آئین نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے، قوموں کی زندگی میں
شاعر مشرق علامہ اقبال نے یہ الفاظ شاید مغرب اور اسلام کی کشمکش کو ذہن میں رکھتے ہوۓ کہے ہوں۔ آج اکیسویں صدی کے پہلے سال کی رخصتی مغرب اور مسلم دنیا کے مکینوں کے لۓ سوالات کے ایک انبار کے ساتھ ہورہی ہے۔ لیکن پہلے ایک نظر افغانستان کی طرف جس کے پڑوسی ملک ایران میں اسلامی انقلاب آیا، سرد جنگ پروان چڑھی اور اب بظاہر کابل کے افق پر جمہوریت کا سورج طلوع ہوا چاہتا ہے۔ یہ ہےگزشتہ دودہائیوں سے اب تک کا پس منظر جب بین الاقوامی سطح پر نظریات کی جنگ اپنے عروج پر تھی۔ 1979 میں آیت اللہ خمینی کی قیادت میں ایران میں اسلامی انقلاب آیا۔ انہوں نے روس کے کمیونسٹ صدر میخائیل گورباچوف کو خط لکھ کر اسلام کی دعوت دی۔ اوربعد میں روس اپنے داخلی اقتصادی بحران اور امریکہ کی طرف سے عسکری دباؤ کی تاب نہ لاکر بکھرگیا۔ 1979 میں روسی افواج کی افغانستان میں آمد سے لیکر 1989 میں ان کی واپسی سرد جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتی ہے اور کمیونزم عالمی نظریات کی جنگ میں اپنی شکشت تسلیم کرلیتا ہے۔
اور تب نظریات کی ایک نئی جنگ شروع ہوتی ہے۔ اسلام بمقابلہ مغرب۔ سرد جنگ کے دنوں میں مغرب اور اسلام نے
گیارہ ستمبر کا حملہ: تاریخ کا ایک نیا موڑ؟
کمیونزم کے خلاف جنگ لڑی۔ کمیونزم کی شکست کے بعد مغرب اور اسلام میں بحث شروع ہوئی۔ اور یہ بحث ابھی جاری ہی تھی کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکی صدر جارج بش نے ایک بار پھر، جانے یا انجانے میں، ایک اورصلیبی جنگ چھیڑنے کی بات کہہ ڈالی۔ ان کا کہنا تھا:
”یہ صلیبی جنگ، دہشت گردی کے خلاف یہ مہم کچھ عرصہ تک چلے گی۔ لیکن میں امریکی عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اپنی توجہ اس بات پر مرکوز رکھونگا کہ جولوگ امریکہ پر حملے کے ذمہ دار ہیں یا جو ان سے تعلق رکھتے ہیں سب کو انصاف کےکٹہرے میں لاکھڑا کیا جاۓ۔”
صدر بش کے لفظ صلیبی جنگ کے استعمال پر مسلم دنیا نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور امریکی صدر کو اپنے الفاظ واپس لینے پڑے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ مغرب اور اسلام میں یہ کشیدگی کیوں ہے؟ اسلام کیا کہتا ہے؟ مغرب کیا ہے؟
مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ اسلام میں جمہوریت کی گنجائش نہیں، فرد کی آزادی نہیں ہے، اور سود کی ممانعت ہے جو دور جدید کی معیشت میں کامیابی کا ایک جائز اور قانونی محور ہے۔
جبکہ مغربی ممالک پر الزام ہے کہ مغربی معاشرہ انسانی رشتوں کو برقرار رکھنے سے قاصر ہے، خاندان کا شیرازہ بکھر رہا ہے، رشتہ ازدواج سے باہر والے ماں باپ کے خاندان عام ہورہے ہیں۔
لیکن مغربی مبصرین کہتے ہیں کہ اسلام عورتوں کو آزادی نہیں دیتا۔ اسلام کہتا ہے کہ عورت صدر مملکت نہیں بن سکتی ہے۔ سر پر دوپٹہ نہ رکھنے والی لڑکیوں کو مسلم شدت پسندوں نے کئی دفعہ گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔
