 |
|
 |
| گرینچ جمعہ, 23.11.2001 - 20:00 جی ایم ٹی |
|
| طالبان۔ ایک نفسیاتی جائزہ |

طالبان کے دور میں برقعہ قدامت پسندی کی علامت بن گیا۔
|
تحریر: طفیل احمد
اسلام کی تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جب مسلمانوں کے چھوٹے چھوٹے فوجی دستوں نے بڑی بڑی افواج کو لمحوں میں شکست دیدی۔ طالبان جس پھرتی سے افغانستان پر قابض ہوۓ تھے اس سے عسکری ماہرین چاہے متاثر نہ ہوں لیکن انہوں نے جس برق رفتاری سے لڑکیوں کے اسکول بند کۓ، عورتوں کو گھر کی چاردیواری تک محدود کیا، مردوں کو داڑھی رکھنے پر مجبور کیا، ریڈیو اور ٹیلی ویژن توڑڈالے، کھیلوں اور موسیقی سمیت تفریح کے کئی ذرائع پر پابندی لگائی، اس سے دنیا سکتے میں آگئی۔
آج انسان مریخ پر جانے کی بات کررہا ہے، کائنات میں اپنے سے ذہین تر مخلوق کی تلاش میں کوشاں ہے لیکن یہ اچانک کون آگیا جس نے تہذ یب کی تشریح پر ایک سوالیہ نشان کھڑا کردیا۔
طالبان کون ہیں؟ ان کی تعلیم کیا ہے؟ خود کو اللہ کے ناقابل تسخیر بندے سمجھنے والے ان طالبان نے پاکستان کے مدرسوں سے افغانستان کے اقتدار تک کن نفسیاتی مراحل کا سفر طے کیا؟
انیس سو اسّی کی دہائی میں روسی افواج کے خلاف جنگ کی وجہ سے لاکھوں افغان ملک چھوڑکر پاکستان جا بسےتھے۔ ان کی زندگی انتشار کا شکار تھی، وہ پناہ گزیں کیمپوں میں رہتے تھے اور بےکس اور بے سہارا تھے۔ اتنے بڑے جہان میں سردی ہو یا گرمی، خوشی ہو یا غم، ان کا کوئی نہ تھا۔ کوئی ماں کی نرم آغوش سے محروم تھا کہ شدت غم میں اسے وہاں پناہ ملتی تو کسی کے سر پر باپ کا سایہ نہ تھا جو اسے زمانے کے سردوگرم سے تحفظ دیتا اور زندگی کے نشیب و فراز سمجھاتا۔ پاکستانی علماء نے رضاکارانہ طور پر مدرسے قائم کۓ جہاں وہ پڑھتے تھے اور اسی وجہ سے طالبان کہلاۓ۔ افغانستان میں جو طالبان برسر اقتدار تھے ان کی اچھی خاصی تعداد پاکستان میں زیرتعلیم انہی طلباء پر مشتمل تھی۔
پاکستانی صحافی احمد رشید اپنی کتاب طالبان میں لکھتے ہیں کہ ان میں اکثریت یتیموں کی تھی جنہوں نے اپنی ماؤں، بہنوں، خالہ زاد اور چچازاد بہنوں کی صورت تک بھی نہیں دیکھی تھی۔ 14 سے 24 برس کی عمر کے یہ طالبان اپنی زندگی مدرسوں، میں ورنہ پناہ گزیں کیمپوں میں بسر کررہے تھے، وہ بھی اس حالت میں کہ وہاں مرد اور عورت الگ الگ خانوں میں رہتے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق بیس ہزار سے زائد ایسے طلباء افغانستان میں جنگ لڑنے کے لۓ گۓ۔
انہوں نے زندگی کے تلخ حقائق میں سانس لیا تھا۔ دور اندیشی سے وہ نا واقف تھے۔ پاکستان کے مدرسو ں میں انہوں نے سائنس، اقتصادیات، ریاضی، تاریخ یا جغرافیہ کی تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ وہ عالمی سیاست کو نہیں سمجھتے تھے اور نہ ہی انہیں افغانستان کی تاریخ یا سوویت یونین کے خلاف جنگ کے بارے میں کوئی جانکاری تھی۔ ان کی زندگی ان کے تئیں اسلامی تعلیمات کے گرد گھومتی تھی اور ہر مشکل میں وہ خدا کو ہی یاد کرتے تھے۔
احمد رشید لکھتے ہیں کے طالبان ماضی سے ناواقف تھے، مستقبل ان کے لۓ کیا لارہا ہے وہ اس کی پیش بینی کرنے سے قاصر تھے۔ ایک بار طالبان کےساتھ سفر کے دوران ان کی باتوں سے احمد رشید کو احساس ہوا کہ طالبان میں بیشتر کا تعلق ایک ایسی نسل سے تھا جس نے زمانہ امن میں اپنا ملک نہیں دیکھا تھا۔ وہ اپنے گاؤں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ مختلف نسلوں اور قبیلوں کے لوگ کس طرح مل جل کر رہتے ہیں انہیں اس کا کچھ بھی اندازہ نہیں تھا۔ جنگ نے انہیں جو کچھ سکھایا وہ بس اسی کے بارے میں جانتے تھے۔
بقول احمد رشید: ”انہیں جنگ نے یتیم کردیا ہے۔ ان کی جڑیں نہیں، وہ ہمہ وقت مضطرب اور پریشان رہتے ہیں۔ ان کے پاس روزگار نہیں، وہ اقتصادی محرومی کا شکار ہیں، وہ جنگ کی تعریف کرتے ہیں کہ اسی کے سبب سے انہیں کوئی مشغلہ ملا ہوا ہے۔ ورنہ خود شناسی بھی نہیں۔”
طالبان کی ذہنی کیفیات کیا ہونگی؟ ان کی نفسیات نے کن حالات میں تشکیل پائی ہوگی؟ طالبان اپنے آباء و اجداد کے روایتی پیشوں سے ناواقف تھے: کاشتکاری کیسے کی جاتی ہے، مویشی کیسے پالے جاتے ہیں، دستکاری کیسے ہوتی ہے، انہیں اس کا کچھ بھی علم نہیں تھا۔ انہوں نے کبھی اپنی آنکھوں کے سامنے ایک ہی گاؤں میں مرد اور عورت کو بات کرتے ہوۓ نہیں دیکھا تھا۔ احمد رشید لکھتے ہیں: ”ان لڑکوں نے بڑی کٹھن زندگی گزاری۔ انہیں عورتوں کی رفاقت کا کچھ پتہ نہیں تھا۔”
اسطرح کے حالات میں پرورش پانیوالے طالبان نے افغانستان میں جو فیصلے کۓ وہ دنیا کے لۓ حیران کن ضرور ہونگے لیکن خود ان کے لۓ اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔
کیا ان تمام حالات کا نتیجہ ان کی شخصیت کے ادھورےپن کی شکل میں سامنے آیا ہے؟ |
|
 |