بھارتی وزیراعظم واجپئی سخت گیر ہندو تنظیموں کے دباؤ میں
تحریر: طفیل احمد
ہندوستان کی سیاست میں انتخابات کے وقت فرقہ واریت کا اچانک سراٹھا لینا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ دہلی میں سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد کے کارکنوں کا اجتماع اور وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی سے ان کی ملاقات مبصرین کی نظر میں فروری میں ہونے والے ریاستی انتخابات کی انتخابی مہم کا حصہ ہے۔
اگلے مہینے ہندوستان کی چار ریاستوں: اتر پردیش، پنجاب، اترانچل اور منی پور، میں صوبائی انتخابات ہونے والے ہیں۔ لیکن پورے ملک کی نظریں سب سے بڑی ریاست اتر پردیش پر جمی ہوئی ہیں، جہاں وزیراعظم واجپئی کی بھارتیہ جنتا پارٹی اپنا اقتدار برقرار رکھنے کی سرتوڑ کوشش میں مصروف ہے۔
حزب اختلاف کی جماعتوں کا خیال ہے کہ اگر وزیراعظم واجپئی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کو ریاست کی انتخابی جنگ میں شکست ہو جاتی ہے تو مسٹر واجپئی مرکز میں اقتدار میں رہنے کا اخلاقی جواز کھو بیٹھیں گے۔ خود وزیراعظم واجپئی بھی شش و پنج میں ہیں کہ کیا کریں! مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ اقتدار میں شریک اتحادی جماعتوں نے مسٹر واجپئی کو وزیراعظم کے عہدے پر اس لۓ قبول کیا تھا کہ وہ اعتدال پسند سیاسی نظریے کے حامی ہیں۔
جب وشو ہندو پریشد کے رہنماؤں نے ان سے 27جنوری کو ملاقات کی اور ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر
بابری مسجد
تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا تو اس ملاقات کے دوران سخت گیر موقف رکھنے والے وزیرداخلہ لال کرشن اڈوانی اور وزیردفاع جارج فرنانڈیز بھی موجود تھے۔ حزب اختلاف کی جماعتیں مسٹر اڈوانی پر فرقہ وارانہ سیاست کو فروغ دینے کا الزام عائد کرتی رہی ہیں۔
اتوار کو اس اجلاس کے دوران، وشو ہندو پریشد کے رہنماؤں اور وزیراعظم واجپئی کے مابین اس بات پر اتفاق ہوا کہ حکومت وزارت قانون سے یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ عدالت میں زیربحث اس مسئلہ کو کتنی جلدی نمٹایا جاسکتا ہے۔ اور یہ کہ کیا حکومت بابری مسجد کے اطراف سرکاری تحویل میں لی گئی زمین کا وہ حصہ جو غیر متنازع ہونے کے سبب عدالتی تحویل میں نہیں ہے، ٹرسٹ براۓ تعمیر مندرکو قانونی طور پر دے سکتی ہے۔ واضح رہے کہ بابری مسجد کی زمیں اس وقت عدالتی تحویل میں ہے۔
لیکن آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ چندرا بابو نائیڈو کی تیلگو دیشم پارٹی نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان میں مسجد۔مندر تنازعہ کو ہوا دینے کے خلاف وزیراعظم واجپئی کو متنبہ کیا ہے۔ مسٹر واجپئی کے برسراقتدار اتحاد کو تیلگو دیشم پارٹی کی حکومت سے باہر رہتے ہوۓ حمایت حاصل ہے اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ اگر مسٹر نائیڈو اپنی حمایت واپس لے لیں تو مرکزی حکومت برسراقتدار نہ رہ سکے گی۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم واجپئی کی پارٹی فروری میں ہونے والے انتخابات کے پیش نظر اس تنازعہ کو زندہ تو رکھنا
ہندوپرست مظاہرین
چاہتی ہے لیکن اتنی شہرت نہیں دینا چاہتی کہ دہلی میں برسراقتدار اتحاد میں شامل سیکولر جماعتیں اس کا ساتھ چھوڑ دیں۔
ہندوستان کی انتخابی سیاست میں فرقہ واریت اور تشدد کوئی نئی بات نہیں ہے اور اقلیتی فرقوں کے رہنما اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بی جے پی ملک میں فرقہ واریت پر مبنی پرتشدد سیاست کے ذریعے اقتدار میں آئی تھی۔
چونکہ بی جے پی ملک کے اقتدار پر قابض ہے، اس لۓ اقلیتوں کو اس بات کا خدشہ ہے کہ کہیں سیاسی جماعتیں فروری میں ہونے والے ریاستی انتخابات میں فرقہ واریت کو ایک انتخابی حربے کی حیثیت سے دوبارہ استعمال کرنا شروع نہ کردیں۔
کچھ مبصرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ آنے والے انتخابات میں اگر اتر پردیش میں مسٹر واجپئی کی پارٹی کو شکست ہوجاتی ہے اور پنجاب میں کانگریس برسر اقتدار آجاتی ہے تو مرکز کی سیاست میں حزب اختلاف کی سربراہ سونیا گاندھی زیادہ موثر رہنما کی حیثیت سے ابھرکر سامنے آئیں گی۔ پھر بھی یہ کہنا کہ مسٹر واجپئی کی حکومت کو کوئی فوری خطرہ ہے، شاید قبل از وقت ہوگا۔
ان صوبائی انتخابات میں فرقہ واریت شاید اتنا شدت اختیار نہ کرے، تاہم اتنا ضرور ہے کہ وزیراعظم واجپئی اور ان کی پارٹی کی مقبولیت کے لۓ ان صوبائی انتخابات کو آزمائش کی ایک گھڑی سمجھا جارہا ہے۔