تحریر: طفیل احمد
پہلی جنوری کو یورو کی آمد کے ساتھ ہی یورپ کے بارہ ممالک کے سکے تاریخ کا حصہ بننا شروع ہوجائیں گے۔ تاریخ میں شاید ہی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی انسان کی زندگی میں رائج الوقت سکے میں تبدیلی دیکھنے کوملے۔ اس لحاظ سے یورپ کے بارہ ملکوں کے تیس کروڑ باشندوں کے لۓ یورو کی آمد ان کی ذاتی زندگی کا ایک انوکھا تجربہ بھی ہوگی۔
اس سکے کی تبدیلی کے لۓ پندرہ ارب یورو نوٹ چھاپے جارہے ہیں اور پچاس ارب سکوں کی ضرورت ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک یورو نوٹ اتنی تعداد میں چھاپے گۓ ہیں کہ اگر انہیں ایک دوسرے کے اوپر سجاکر رکھا جاۓ تو زمین سے چاند تک پہنچ جائیں گے۔
لیکن سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ اگر ان نوٹوں کی پہچان میں کوئی مسئلہ پیش آیا تو دکانداروں اور عوام کے لۓ مسائل کا
نئے یورو سکے
انبار کھڑا ہوسکتا ہے۔ یہ بھی ڈر ہے کہ ان مشکلات کا فائدہ اٹھانے والے افراد کی بھی کمی نہیں ہے۔ یورپی دکانداروں کی تنظیم یورو کامرس کو یہ خدشہ ہے کہ نوٹوں کو پہچاننے میں مشکل کی وجہ سے اگر لین دین میں بیس سیکنڈ کی شرح سے بھی تاخیر ہوتی ہے تو یورپی تجارت میں تقریبا دس فیصد کا زوال آسکتا ہے۔
جولوگ الیکٹرانک کارڈ یعنی اے ٹی ایم کے ذریعے مشینوں سے نوٹ نکالتے ہیں ان کے لۓ یورپی ممالک نے بڑی تعداد میں مشینوں کو نۓ نوٹ فراہم کرنے کا بندوبست کیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، ایک وینڈنگ مشین کو یورو کی طرز پر لانے کے لۓ تقریبا چارسو باسٹھ ڈالر کی لاگت آئے گی۔ مختلف کمپنیوں نے اشیاء کی قیمت یورو میں لکھنی شروع کردی ہے اور حکومتیں کام کرنے والوں کو یورو میں تنخواہ دینے کی تیاریاں کررہی ہیں۔ بینکوں، حکومتوں، تاجروں اور دیگر اداروں کو اپنے کمپیوٹر نظام میں بھی تبدیلی کرنی ہوگی۔
یورو پہلی دفعہ یوروپ کی بارہ معیشتوں کو ملاکر ایک نئی متحدہ معیشت کو جنم دےگا۔ یورو سکہ کی حیثیت سے یکم جنوری 1999 کو الیکٹرانک شکل میں وجود میں آیا تھا۔ لیکن اس سال ایک جنوری سے یورو روزمرّہ کی زندگی میں استعمال ہونا شروع ہوگا۔ جو بارہ ممالک اس سکے کا استعمال کرینگے وہ ہیں: فرانس، جرمنی، بیلجیئم، اٹلی، پرتگال، نیدرلینڈ، اسپین، لکسم برگ، یونان، فن لینلڈ، آئیرلینلڈ اور آسٹریا۔ یاد رہے کہ برطانیہ بھی یوروپ کا حصہ ہے لیکن ابھی یورو کو اپنانے کے لۓ تیار نہیں ہے۔
ان ممالک کے اپنے سکے صرف دوماہ یعنی اٹھائیس فروری تک یورو کے ساتھ ساتھ رائج رہیں گے۔ ان ملکوں کے عوام اور تاجروں کو ایک جنوری سے ان دو مہینوں کے اندر اپنا پرانا سکہ یورو سے تبدیل کرنا ہوگا۔
اب تک بین الاقوامی معیشت میں امریکی کرنسی یعنی ڈالر کا غلبہ رہا ہے لیکن گذشتہ دو برسوں سے ماہرین اقتصادیات یہ
یورو: یوروپی اتحاد کی ایک نئی علامت
اٹکلیں لگا رہے ہیں کہ کیا آنیوالے دنوں میں یورو عالمی معیشت میں ڈالر کی جگہ اختیار کرسکے گا۔ کیا دنیا کے بیشتر ملکوں میں ڈالر کی طرح یورو کو مقبولیت حاصل ہوسکےگی؟ اب تک دکانوں میں فروخت ہونیوالی اشیاء کی قیمت ڈالر اور مقامی سکے میں دیکھنے کو ملتی تھی۔ لیکن اب یوروپ اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں کے بازاروں میں مختلف اشیاء پر ڈالر، مقامی سکہ اور یورو میں قیمت لکھی ہوئی دیکھنے کو ملنے لگی ہے۔
ڈالر کے مقابلہ میں یورو کی قیمت گذشتہ تین برسوں میں تقریبا تیس فیصدی کم ہوئی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ یورو کی اب تک صحیح قیمت نہیں لگائی گئی ہے اور آنیوالے دنوں میں یورو کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد ڈالر کے استحکام پر بھی ایک سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا ہے اور اس طرح کے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ یورو کی آمد کے بعد کیا امریکی معیشت کو عالمی سطح پر یوروپی معیشت سے کوئی خطرہ لاحق ہوگا۔ اس طرح کے سوالات کا جواب صرف آنے والے دن ہی بتاپائیں گے۔