لیکن مسلمانوں کا کہنا ہے اسلام کا اخلاقی معیار بہتر ہے۔ کیونکہ مغرب کی طرح یہ اسقاط حمل اور ہم جنس شادیوں کی اجازت نہیں دیتا ہے۔
جبکہ مغرب کے مفکر کہتے ہیں کہ طالبان جیسی حکومتیں دوسرے مذاہب کے لوگوں کو غیراسلامی نظریات کو فروغ د ینے سے روکتی ہیں، اور افکارواظہار کی آزادی نہیں دیتیں۔
دوسری طرف اسلامی دنیا میں یہ تاثر ہے کہ مغربی ممالک مسلم حکومتوں کو اپنے مفاد کے لۓ استعمال کرتے ہیں۔ پہلے انہوں نے صدام حسین کو ایران کے خلاف لڑایا، پھر روس کے خلاف افغان مجاہدین کی حمایت کرتے رہے، اس طرح کی اور بھی متعدد مثالیں ہیں۔
اسلام کے بارے میں ماہرین عمرانیات کہتے ہیں کہ اسلام میں جرم و سزا کا جو قانون ہے جیسے پتھر مارنا، پھانسی دینا، کوڑے مارنا، اس سب کا مقصد مجرم کی اصلاح کرنا نہیں بلکہ سماج کے جزبات کو تسکین فراہم کرنا ہے۔
دوسری طرف مسلم مفکر کہتے ہیں کہ مغرب نے اسلام کو سمجھنے کی شاید سنجیدہ کوشش کی ہی نہیں۔ قرآن دوسرے مذاہب کو پوری آزادی فراہم کرتا ہے۔ غیرمسلموں کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے اور عبادت کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
مسلم دانشوروں پر اعتراض رہا ہے کہ وہ اس بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ مغربی ملک ہمیشہ ایک بہتر معاشرے کی تشکیل کےلۓ کوشاں ہیں۔ جرمنی، فرانس، نیدرلینڈ
برقہ اور حقوق نسواں پر مغرب نے سوالات اٹھاۓ ہیں
میں پھانسی کی سزا ختم کردی گئی ہے بلکہ کچھ مبصرین کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اگر اسامہ بن لادن خود کو فرانس کی پولس کے حوالے کردیں تو شاید انہیں موت کا سزا نہ دیا جاسکے۔ درحقیقت، اگر دیکھا جاۓ تو مسلمان مغرب کو جذبات کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ نہ تو مسلمانوں نے سنجیدہ طور پر مغربیت کے مثبت پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور نہ ہی مغربی ممالک اسلام کو سمجھنے میں کوئی دلچسپی رکھتے ہیں۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں مغرب کے خلاف غم و غصہ سڑکوں پر ابل پڑتا ہے۔ ستمبر کے حملوں کی طرح کے پرتشدد واقعات میں ہزاروں معصوم افراد کو ہلاک کردیا جاتا ہے۔ کیا مغرب سے مسلمانوں کو سیکھنے کے لۓ کچھ بھی نہیں ہے؟ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ اگر چین نے لڑی ہوتی تو کیا مسلم دنیا مغربی ممالک کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار اسی انداز میں کرتی؟
آخر مغرب اور اسلام کے درمیان کشیدگی اتنی شدید کیوں ہے؟ لندن سے شائع ہونیوالے عربی اخبار القدس کے ایڈیٹر عبدالباری اتوان کہتے ہیں:
”پاکستان میں حالات کو دیکھا جاۓ تو یہ پہلی بار ہوا ہے کہ نوجوان کسی شخص کی تصویر لۓ سڑکوں پر آگۓ۔ یہ تصویر اسامہ بن لادن کی ہے۔ مصر کے لیڈر جمال عبدالناصر کے بعد پہلی بارایسا ہوا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مسلم عوام، خاص کر پاکستان کے عوام، اسامہ بن لادن کو اپنا ہیرو تصور کرتے ہیں۔”
سن دوہزار ایک میں جب امریکہ نے افغانستان میں اسامہ بن لادن اور طالبان کے خلاف جنگ چھیڑی تو اسے پوری دنیا میں اسلام کے خلاف جنگ سمجھا جانے لگا۔ بیشتر ملکوں میں مسلم نوجوان سڑکوں پر نکل آۓ۔ مشرق بعید میں انڈونیشیا، ملیشیا اور فلپائن سے لیکر مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک اور
عید سے متعلق ایک امریکی ڈاک ٹکٹ
برطانیہ میں بھی مغربی حکومتوں کے خلاف مظاہرے ہوۓ۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے فورا بعد بعض مقامات پراظہار مسرت کیاگیا اور اس طرح کے خدشات کا اظہار بھی کیا گیا کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کا مسئلہ کہیں پوری دنیا میں مغرب کے خلاف تشدد کا باعث نہ بن جاۓ۔ مصر سے شائع ہونے والے عربی اخبار الاہرام کے ایک ایڈیٹر محمد سلماوی نے انہی خدشات کا اظہار کرتے ہوۓ کہا:
”مشرق وسطیٰ بہت ہی نازک دورسے گزر رہا ہے۔ اب تک یہ مسئلہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں تک محدود رہا ہے۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ اگر امریکہ اس خطے میں کسی ملک پر حملہ کرتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ یہ آگ دوسرے ممالک تک پھیل جاۓ۔”
لیکن سوال یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ جو عربوں کا مسئلہ ہے اسے ایک اسلامی مسئلہ کیوں سمجھا جاتا ہے؟
ایک وجہ توشاید یہ ہو کہ یروشلم جو آج اسرائیل کے قبضے میں ہے وہاں مسجد اقصیٰ واقع ہے اور اس سے مسلمانوں کا مذہبی اور جزباتی لگاؤ ہے۔ لیکن تاریخ کے اوراق کو پلٹا جاۓ تو مسلمانوں اور مغرب بالخصوص یوروپ کے درمیان ایک گہرا
یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ
رشتہ رہا ہے۔ مسلم ریاستوں اور یوروپی ملکوں کے درمیان جنگیں ہوئی ہیں، ایک وقت جب مغرب نے علم و فنون سے لاتعلقی اختیارکرلی تھی تو مسلمانوں نے یہ علم حاصل کیا اور مغرب کو خود اس کی وراثت سے روشناس کرایا۔ آٹھویں صدی میں مسلم ماہر ریاضیات الخوارزمی نے ڈیسیمل سسٹم یعنی نظام اعشاریہ دریافت کیا جس کی بنیاد پر آج پوری دنیا کا کمپیوٹر نظام قائم ہے اور آپ کو حیرت ہوگی کہ لفظ الجبرا الخوارزمی کی کتاب الجبروالمقابلہ کے نام سے منسوب ہے۔ مشرق وسطیٰ کا مغرب سے خصوصی تعلق اس لۓ بھی ہے کہ یوروپ پر جن مسلمانوں نے قبضہ کیا وہ مشرق وسطیٰ سے آۓ تھے۔ اور دنیا بھر کے مسلمان آج بھی مکہ اور مدینہ کی وجہ سے عرب دنیا سے انسیت رکھتے ہیں۔
لیکن دنیا کی آبادی میں پانچ میں سے صرف ایک ہی آدمی مسلمان ہے۔ توسوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ مغرب کی یہ لڑائی صرف مسلمانوں کے نام ہی کیوں ہے اور کب شروع ہوئی؟
روس کے بکھرنے کے بعد کمیونزم بین الاقوامی سطح پر سیاسی مباحثے سے باہر آچکا تھا۔ اور دانشور حلقوں میں یہ سوال اٹھنے لگا کہ کیا اب دنیا پر مغرب بالخصوص امریکہ کا تسلط ہوگا؟ تب دو دانشوروں نے ایک نئ بحث کا آغاز کیا۔ 1993 میں ہارورڈ یونیورسیٹی کے پروفیسر سیموئل ہنٹنگٹن نے نیویارک سے شائع ہونیوالے موقر جریدے فارین افیئرس میں ”تہذیبوں کے درمیان تصادم” کے نام سے ایک مضمون لکھا جسمیں انہوں نے یہ بحث کرنے کی کوشش کی کہ آنیوالے برسوں میں بین الاقوامی سطح پر تعلقات کی بنیاد ملک نہیں بلکہ تہذیبیں اور معاسشرے ہونگے۔
اور پروفیسر ہنٹنگنٹن کا یہ نظریہ ایک دوسرے مضمون کی ضد میں پیش کیا گیا تھا۔ تاریخ کا اختتام یعنی اینڈ آف ہسٹری کے زیر عنوان 1992 میں نیشنل انٹیریسٹ نامی رسالے میں شائع
گورباچوف نے روس کو جمہوریت کی راہ پر گامزن کیا
شدہ اس مضمون کے مصنف فرانسس فوکویاما نے یہ بحث چھیڑی تھی کہ مغرب کی لبرل ڈیموکریسی یعنی آزادجمہوریت انسانی نظریہ سیاست کا آخری پڑاؤ ہے اور اس کے سامنے فاسیزم، بادشاہت اور کمیونزم جیسے نظریات نے گھٹنے ٹیک دیۓ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب انسان کے پاس لبرل ڈیموکریسی سے بہتر طرزحکومت نہیں ہوسکتا اور انسانی فکر نظریاتی عروج کی آخری منزل پر ہے۔ اور تب ہنٹنگٹن نے اپنا جوابی مضمون لکھ کر یہ بحث چھیڑی کہ ابھی تو تہذیبوں اور نظریات کی جنگ ہونی باقی ہے۔
جن لوگوں نے ہٹنگنٹن کی مضمون ”تہذیبوں کے تصادم” کا مطالعہ کیا ہے ان کا خیال ہے کہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مغرب اور اسلام ہی وہ تہذیبیں ہیں جو ماضی میں براہ راست ایک دوسرے کے مدمقابل رہی ہیں ورنہ اسلام بمقابلہ چین، یا مغرب بماقبلہ چین، یا اسلام بمقابلہ جاپان جیسے سوالات بھی اٹھتے۔ کچھ دانشوروں کا خیال یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس احساس کا شکار ہے کہ مسلمان تعلیمی اور معاشی میدان میں کافی پیچھے ہیں۔ اور انکا غصہ مغربی ممالک کے خلاف اٹھتا ہے کیونکہ یہ مغربی ممالک بدعنوانیوں میں ملوث مسلم حکومتوں کی حمایت اپنے مفاد کی خاطر کرتے ہیں۔ لہذا مسلم عوام کا اپنی حکومتوں کے خلاف جو غصہ ہے وہ بھی مغرب کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔
بلکہ مسٹر ہنٹنگٹن اور دیگر دانشوروں کا یہ بھی خیال رہا ہے کہ اگر چین اور کوئی مسلم طاقت آپس میں مل جائیں تو شاید مغربی ممالک کے لۓ اکیسویں صدی کا سب سے بڑا مسئلہ پیدا ہو۔
کچھ لوگوں کا تو خیال ہے کہ مغرب کو چیلینج کرنے والا نظریہ اب صرف اسلام ہی رہ گیا ہے۔ اور مغربی مفکروں نے اسلام کے خلاف اپنے مشورے دینے شروع کردیۓ ہیں۔
لیکن پروفیسر ہنٹنگٹن نیوزویک نامی امریکی رسالے کے ایک تازہ خصوصی شمارے میں ایک دلچسپ بات لکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ مغرب کے خلاف مسلمانوں کے جذبات میں شدت
مغرب کے خلاف مسلم عوام کا شدید ردعمل
اس لۓ ہے کہ ان دنوں مسلمانوں کی آبادی میں سولہ سے تیس برس کے نوجوانوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ انہوں نے اسے نوجوانوں کی تعداد میں اضافے یا یوتھ بلج کے نام سے تعبیر کیا ہے لیکن یہ تعداد سن دوہزار بیس تک کافی کم ہوجاۓگی۔ حالانکہ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر امریکہ اسرائیل کی طرف اپنی پالیسی میں ذرا تبدیلی لاۓ تو مسلم نوجوان امریکہ اور مغربیت کے اتنے خلاف نہ ہوں بالکل اسی طرح جیسے کہ ایران میں امریکہ مخالف جذبات میں نرمی نظر آنے لگی ہے۔
لیکن کچھ مبصرین یہ کہتے ہیں کہ سعودی منحرف اسامہ بن لادن اور ان کی تنظیم القاعدہ کے خلاف امریکہ نے جو نہ ختم ہونے والی مہم شروع کررکھی ہے اس سے تو نہیں لگتا ہے کہ اسلام اور مغربیب کی یہ کشیدگی کبھی ختم ہوسکے۔ انگریزی ہفتہ وار نیوزویک انٹرنیشنل کے ایڈیٹر فرید زکریا نے ایک حالیہ شمارے میں لکھا ہے آج کا انقلابی اسلام ہتھیاربند نظریہ ہے۔ آرمڈ ڈاکٹرائن کا وہ نظریہ جس کا حوالہ مفکر ایڈمنڈ برک نے دیا تھا۔ اور ان کا کہنا ہے کہ ماضی کے دیگر ہتھیاربند نظریوں مثلاً فاشزم کی طرح اس وقت تک انقلابی اسلام ہار نہیں مانے گا جب تک اسے فوجی شکست نہ دی جاۓ۔ مبصرین کا خیال ہے کہ فرید زکریا کا یہ کہنا کہ آج کا انقلابی اسلام ہتھیاروں سے لیس نظریہ ہے شاید درست ہو۔ خود اسامہ بن لادن نے القاعدہ نامی تنظیم قائم کرکے مسلمان نوجوانوں کی تربیت شروع کی تھی۔ القاعدہ کے کارکنوں سے ایسی ہی ایک تربیت کے دوران بن لادن کہتے ہیں:
” اس ٹریننگ کا مقصد ہے جہاد، صرف ایک اور واحد خدا کے لۓ جہاد، کیونکہ اسرائیل کے قبضے میں ہمارے بھائی ہمارا انتظار کررہے ہیں کہ ہم امریکہ اور اسرائیل کو نیست و نابود کردیں۔”
تو کیا یہ مان لیا جاۓ کہ آج کا انقلابی اسلام ایک ہتھیار بند نظریہ ہے اور معصوم انسانوں کے خلاف تشدد کی حمایت کرتا ہے؟ میں نے برطانیہ کی باتھ یونیورسیٹی میں عالمی امور کے پروفیسر ڈاکٹر افتخار ملک سے اس سوال کا جواب جاننا چاہا۔ افتخار ملک کا جواب تھا:
”سارے کے سارے اسلامی سیاسی تجربے کو، ٹراجیکٹری کو صرف آرمڈ ریوولٹ کے حساب سے دیکھنا ایک سیمپلیسٹک بات ہے، کیونکہ دنیا میں تقریبا ایک بلین سے زیادہ مسلمان موجود ہیں اور ان کے مختلف قسم کے مسائل ہیں، کئی نیشن
اسامہ بن لادن نے مسلم تنظیموں کو متحد کرنے کی کوشش کی
اسٹیٹس کے اندر، کئی نن مسلم نیشن اسٹیٹس میں رہ رہے ہیں اور ان مسائل میں مختلف قسم کی اسٹریٹجیز اختیار کی جارہی ہیں اور کچھ جگہیں ایسی ہیں جہاں آرمڈ اسٹرگل جو ہے وہ اسٹریٹجی کے طور پر استعمال ہورہی ہے لیکن تمام مسلمان کمیونیٹیز اور ملکوں کے بارے میں کہنا کہ وہاں صرف آرمڈ اسٹرگل ہی جاری ہے یہ مناسب نہیں ہوگا۔”
لیکن افتخار صاحب، دنیا کے مختلف خطوں میں جو مسلمان ہتھیاروں کا استعمال کررہے ہیں، کیا مسلم تنظیموں کے پاس کوئی جمہوری راستہ نہیں ہے؟ یا مسلم ملکوں میں یہ شدت پسندی بیرونی طاقتوں کی مداخلت کا نتیجہ ہے؟
” آپ بوسنیا کو دیکھۓ یگوسلاویہ سے ہوئی، کوسووو کو دیکھۓ سربیا سے ہوئی، اس کے بعد آپ دیکھۓ چیچنیا پچھلے ڈیڑھ سوسال سے وہاں روس، زارسٹ روس، کمیونسٹ روس، اور اب نیشنلسٹ روس کا قبضہ ہے جس کے خلاف آرمڈ اسٹرگل ہے۔ اس کے بعد آپ دیکھۓ کشمیر میں جو کہ انٹرنیشنل تنازعہ ہے ہندوستان اور پاکستان کا، اور ہر کشمیری کی سوچ یہی ہے کہ ہم پر باہر سے امپوز کۓ جارہے ہیں ہر قسم کے ملٹری یا دوسرے سولوشن۔ اس کے علاوہ آپ فلسطین کا مسئلہ دیکھۓ تو وہاں بھی باہر سے آک لوگوں کو بسایا گیا ان کو ڈسلوکیٹ کیا گیا، سیٹلمینٹس اور پھر ایک اسٹیٹ جو ایکسپینڈ کررہی ہے تو ٹروبلسم علاقے وہی ہیں جن پر باہر سے انکرسن ہوئی ہے اور عام آدمی سمجھنے لگتا ہے گویا کہ مسلمانوں کا اور کوئی کام ہی نہیں ہے سواۓ اس کے کہ ہتھیا اٹھاکر وہ لڑائی کرنا شروع کردیں۔”
لیکن پروفیسر صاحب، جو شدت پسند تنظیمیں ہیں انہیں کیا مسلم عوام کی حمایت حاصل ہے؟ کیا مسلم حکومتیں جمہوریت کو خوش آمدید کہیں گی؟ اور مغرب اور اسلام کی یہ کشیدگی آخر کب ختم ہوگی؟
”مسلم ملکوں میں سے اکثریت لوگ جو ہیں، مڈل کلاس کے لوگ جو پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ جمہوریت ایک گریٹر سینس آف پارٹیسیپیشن ہوگا، ایتھنک گروپس کا، سیکٹیرین گروپس کا، اور وہ سوسائیٹیز جو ہیں وہ آپس میں پرامن طریقے سے ڈائیلوگ کرینگی۔ لیکن جو ہمارے ایلیٹ ہیں، جو رولنگ ایلیٹ ہیں،
سلمان رشدی کی کتاب شیطانی آیات پر مسلمانوں نے شدید ردعمل ظاہر کی
ساتھ ہی کچھ علماء ہیں انہوں نے جمہوریت کا خلاف یا نادانستگی میں، یا اپنے انٹیریسٹ کی خاطر ایک کیس کھڑا کر رکھا ہے۔ تو عموما آپ دیکھیں کہ مسلمان حکومتوں کی سوچ مختلف ہے اور جو مسلمان اکثریتیں ہیں ان کی انٹیریسٹ اور سوچ با لکل مختلف ہے اور جب تک یہ چیز بریـج نہیں ہوگی زیادہ سے زیادہ آرمڈ اسٹرگل اور وولٹیلیٹی کا جو چانس ہے وہ برقرار رہے گا۔”
اکیسویں صدی کی شروعات۔ بیشتر مسلم ملکوں میں جمہوریت کا نہ ہونا، اسلم کو فنڈامینٹلزم کے نام سے تعبیر کردینا، دنیا میں آرمڈ اسٹرگل یعنی مسلح اسلامی جدوجہد کو ایک ملٹری پس منظر میں دیکھنے کی کوشش، اس طرح کے سبھی سوالات شاید مستقبل قریب میں مغرب کی سیاسی بساط پر رقص کرتے رہیں گے۔ کیا مغرب اور اسلام کے درمیان مفاہمت کا کوئی راستہ نہیں ہے؟ ارد ن کےشہزادہ حسن کہتے ہیں:
”دہشت گردی کے خلاف اسلامی ردعمل کا مقصد ہونا چاہۓ کہ ایک ایسی کوشش کی جاۓ کہ مغرب کے روشن خیال ممالک اس بات کو سمجھیں کہ دہشت گردی کے خلاف جوابی کاروائی صرف طاقت کے استعمال سے نہ ہو۔ دہشت گردی کا جواب بحث و مباحثے، خیالات اور نظریات کی سطح پر بھی دینے کی ضرورت ہے۔”
یہ ہیں اردن کے شہزادہ حسن کے الفاظ۔ آنیوالے برسوں میں مغرب اور اسلام کی بحث جارے رہے گی۔ تاریخ میں ایسے انسان پیدا ہوۓ ہیں جنہوں نے ایسے حالات میں جہاں ہتھیار کا استعمال مسائل کا حل نہیں کرسکا الفاظ اور نظریات کی طاقت سے دنیا کی تصویر بدلی ہے۔ مغرب کے مکینوں کو اسلام کو سمجھنا ہوگا۔ اسلامی دنیا میں مغرب کے مثبت پہلوؤں پر غور کرنا ہوگا۔ آج جب انسان مریخ پر جانے کے لۓ پر تول رہا تو مغرب اور اسلام کو ملکر ایک ایسے مشترکہ مستقبل کا خواب دیکھنا ہوگا جس میں ایک کثیرالمعاشرہ سماج کی تشکیل ممکن ہو۔ اور جہاں ہر مذہب، ہر مکتبئہ فکر، ہر معاشرے اور تہذیب کے لوگ اپنی زندگی اپنے عقائد کے مطابق گذار سکیں۔