 |
|
 |
| گرینچ جمعرات, 15.11.2001 - 21:49 جی ایم ٹی |
|
| کابل میں کیا نمائندہ حکومت ممکن ہوگی؟ |

برطرف صدر برہان الدین ربانی کی واپسی؟
|
تحریر: طفیل احمد
اسے افغانوں کا المیہ کہیۓ کہ کابل میں حکومت کے قیام کی کوششیں ایک بار پھر ملک کے اندر نہیں بلکہ ملک سے باہر ہو رہی ہں۔ افغانستان میں سیاسی خلاء کو پر کر نے کیلۓ اقوام متحدہ کے افغان سفیر لخدر براہمی نے تین تجاویز پیش کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلی کوشش یہ ہونی چاہۓ کہ افغانستان میں امن فوج صرف افغانوں پر مشتمل ہو۔ اگر مختلف قبائل اس پر متفق نہیں ہوتے تو ایک کثیرالملکی فوج تشکیل دی جاۓ اور اگر یہ بھی نہیں ہو سکتا ہے تو اقوام متحدہ اپنی امن افواج بھیجے۔
اقوام متحدہ کا کردار
کئی دیگر خطوں میں اپنے تلخ تجربات کی وجہ سے اقوام متحدہ خود اپنی افواج افغانستان میں نہیں اتارنا چاہتی ہے۔ بدھ کے روز مسٹر براہمی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنی تجاویز پیش کرنے والے ہیں اور اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ اقوام متحدہ کی قیادت میں ایک کثیرالملکی امن فوج پر اتفاق ہو جاۓ۔ ترکی میں منگل کے روز پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ مسلم ممالک پر مشتمل ایک امن فوج کو تشکیل دے اور اگر ضرورت پڑی تو پاکستان بھی اپنے فوجی فراہم کرے گا۔ لیکن غالباً شمالی اتحاد کو پاکستان کے فوجی قابل قبول نہیں ہونگے۔ ہندوستان اور ایران پہلے سے ہی شمالی اتحاد پر یہ دباؤ ڈالے ہوۓ ہیں کہ کابل میں کسی ایسی طاقت کو ابھرنے نہ دیا جاۓ جو پاکستان کے زیراثر ہو۔ ایسے حالات میں لخدار براہمی کے نائب فرانسس ویندریل پاکستان اور افغانستان کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ وہ ایک کثیرالملکی فوج کی ہیئت پر پاکستان اور شمالی اتحاد کا اتفاق حاصل کر سکیں۔ گیارہ ستمبر کے بعد سے چونکہ مغربی ممالک پر اسلام کے خلاف جنگ چھیڑنے کا الزام رہا ہے اسلۓ امریکہ اور برطانیہ بھی چاہتے ہیں کہ مسلم ممالک کی افواج ہی افغانستان میں داخل ہوں۔ امریکی وزیر خارجہ کولن پاؤل نے یہ کہا ہے کہ ترکی، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش اپنے فوجی افغانستان بھیجنے کیلۓ رضامند ہوگۓ ہیں۔
کثیرالملکی امن فوج
یاد رہے کہ مغربی ممالک خود بھی یہ نہیں چاہتے ہیں کہ ان کے اپنے فوجی افغانستان کی پرخطر پہاڑیوں میں ایک نہ ختم ہونیوالی ممکنہ گوریلا جنگ میں پھنس جائیں۔ البتہ برطانیہ نے کہا ہے کہ ہزاروں برطانوی فوجی افغانستان میں قیام امن کی خاطر کابل اور مزارشریف جانے کے لۓ تیار ہیں۔ شمالی اتحاد نے جتنی برق رفتاری سے کابل پر قبضہ کیا تھا اس پر مغربی ممالک کو خدشہ لاحق ہوگیا ہے کہ افغان حکومت سے پشتون اکثریت کو کہیں محروم نہ کر دیا جاۓ۔ جدید تہذ یب میں اقتدار تک رسائی کیلۓ چاہے جمہوریت ہی واحد ذریعہ کیوں نہ تصور کیا جاتا ہولیکن اسے افغانوں کی بدقسمتی کہیۓ کہ وہاں اقتدار انہی کے ہاتھوں میں رہا ہے جنکے پاس طاقت رہی ہے۔ آج افغانستان میں طاقت کے نام پر جو کچھ بھی ہے وہ یا تو شمالی اتحاد کے پاس ہے یا طالبان کے پاس جو اب بکھر چکے ہیں۔ آج اقوام متحدہ سمیت مغربی ممالک اس کوشش میں ہیں کہ شمالی اتحاد ایک نمائندہ حکومت میں پشتون اکثریت کو ان کا جائز حق دے۔ لیکن کابل پر شمالی اتحاد کا قبضہ ہے اور ان سے یہ بات تسلیم کروانا آسان کام نہیں ہوگا۔
خبروں کے مطابق افغانستان کے برطرف صدر برہان الدین ربانی پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ کسی بھی نمائندہ حکومت میں سابق طالبان کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ مغربی ممالک کے لۓ برہان الدین ربانی کو اقتدار کی لڑائی سے باہر کرنا آسان کام ہوگا لیکن یاد رہے کہ بیشتر ممالک انہیں آج بھی افغانستان کا صدر تسلیم کرتے ہیں۔ روس بھی ان کی حمایت کرتا رہا ہے۔ گذشتہ مہینے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے مسٹر ربانی کو صدر کہہ کر خطاب کیا تھا۔ لیکن دنیا کی نظریں سابق شاہ محمد ظاہر شاہ پر ٹکی ہوئی ہیں۔ مغربی ممالک ان کی قیادت میں ایک عبوری حکومت کی تشکیل میں مصروف ہیں لیکن مسٹر ربانی نے یہ بات واضح الفاظ میں کہی ہے کہ ظاہر شاہ کابل میں ایک عام شہری کی حیثیت سے ہی آسکتے ہیں۔
ظاہر شاہ کی واپسی؟
ظاہر شاہ کی قیادت میں حکومت بنانے کی پہلی کوشش کو اس وقت دھچکا پہنچا تھا جب 120 ممبران پر مشتمل ایک سپریم کونسل کی تشکیل کی تجویز پیش کی گئی تھی لیکن پشتون اکثریت نے اپنے نمائندے نامزد کرنے سے اسلۓ انکار کردیا تھا کہ شمالی اتحاد کو بھی انہی کے مساوی 60 نمائندے بھیجنے کا حق کیوں دیا گیا۔ عبوری انتظامیہ اقوام متحدہ کی قیادت میں قائم تو ہو رہی ہے لیکن کیا وہ افغان قبائل اور افغانستان کے پڑوسی ممالک کو منظور ہوگی؟ اسکا جواب آنے والے دنوں میں ہی سامنے آۓ گا۔ البتہ اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ایک بار پھر افغان بیرونی قوتوں کے مرہون منت ہیں۔
|
|
 |