BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ پیر, 18.02.2002 - 18:40 جی ایم ٹی
پاک۔ہند: باہمی مسائل، مشترک مستقبل
کیا دونوں ملک باہمی کشیدگی ختم کرسکیں گے؟
کیا دونوں ملک باہمی کشیدگی ختم کرسکیں گے؟

تحریر: طفیل احمد

جون 1997 میں پاکستان اور ہندوستان کے اہلکاروں نے اتفاق راۓ سے آٹھ مسائل کی نشاندہی کی جن کو مشترکہ طور پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ کشمیر سمیت تمام مسائل پر ایک ساتھ بات ہونی چاہۓ۔ لیکن پاکستان کہتا ہے کہ دیگر تمام مسائل کی بنیاد کشمیر کا تنازعہ ہے اس لۓ اس معاملے پر پہلے بات ہونی چاہۓ کیونکہ اگر مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرلیا جاۓ تو دیگر مسائل کا حل تلاش کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔

جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ کشمیر کے علاوہ دیگر مسائل پر بھی گفتگو ساتھ ساتھ ہونی چاہۓ اور دیگرامور پر پیش رفت کو کشمیر میں کشیدگی کی وجہ سے نہیں روکا جاسکتا۔

کشمیر تنازعہ
برطانیہ سے 1947 میں آزادی کے بعد کشمیر ایک خودمختار ریاست تھی۔ عوام کی اکثریت مسلمان تھی لیکن ہندو راجہ

نہرو نے کشمیر میں ریفرینڈم کا وعدہ کیا تھا۔
ہری سنگھ برسراقتدار تھے۔ انہیں اقتدار سے بےدخل کرنے کے لۓ 1948میں پاکستان کے حامی قبائلیوں نے حملہ کردیا۔ کشمیر کا دفاع نہ کرسکنے کی وجہ سے راجہ ہری سنگھ نے ریاست کشمیر ہندوستان کو ایک معاہدہ کے تحت سونپ دی۔ کچھ حصہ جس پر قبائلیوں نے قبضہ کرلیا تھا وہ اب پاکستان کے زیرانتظام ہے اور باقی بھارت کے زیرانتظام ہے۔

1948میں بھارت کے وزیراعظم جواہرلال نہرو نے کشمیری عوام کی رائے جاننے کے لۓ اقوام متحدہ میں کشمیر میں ریفرینڈم کرانے کا وعدہ کیا تھا۔ اس سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ریفرینڈم سے قبل پاکستان اپنی افواج کشمیر سے واپس بلاۓ گا اور ہندوستان کشمیر میں تعینات اپنی افواج میں کمی کرےگا۔

پاکستان کہتا ہے کہ کشمیری عوام ہندوستان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے جبکہ ہندوستان کا کہنا ہے کہ 1987 تک کشمیری ہندوستان کے زیرانتظام ہونیوالے عام انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں اور اب کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔ 1987میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہونیوالے انتخابات میں کافی بدعنوانیوں کے الزامات عائد کیے گئے اور تب سے جہاد کے نام پر کشمیر میں شدت پسندی کا آغاز ہوا۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ یہ شدت پسندی پاکستان کی شہ پر ہے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے وہ کشمیریوں کی صرف سیاسی، اخلاقی اور سفارتی سطح پر حمایت کرتا ہے۔

سیاچین کا مسئلہ
ہند۔پاک تنازعات کی فہرست میں سیاچین کا مسئلہ 1984 میں شامل ہوا جب ہندوستان نے اپنی افواج کو ہمالیہ کی ان چوٹیوں پر یہ کہتے ہوۓ بھیج دیا کہ پاکستان ان پر قبضہ کرنے والا ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین کئی مذاکرات کے بعد اس علاقے سے اپنی اپنی افواج واپس بلانے کے لۓ 1989 میں تقریبا ایک فیصلہ ہوگیا تھا لیکن حالات نے ایک بار پھر کروٹ بدلی اور دونوں ممالک نا معلوم وجوہات سے ایک معاہدے پر دستخط نہ کرسکے۔

سیاچین دنیا کا سب سے بلند اور مشکل ترین جنگی محاذ ہے اور دونوں ملک روزانہ اپنی افواج کو وہاں رکھنے کے لۓ کروڑوں روپے صرف کرتے ہیں۔ اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس علاقے کی دونوں ملکوں کے لۓ کوئی بھی عسکری اہمیت نہیں ہے۔

ہند۔ایران گیس پائپ لائن
پاکستان اور ایران نے 1995 میں ایک معاہدے پر دستخط کۓ، جس کے تحت ایران سے کراچی تک ایک پائپ لائن بچھانے کا فیصلہ کیا گیا تا کہ پاکستان کو ایران کی قدرتی گیس ترسیل کی جاسکے۔ بعد میں ایران نے یہ مشورہ دیا کہ اس گیس پائپ لائن کو ہندوستان تک لے جایا جائے تاکہ ایران سے ہندوستان کو بھی گیس فراہم کی جاسکے۔ پاکستان اور ہندوستان اصولی طور پر

گیس پائپ لائن سے پاکستان کو سالانہ ستر کروڑ ڈالر کا فائدہ ہوگا۔
اس گیس پائپ لائن کے منصوبے پر متفق ہیں لیکن دیگر مسائل کی طرح سیاسی کشیدگی کی وجہ سے اب تک اس معاملے پر بھی معاہدہ نہیں ہوسکا۔ چونکہ یہ گیس پائپ لائن پاکستان سے گذرے گی اس لۓ بھارت کو عدم تحفظ کا خطرہ لاحق رہے گا۔ ایک اندازے کے مطابق اگر یہ گیس پائپ لائن بچھالی جاۓ تو پاکستان کو اپنی سرزمین سے گیس کی ترسیل کے لۓ تقریبا 70 کروڑ ڈالر کا سالانہ محصول ملے گا۔

تجارتی تعلقات
عالمی تجارتی تنظیم یعنی ڈبلیو ٹی او کے قوانین کے تحت وقت کے ساتھ ساتھ اس تنظیم میں شامل رکن ممالک کے لیۓ لازمی ہے کہ دنیا میں آزاد تجارت قائم کرنے کے لۓ ایک دوسرے کو ایم ایف این یعنی خصوصی مراعات یافتہ ملک کا درجہ دیں۔ ایم ایف این کا درجہ جس ملک کو دیا جاتا ہے وہاں سے اشیاء کی درآمد تاجروں کے لۓ آسان ہوجاتی ہے۔

ہندوستان نے پاکستان کو ایم ایف این کا درجہ دیا ہے پھر بھی پاکستانی اشیاء کی درآمد میں کوئی تیزی نہیں آئی ہے۔ اب پاکستان پر یہ دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ بھی ہندوستان کو خصوصی مراعات یافتہ ملک کا درجہ دے تاکہ دونوں پڑوسیوں کے مابین براہ راست تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔

وولر پروجیکٹ
دریاۓ جہلم پر کشمیر میں وولر پروجیکٹ کی پاکستان شروع سے ہی مخالفت کرتا رہا ہے۔ ہندوستان یہ پروجیکٹ بجلی سے پانی پیدا کرنے کے لۓ تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کو خدشہ ہے کہ گرمی کے موسم میں دریاۓ جہلم میں پانی کی کمی واقع ہوسکتی ہے۔ دریاۓ جہلم بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے شروع ہوکر پاکستان میں ختم ہوتا ہے۔

