی ایشیا کے سفر سے واپسی کے دوران پاکستانی حکمراں جنرل ضاءالحق نئی دہلی میں وزیراعظم اندرا گاندھی سے ملے۔ دنوں ملکوں نے باہمی تعلقات میں کشیدگی دور کرنے کی ضرورت پر غور کیا۔
نیروبی: ضیاء۔دیسائی ملاقات
31 اگست 1978: نیروبی میں پاکستانی رہنما ضیاءالحق اور ہندوستانی وزیر اعظم مورارجی دیسائی کی غیررسمی ملاقات ہوئی لیکن آج تک یہ بات صیغہْ راز میں ہے کہ دونوں رہنماؤں نے کیا بات چیت کی۔
شملہ: اندرا۔بھٹو ملاقات
2 جولائی 1972: مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے
شملہ معاہدہ، بھٹو کی کامبیابی
دوران گرفتار جنگی قیدیوں کے مسئلہ پر پاکستانی رہنما ذوالفقارعلی بھٹو اور وزیراعظم اندرا گاندھی نے ہندوستان کے شمالی شہر شملہ میں ملاقات کی۔ اس ملاقات کے نتیجے میں پاکستان کے 90ہزار جنگی قیدیوں کو رہائی حاصل ہوئی۔
تاشقند: ایوب۔شاستری ملاقات
10 جنوری 1966: سن 1965 کی بھارت۔پاک جنگ کے بعد وسطی ایشیا کے شہر تاشقند میں پاکستانی صدر ایوب خان اور بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے ملاقات کی اور باہمی تنازعات کے حل کے لۓ تاشقند معاہدے پر دستخط کئے۔
کراچی: نہرو۔ایوب ملاقات
19 ستمبر 1960: پاکستانی رہنما فیلڈ مارشل ایوب خان اور ہندوستان کے پہلے وزیراعظم جواہرلال نہرو نے پاکستان کے جنوبی شہر کراچی میں ملاقات کی اور عالمی بینک کی کوششوں کے نتیجے میں سندھ طاس معاہدہ طے پایا۔
نئی دہلی: نہرو۔ایوب ملاقات
یکم ستمبر 1960: وزیراعظم جواہرلال نہرو اور پاکستانی سربراہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے باہمی مسائل کو حل کرنے کے لئے نئی دہلی میں ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
نئی دہلی: نہرو۔نون ملاقات
11 ستمبر 1958: پاکستانی وزیراعظم فیروزخان نون اور بھارتی رہنما جواہرلال نہرو نے باہمی معاملات حل کرنے کی غرض سے دہلی میں ملاقات کی اور اس بات پر اتفاق ہوا کہ دونوں ملک تمام تنازعات کو سلجھانے کی کوشش کرینگے۔
نئی دہلی: نہرو۔بوگرہ ملاقات
16 اگست 1953: کشمیر کے مسئلے کے حل کی تلاش کے لۓ وزیراعظم جواہرلال نہرو اور پاکستانی وزیرآعظم محمد علی بوگرہ نے نئی دہلی میں ملاقات کی۔
نئی دہلی: نہرو۔لیاقت ملاقات
26 اپریل 1950: وزیراعظم جواہرلال نہرو اور پاکستان کے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے مہاجرین اور اقلیتوں کے مسائل سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کئے۔ دونوں رہنماؤں کی یہ دوسری ملاقات تھی۔
کراچی: لیاقت۔نہرو ملاقات
8 اپریل 1950: پاکستانی وزیراعظم لیاقت علی خان اور ان کے ہندوستانی ہم منصب جواہرلال نہرو نے کراچی میں ملاقات کی۔ دونوں ممالک کے دوران یہ پہلی سربراہی ملاقات تھی۔ اس ملاقات میں مہاجرین اور اقلیتوں کے مسائل پر گفتگو ہوئی۔