 |
|
 |
| گرینچ بدھ, 19.12.2001 - 17:45 جی ایم ٹی |
|
| ہند۔پاک تجارتی تعلقات |

پاکستان میں چینی کی قلت ہے۔
|
تحریر: طفیل احمد
تقریباً پچاس برسوں سے ہند–پاک تجارتی تعلقات باہمی کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ آزادی کے وقت دونوں ملکوں کی باہمی تجارت 1.84 ارب روپے تھی۔ لیکن 1948 میں کشمیر کے مسئلہ پر ہونیوالی لڑائی کی وجہ سے ان کے تجارتی تعلقات مخدوش ہوگۓ۔
اس وقت دونوں ملکوں کی براہ راست تجارت تقریباً اسّی کروڑ ڈالر ہے جبکہ اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ان ممالک کے مابین بلواسطہ غیرسرکاری سطح پر ہونے والی تجارت تقریباً دو ارب ڈالر ہے۔ دوائیں، ویڈیو ٹیپ، فائبر، سامان زیبائش، کپڑا وغیرہ ہندوستان سے پہلے سنگاپور اور دوبئی جیسے ملکوں میں جاتے ہیں اور پھر وہاں سے انہیں پاکستان لایا جاتا ہے۔ جب جب ہندوستان اور پاکستان نے جنگ لڑی، ان کے تجارتی تعلقات میں بھی اتارچڑھاؤ آیا ہے۔
ان کی باہمی کشیدگی کی وجہ سے ہی، بین الاقوامی تجارت میں دونوں ملکوں کا حصہ آدھے فیصد سے بھی کم ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، سن دوہزار میں دونوں پڑوسیوں کی باہمی تجارت، عالمی سطح پر ہندوستانی تجارت کا صرف 0.22 فیصد تھی۔ دہلی میں واقع کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری نامی تاجروں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر ہندوستان اور پاکستان اپنے تعلقات میں کشیدگی کو ختم کریں تو ان کی باہمی تجارت سن دوہزار پانچ تک اسّی کروڑ ڈالر سے بڑھکر پانچ سے دس ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
آج پاکستان ہندوستان سے تقریباً پانچ سو اشیاء درآمد کرتا ہے جبکہ ہندوستان نے عالمی تجارتی تنظیم کے قوانین کے تحت  سرحد پر کشیدگی برقرار | پاکستان کو ایم ایف این یعنی خصوصی مراعات یافتہ ملک کا درجہ دے رکھا ہے جسکا مطلب ہے کہ ہندوستانی تاجر پاکستان سے کوئی سامان دیگر ملکوں کی بہ نسبت کم محصول دیکر خرید سکتے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان سے ہندوستان کی درآمد بہت کم ہے۔ جبکہ پاکستان نے اب تک ہندوستان کو ایم ایف این کا درجہ نہیں دیا ہے جو باہمی تجارت کے فروغ میں رکاوٹ ہے۔
تاجروں کا خیال ہے کہ دونوں ملک میڈیکل، ٹیکنالوجی، پیٹرولیم اور قدرتی گیس، چاۓ، چینی، لوہا اور اسٹیل اور زراعت کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے تشکیل دےسکتے ہیں جس سے ان کے باہمی اقتصادی تعلقات کو تقویت ملےگی۔ ہندوستان پاکستان سے خام اون، میوہ، کھیل کا سامان، کچی گندھک، بجلی، وغیرہ درآمد کرسکتا ہے۔ مبصرین کا کہنا یہ ہے کہ اگر دونوں ملک اپنے تجارتی تعلقات کو بہتر بنائیں تو سیاسی سطح پر ان کے رشتے جلد بہتر ہوسکیں گے۔
گزشتہ برسوں میں وقتا فوقتا دونوں ملکوں میں تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ سن دوہزار ایک میں آگرہ میں واجپیئ–مشرف مذاکرت کے دوران تجارتی تعلقات کے بہتر ہونے کی امیدیں پیدا ہوچلی تھیں۔ لیکن اس بار بھی تجارت سیاسی کشیدگی کا شکار رہی اور کوئی امید بر نہیں آئی۔
|
|
 |