ہندوستان وولر پرجیکٹ کی طرح ایک دوسرا پروجیکٹ دریاۓ چناب پر تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ یہ دریا بھی ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر سے شروع ہوتا ہے اور پاکستان کے دریائے سندھ میں شامل ہوکر سمندر میں گرتا ہے۔ پاکستان کو خدشہ ہے کہ اس دریا پر ہندوستانی پروجیکٹ کی وجہ سے پاکستان میں پانی کی کمی ہوسکتی ہے۔ اسے سلال ڈیم کا نام بھی دیا گیا ہے۔ ان دونوں منصوبوں پر دونوں ملکوں کا اتفاق ہونا باقی ہے۔ پاکستان کو یہ بھی خطرہ ہے کہ ہندوستان ان منصوبوں کو مستقبل میں سفارتی سطح پر برتری حاصل کرنے کے لۓ استعمال کرسکتا ہے۔

سر کریک کا مسئلہ
ہندوستانی صوبہ گجرات اور پاکستانی ریاست سندھ کے علاقے میں ہندوستان اور پاکستان کے مابین بین الاقوامی سرحد کے تعین پر بھی اتفاق ہونا باقی ہے۔ یہ علاقہ سر کریک کہلاتا

سر کریک کے علاقے میں ہند-پاک سرحد کا تعین نہیں ہوسکا ہے۔
ہے۔ ساٹھ کلومیٹر کے اس علاقے میں بہت سی کریک یعنی خلیج اور دریاؤں کے دہانے ہیں۔ 1968میں پاک۔ہند ویسٹرن باؤنڈری ٹرائیبیونل ایوارڈ قائم کیا گیا لیکن یہ طے نہیں ہوسکا کہ سر کریک کے علاقے میں بین الاقوامی سرحد کا تعین کس قانونی بنیاد پر کیا جائے۔ اس علاقے کا کچھ حصہ آبی ہے اور کچھ حصہ خشک۔ ہندوستان اور پاکستان کے مابین کئی دفعہ اس مسئلہ پر مذاکرات ہوۓ ہیں لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔

ہندوستان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں سرحد کے تعین کے لۓ بین الاقوامی قانون کا وہ اصول استعمال کیا جاۓ جو سمندر کے اندر سرحد کے تعین کے لئے بنایا گیا ہے۔ جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ اصول صرف پانی والے علاقے پر عائد ہوتا ہے لیکن یہاں پانی اور خشکی دونوں کا سوال ہے۔ دونوں ملک اس بات سے بھی واقف ہیں کہ علاقے میں ماہی گیری کو فروغ دیا جاستکا ہے اور تیل کا وافر ذخیرہ ہے۔

ثقافتی تعلقات
جب بھی ہندوستان اور پاکستان کے مابین مذاکرات ہوۓ ہیں دونوں پڑوسیوں نے اس بات پر بھی غور کیا ہے کہ دوستانہ تعلقات کو کیسے فروغ دیا جاۓ۔ کئی بار ایسا ہوا کہ پروفیسروں، ججوں، صحافیوں، سیاستدانوں، طالب علموں اورخصوصی طبقات کے دیگر افراد کے لۓ ویزے میں نرمی دی گئی لیکن بعد میں سیاسی کشیدگی کی وجہ سے سرحد پار سفر میں یہ نرمی ختم کردی گئی۔

دونوں ملکوں کے درمیان کتابوں، جریدوں، اخباروں، موسیقی اور فلموں کی خرید و فروخت ساٹھ کی دہائی تک جاری تھی۔ لیکن باہمی کشیدگی بڑھنے کی وجہ سے اب دونوں ملکوں کے تاجروں کے لئے اس طرح کی اشیاء خریدنا ناممکن ہے۔ اس سب کے باوجود پاکستان میں ہندوستانی فلمیں اور ہندوستان میں پاکستانی ڈرامے کافی مقبول ہیں اور غیرقانونی طور پر ان کی خرید و فروخت جاری ہے۔

غیر سرکاری سطح پر عوام کے ان خصوصی طبقات نے دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کو بتہر بنانے کی کوشش کی ہے۔ صحافیوں اور ادیبوں نے اس طرح کے کئی اقدامات کۓ ہیں اور اس طرح کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright