سابق وزراۓ اعظم کو پاکستان واپس آنے کی اجازت ملے گی؟
تحریر: طفیل احمد
آج پاکستان ایک سیاسی خلاء سے گذر رہا ہے اور تقریبا سبھی اہم سیاست دانوں کو ملک میں آنے کی اجازت نہیں ہے۔ کیا پاکستان کی فوجی حکومت ملک میں جمہوریت کو لبیک کہنے کے لۓ تیار ہے؟ اور کیا مستقبل قریب میں غیرجانبدارانہ انتخابات کی کوئی امید کی جاسکتی ہے؟
امریکی وزیرخارجہ کالن پاول اور دیگر مماک کے سربراہوں نے گیارہ ستبمر کے حملوں کے بعد پاکستان کے متعدد دورے کیے ہیں۔ یہ دورے ایک ایسے وقت ہورہے ہیں جب ملک میں حزب اختلاف کی جماعتیں انتشار کا شکار ہیں اور مغربی دنیا کی نظریں بھی ملک میں جمہوریت کی بحالی کے بجاۓ جنرل پرویز مشرف کی اس مہم پر ٹکی ہوئی ہیں جو انہوں نے شدت پسند اور فرقہ وارانہ عناصر کے خلاف شروع کی ہے۔
لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ انتہا پسند جماعتوں کے خلاف جنرل مشرف کی جنگ بین الاقوامی دباؤ کی
کلاشنیکوف کلچر کے خلاف جنرل مشرف کا اعلان جنگ۔
وجہ سے زیادہ ہے لیکن ذاتی طور پر بھی وہ مزہبی انتہا پسندی کے حق میں نہیں ہیں۔ ماضی میں جنرل مشرف نے اس بات کے اشارے دیے ہیں کہ وہ انتخابات کے باوجود بھی صدر کے عہدے پر قائم رہنا چاہیں گے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ایسی جمہوری حکومت کی شکل کی ہوگی۔
جنوری کے تیسرے ہفتے میں جب صدر مشرف نے قوم کو خطاب کیا تو انہوں نے اس بات کا کوئی واضح اشارہ نہیں دیا کہ ملک کو وہ ایک جمہوری راستے پر گامزن کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ دریں اثناء ملک کے اقتدار پر ان کا کنٹرول بڑھتا جارہا ہے اور اس طرح کے سوالات اٹھاۓ جارہے ہیں کہ کیا وہ ملک میں آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کرائیں گے۔ اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ ان تمام اہم سیاستدانوں کو پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی جاۓ گی جو ملک سے باہر ہیں۔
جنوری میں جب صدر مشرف نے سابق چیف جسٹس ارشاد احمد خان کو ملک کے چیف ایلیکشن کمیشنر کے عہدے پر نامزد کیا تو اس تقرری پر کئی سوال اٹھاۓ گۓ۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ جسٹس ارشاد احمد خان وہ شخص ہیں جنہوں نے سپریم کورٹ کے اس بینچ کی صدارت کی تھی جس نے 1999کی فوجی بغاوت کو قانونی طور پر جائز قرار دیا تھا۔
سوال یہ نہیں ہے کہ جنرل مشرف انتخابات کرائیں گے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا یہ انتخابات غیرجانبدارانہ ہونگے اور کیا فوج ان انتخابات کے نتیجے میں سامنے آنے والی حکومت پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گی؟
پاکستانی اخباروں میں اس طرح کی قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ صدر مشرف جلد ہی ملک کے آئین میں تبدیلی کرنے والے ہیں تاکہ اقتدار پر ان کا کنٹرول باقی رہے اور ایک ایسا قانون بنایا جاۓ جس کے تحت سابق وزراۓ اعظم کے تیسری دفعہ اقتدار میں آنے پر پابندی عائد کردی جاۓ۔ اگر ایسا ہوا تو بےنظیر بھٹو اور نوازشریف دونوں انتخابات نہیں لڑسکیں گے۔
ملک کے اندر موجود سیاسی جماعتوں میں انتشار ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ جنوری میں اے آر ڈی یعنی اتحاد براۓ بحالی
جنرل ضیاء پر مزہبی تنظیموں کو فروغ دینے کا الزام ہے۔
جمہوریت کے سربراہ نواب زادہ نصراللہ خان نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔ گرچہ ان کا استعفی فوجی حکومت کے کسی اقدام کی وجہ سے پیش نہیں آیا پھر بھی اے آر ڈی میں انشتار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں ایک فعال جمہوریت پسند حزب اختلاف کی کمی ہے۔
پاکستان میں ویسے تو سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کی قلت نہیں ہے۔ لیکن ایک پاکستانی صحافی کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف اپنے عہدے پر ہرحال میں قابض رہنا چاہتے ہیں۔ اور سیاسی مبصرین یوں کہہ رہے ہیں کہ صدر مشرف اس مقصد کے لیے سیاسی تور جوڑ سے گریز نہیں کرینگے۔ اس نۓ سال میں جب پاکستان پیوپلز پارٹی کے سابق لیڈر اور صوبہ سرحد کے سابق وزیراعلیٰ آفتاب احم خان شیرپاؤ پاکستان واپس آۓ تو اس بات کی قیاس آرائیاں کی جانے لگیں کہ گرفتاری کے وارنٹ کے باوجود وہ پاکستان کیوں آۓ اور کہیں ایسا تو نہیں کہ ان کی فوجی حکومت کے ساتھ کوئی سازباز ہوئی ہے؟
سیاسی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ فوجی حکومت اس بات کی کوشش میں ہے کہ چند جماعتوں کو ملاکر کچھ نۓ اتحاد بناۓ جائیں تا کہ کوئی بھی ایک سیاسی جماعت انتخابات کے ذریعے اکثریت میں نہ آسکے۔
ان سب باتوں کے باوجود پاکستان میں جس بات پر مکمل اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ ملک کے فوجی سربراہ جنرل مشرف پاکستان کی سیاست سے ان انتہاپسند عناصر کو پاک کرنے کی طرف گامزن ہیں جن کی پرورش ایک دوسرے فوجی سربراہ جنرل ضیاءالحق نے کی تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جنرل مشرف اسی طرح کے سیاسی داؤپیچ کا استعمال کرینگے جیسا کہ جنرل ضیاءالحق نے کیا تھا؟