BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ پیر, 28.01.2002 - 17:32 جی ایم ٹی
پاکستان اور ہندوستان: معیار زندگی
ہند-پاک کشیدگی کا شکار عوام۔
ہند-پاک کشیدگی کا شکار عوام۔

تحریر: طفیل احمد
پاکستان اور ہندوستان برطانیہ سے آزادی کے بعد دیگر نوآزاد ممالک کی طرح زندگی کے مختلف شعبوں میں ترقی کے لۓ کوشاں رہے ہیں۔ لیکن ان کی معاشی اور سماجی ترقی ایک تعمیری قیادت کی کمی اور سرد جنگ کے دوران عالمی سیاست کی نظر ہوگئی۔ یہ بات بالخصوص پاکستان کے حوالے سے زیادہ صحیح ثابت ہوتی ہے۔

تعمیرنو کے لۓ گزشتہ آدھی صدی سے زیادہ عرصے کے دوران کی جانے والی کوششوں کے باوجود دونوں ملکوں کا نام بہترمعیار زندگی فراہم کرنیوالے ممالک کی اقوام متحدہ کے ذریعہ بناۓ فہرست، ہیومن ڈیویلپمینٹ انڈیکس، میں 80 کی سطح سے بھی نیچے ہے۔ جبکہ سری لنکا جیسا غریب ملک ہندوستان اور پاکستان کے مقابلے اپنے عوام کو بہتر زندگی فراہم کرتا ہے۔

معیشت
سن 2001 کے آخر میں پاکستان کی سالانہ پیداوار اور تمام ذرائع سے آمدنی کل ملاکر تقریبا 64 ارب ڈالر ہے جبکہ ملک پر بیرونی قرض 37 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔ اپنی سالانہ آمدنی کا تقریبا ایک تہائی حصہ پاکستان ہر سال بیرونی قرض ادا کرنے میں خرچ کرتا ہے۔ ہندوستان بھی دنیا کا دسواں سب سے بڑا مقروض ملک ہے اور اس پر تقریبا 94 ارب ڈالر کا بیرونی قرض ہے۔

لیکن ہندوستان دنیا کی بارہویں سب سے بڑی معیشت ہے اور اس کی سالانہ پیداوار 447 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔ پاکستانی معیشت کی سالانہ شرح ترقی 6.2 فیصد ہے جبکہ ہندوستانی معیشت تقریبا چھ فیصد سالانہ کی شرح سے ترقی کررہی ہے۔ یہاں یہ بھی نشاندہی کرنا غیرموزوں نہیں ہوگا کہ جاپان جیسا ایک چھوٹا ملک دنیا کی بڑی معیشتوں میں دوسرے نمبر پر ہے۔

آبادی
رقبہ کے حساب سے ہندوستان 3287 مربع کلومیٹر اور پاکستان 804 مربع کلومیٹر ہے۔ پاکستان میں فی مربع کلومیٹر 175 افراد رہتے ہیں جبکہ ہندوستان میں فی مربع کلومیٹر 336 افراد رہتے ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان اور ہندوستان کا شمار بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ سن 2001 کے اواخر میں، چین کے بعد ہندوستان دنیا میں سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا ملک ہے اور اس کی آبادی ایک ارب سے بھی زائد ہے۔ جبکہ پاکستان آبادی کے حساب سے دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے اور اس کی آبادی تقریبا 14 کروڑ ہے۔ شرح خواندگی میں پسماندگی کے اعتبار سے پاکستان دنیا میں دوسرے ملکوں کے مقابلے سولہویں نمبر پر ہے۔

اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں شرح خواندگی 9.40 فیصد ہے یعنی پانچ میں سے صرف دو پاکستانی لکھنا پڑھنا جانتے ہیں۔ ہندوستان میں شرح خواندگی .553 فیصد سے کچھ زائد ہے یعنی تقریبا آدھی آبادی ابھی بھی لکھ پڑھ نہیں سکتی ہے۔ ہندوستان اپنی سالانہ پیداوار کا 3.2 فیصد حصہ عوام کی تعلیم پر خرچ کرتا ہے جبکہ پاکستان صرف 2.7 فیصد خرچ کرتا ہے۔

موقر انگریزی ہفتہ وار جریدے Economist کے مطابق، پاکستان میں ہر سو گھروں میں تقریبا 32.4 رنگین ٹیلی ویژن ہیں جبکہ ہندوستان میں یہ تعداد تقریبا28.3 ہے۔ ہندوستان میں ہر ایک سو افراد کے لۓ 2.7 ٹیلیفون لائن ہیں جبکہ پاکستان میں یہ تعداد 2.2 ہے۔ اسی طرح ہندوستان میں ہر ایک سو افراد کے پاس 0.5 کمپیوٹر ہیں اور پاکستان میں یہ تعداد 0.4 ہے۔

پاکستان میں مردوں کی اوسط عمر61 سال سے کچھ زیادہ ہے جبکہ خواتین کی اوسط عمر تقریبا 61 سال ہے۔ بھارت میں مردوں کی اوسط عمر تقریبا 64 سال ہے جبکہ خواتین کی اوسط عمر تقریبا 65 سال ہے۔ پاکستان اپنی سالانہ آمدنی کا تقریبا چار فیصد صحت عامہ پر خرچ کرتا ہے جبکہ بھارت 5.4 فیصد خرچ کرتا ہے۔

فوج
بھارت اور پاکستان میں عوام کی زندگی بہتر نہ ہونے کی ایک وجہ شاید یہ ہو کہ دونوں پڑوسیوں نے اپنی فوجی قوت پر زندگی کے دیگر شعبوں کے مقابلے میں زیادہ اور غیر متناسب خرچ کیا ہے۔ دونوں ملک ایٹمی طاقت ہیں۔ جینس ڈیفینس ویکلی کے مطابق، بھارت کے پاس250-200 ایٹمی ہتھیار ہیں جبکہ پاکستان کے پاس ایسے ہتھیاروں کی تعداد 150 ہے۔ دفاعی امور کا مطالعہ کرنے والے ایک دوسرے ادارے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد تیس تک ہے جبکہ بھارت کے پاس ایسے 90 ہتھیار ہیں۔

جنگ اور سرحد پرمسلسل فوجی کشیدگی کی وجہ سے دونوں نےایک بڑی فوج تیار رکھی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، بھارتی فوجیوں کی تعداد تقریبا بارہ لاکھ ہے جبکہ پاکستان کے پاس تقریبا چھ لاکھ فوجی ہیں۔ سن 1998 میں پاکستان اپنی سالانہ آمدنی کا تقریبا 5.7 فیصد اپنی فوج پر صرف کرتا تھا۔ لیکن اس خرچ میں کمی آئی ہے۔ جینس ڈیفینس ویکلی کے مطابق، سن 2001 میں پاکستان اپنی سالانہ آمدنی کا 2.8 فیصد، بھارت 2.5 فیصد اور چین تقریبا تین فیصد اپنے دفاع پر خرچ کرتے تھے۔

پچاس برسوں سے زیادہ کوششوں کے باوجود دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان سرحد پر کشیدگی، کشمیر کا مسئلہ، سرحد پار آمدورفت پر پابندیاں روزانہ کی باتیں ہیں۔ اور بظاہر اس کا منفی اثر دونوں ملکوں کے عوام کی زندگی پر پڑتا ہے۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright