BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ جمعہ, 16.11.2001 - 21:18 جی ایم ٹی
محمد عاطف کون؟
اسامہ بن لادن اپنے ساتھیوں کے ساتھ
اسامہ بن لادن اپنے ساتھیوں کے ساتھ

تحریر: طفیل احمد
امریکی بمباری میں القاعدہ کے اعلیٰ رہنما محمد عاطف کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔ ان کی زندگی کے بارے میں معلومات کی کمی ہے۔ چونکہ القاعدہ زیادہ تر اسامہ بن لادن کے نام سے ہی جانی پہچانی گئی ہے، اسلۓ القاعدہ کے دیگر کارکنوں کی زندگی کی تفصیلات بہت کم سننے کو ملیں۔ لیکن وثوق کے ساتھ اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ محمد عاطف نوے کی دہائی میں سعودی منحرف اسامہ بن لادن کے فوجی حمکت عملی کے مشیرکار کی حیثیت سے ابھرے۔ وہ سرد جنگ کے دوران افغانستان میں روسی افواج کے خلاف جدوجہد میں سرگرم تھے اور انہیں ابو حافظ کے نام سے بھی جانا پہچانا جاتا تھا۔

ان کی پیدائش مصر میں 1958 میں ہوئی اور وہ مصر کی شدت پسند تنظیم الجہاد سے بطور ایک کارکن وابستہ تھے۔ اس تنظیم پر مصر کے صدر انورسادات کے قتل کا الزام ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ محمد عاطف نے القاعدہ میں شامل ہونے کے بعد بہت جلد اسامہ بن لادن کے قریبی مشیرکا درجہ حاصل کرلیا۔ اسی سال جنوری کے مہینے میں اسامہ بن لادن کے بیٹے سے محمد عاطف کی بیٹی کی شادی ہوئی۔ اس رشتے سے بھی محمد عاطف اور اسامہ بن لادن کے قریبی تعلقات کا اندازہ لگا یا جا سکتا ہے۔

القاعدہ میں شامل ہونے سے قبل محمد عاطف مصر کی پولس میں ایک افسر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ القاعدہ کے کارکنوں کی

محمد عاطف
تربیت میں سرگرم رہے ہیں۔ ان پر گیارہ ستمبر کو امریکہ میں ہونیوالے حملوں کی حکمت عملی تیار کرنے کا الزام ہے۔ امریکہ نے 1998 میں افریقہ میں امریکی سفارتخانوں پر ہونیوالے حملوں میں بھی انہیں مورد الزام ٹھرایا تھا اور انہیں پکڑنے کیلۓ پچاس لاکھ ڈالر کا انعام رکھا تھا۔ امریکہ کے تحقیقاتی ادارے ایف۔ بی۔ آئی نے انہیں دنیا کے بائیس مشکوک دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ گذشتہ مہینے برطانوی حکومت نے ایک دستاویز شائع کی تھی جسمیں بتایا گیا تھا کہ محمد عاطف کے ذمہ القاعدہ کے کارکنوں کی فوجی تربیت کا کام ہے۔ القاعدہ میں انہیں خاص عسکری معاملات کا ماہر سمجھاگیا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ القاعدہ میں دیگر فعال کارکن نہیں ہونگے لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اگر ان کی ہلاکت کی خبر سچ ہوتی ہے تو القاعدہ کی سرگرمیاں کافی متاثر ہونگی۔ گذشتہ کچھ دنوں تک ایسا سمجھا جارہا تھا کہ افغانستان میں امریکی بمباری سے طالبان اور القاعدہ کے اعلیٰ رہنما بچ کر نکل جائیں اور شاید گمنامی کی زندگی اختیار کر لیں گے لیکن محمد عاطف کی ہلاکت کی خبر سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ افغانستان میں امریکہ کے مخبر فعال ہیں۔ اور اب خود اسامہ بن لادن کی اپنی سیکیورٹی بھی ایک سوالیہ نشان میں تبدیل ہوگئی ہے۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright