صحافی سلیم شہزاد کے قتل سے متعلق کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ان کے قتل کے لیے کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔
اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
صحافی شہزاد سلیم جنہیں چھ ماہ قبل اسلام آباد میں اغواء کیا گیا تھا اور ان کی لاش منڈی بہاؤ الدین سے ملی تھی۔ ان کے قتل کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں ایک کمیشن بنایا گیا تھا۔ کئی لوگوں نے یہ الزام لگایا تھا کہ ان کے قتل میں آیی ایس آئی کا ہاتھ تھا۔
کمیشن نے جمعہ کو ایک رپورٹ جاری کی ہے اور اس میں سلیم شہزاد کے قتل کے لیے کسی تو ذمہ دار نہیں ٹہرایا۔ شفیع نقی جامعی نے سلیم شہزاد کے برادرِ نسبتی حمزہ امیر سے بات کی۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