پہلے جدید اولمپکس میں اول نمبرپر آنے والے کھلاڑیوں کو سونے کے بجائے چاندی اور دوسرے نمبر پر آنے والوں کو تانبےکے تمغے دیے گئے تھے۔ ان سکوں کے سامنے والے حصے پر یونانی دیوتاؤں کے دیوتا زیس کو فتح کی دیوی نائیکی ۔کو ہاتھ میں لیے کھڑے دکھایا گیا۔ سکے کی پشت پرروایتی یونانی قعلے کا عکس تھا۔
طلائی، چاندی اور کانسی کے تمغے پہلی مرتبہ دیے گئےجبکہ ڈسکس کے درمیان تمغہ ایک مستطیل شکل میں بنایا گیا۔ اس کے سامنے والے حصے پر فتح کی دیوی نائیکی بنی ہوئی تھی اور پشت پر ایک کامیاب اتھلیٹ کی شبہیہ تھی۔
ان تمغوں پر ایک اتھلیٹ کا عکس تھا جو فتح کا نشان اٹھائے ہوئے تھا۔ نائیکی کا نشان پشت پرتھا۔
شاہ جارج پنجم کے دور کے سکے اور ٹکٹوں کو ڈیزائن کرنے والے مشہور آسٹریلین ڈیزائنر بٹرام میکانیل نے تمغے ڈیزائن کیے۔ ان تمغوں پر دو خواتین کو ایک اتھلیٹ کے سر پر تاج پہناتے ہوئے دکھایا گیا اسپرانگلینڈ کے سینٹ جارج کو بھی دکھایا گیا۔
سٹاک ہوم کے تمغوں پرایک ہرکارے کو کھیلوں کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس پرسویڈن میں جمانسٹک کے بانی پہر ہینرک لنگ کی تصویر بھی تھی۔
اس پریونانی دیومالائی کردار سلویس برابو کا عکس ہے جس کے بارے میں روایت ہے کہ اس نے ایک دیو درون اینٹگون کا ہاتھ آنٹورپ کے دریا شلت میں پھینک دیا تھا۔
کھیل کو کھیل کے طور پر لینے کے جذبے کے تحت تمغوں کے سامنے والے حصے پر ایک اتھلیٹ کو دوسرے اتھلیٹ کو اٹھنے میں مدد کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس کی پشت پر ایک ساز اور آلہ کھیل بنا ہوا تھا۔
فلورنٹائن مجسمہ ساز اور مصور جوزیہ کاسیولی نے تمغے ڈیزائن کرنے کا آئی او سی کا مقابلہ جیتا اور انیس سو اٹھائیس سے انیس سو اڑسٹھ تک تمغوں کا ڈیزائن یکساں رہا۔
تمغے کے سامنے والے حصے پر فتح کی دیوی نائیکی کی تصویر ہے جو ہاتھ میں جیتنے والے کا تاج اورپام کی ٹہنی لیے کھڑی ہے اوراس کی پشت پر ایک جیتنے والے کھلاڑی کا عکس ہے جسے لوگ کندھوں پراٹھائے ہوئے ہیں۔
فلورنٹائن مجسمہ ساز اور مصور جوزیہ کاسیولی نے تمغے ڈیزائن کرنے کا آئی او سی کا مقابلہ جیتا اور انیس سو اٹھائیس سے انیس سو اڑسٹھ تک تمغوں کا ڈیزائن یکساں رہا۔
تمغے کے سامنے والے حصے پر فتح کی دیوی نائیکی کی تصویر ہے جو ہاتھ میں جیتنے والے کا تاج اورپام کی ٹہنی لیے کھڑی ہے اوراس کی پشت پر ایک جیتنے والے کھلاڑی کا عکس ہے جسے لوگ کندھوں پراٹھائے ہوئے ہیں۔
فلورنٹائن مجسمہ ساز اور مصور جوزیہ کاسیولی نے تمغے ڈیزائن کرنے کا آئی او سی کا مقابلہ جیتا اور انیس سو اٹھائیس سے انیس سو اڑسٹھ تک تمغوں کا ڈیزائن یکساں رہا۔
تمغے کے سامنے والے حصے پر فتح کی دیوی نائیکی کی تصویر ہے جو ہاتھ میں جیتنے والے کا تاج اورپام کی ٹہنی لیے کھڑی ہے اوراس کی پشت پر ایک جیتنے والے کھلاڑی کا عکس ہے جسے لوگ کندھوں پراٹھائے ہوئے ہیں۔
فلورنٹائن مجسمہ ساز اور مصور جوزیہ کاسیولی نے تمغے ڈیزائن کرنے کا آئی او سی کا مقابلہ جیتا اور انیس سو اٹھائیس سے انیس سو اڑسٹھ تک تمغوں کا ڈیزائن یکساں رہا۔
تمغے کے سامنے والے حصے پر فتح کی دیوی نائیکی کی تصویر ہے جو ہاتھ میں جیتنے والے کا تاج اورپام کی ٹہنی لیے کھڑی ہے اوراس کی پشت پر ایک جیتنے والے کھلاڑی کا عکس ہے جسے لوگ کندھوں پراٹھائے ہوئے ہیں۔
فلورنٹائن مجسمہ ساز اور مصور جوزیہ کاسیولی نے تمغے ڈیزائن کرنے کا آئی او سی کا مقابلہ جیتا اور انیس سو اٹھائیس سے انیس سو اڑسٹھ تک تمغوں کا ڈیزائن یکساں رہا۔
تمغے کے سامنے والے حصے پر فتح کی دیوی نائیکی کی تصویر ہے جو ہاتھ میں جیتنے والے کا تاج اورپام کی ٹہنی لیے کھڑی ہے اوراس کی پشت پر ایک جیتنے والے کھلاڑی کا عکس ہے جسے لوگ کندھوں پراٹھائے ہوئے ہیں۔
فلورنٹائن مجسمہ ساز اور مصور جوزیہ کاسیولی نے تمغے ڈیزائن کرنے کا آئی او سی کا مقابلہ جیتا اور انیس سو اٹھائیس سے انیس سو اڑسٹھ تک تمغوں کا ڈیزائن یکساں رہا۔
تمغے کے سامنے والے حصے پر فتح کی دیوی نائیکی کی تصویر ہے جو ہاتھ میں جیتنے والے کا تاج اورپام کی ٹہنی لیے کھڑی ہے اوراس کی پشت پر ایک جیتنے والے کھلاڑی کا عکس ہے جسے لوگ کندھوں پراٹھائے ہوئے ہیں۔
تمغوں کا ڈیزائین تو تقریباً وہی رہا لیکن ان کے اردگر پتوں اورزنجیر کا تاج بنا دیا گیا۔ مزید یہ کہ اسکے سامنے والے عکس کو پشت کے عکس سے بدل دیا گیا۔
فلورنٹائن مجسمہ ساز اور مصور جوزیہ کاسیولی نے تمغے ڈیزائن کرنے کا آئی او سی کا مقابلہ جیتا اور انیس سو اٹھائیس سے انیس سو اڑسٹھ تک تمغوں کا ڈیزائن یکساں رہا۔
تمغے کے سامنے والے حصے پر فتح کی دیوی نائیکی کی تصویر ہے جو ہاتھ میں جیتنے والے کا تاج اورپام کی ٹہنی لیے کھڑی ہے اوراس کی پشت پر ایک جیتنے والے کھلاڑی کا عکس ہے جسے لوگ کندھوں پراٹھائے ہوئے ہیں۔
فلورنٹائن مجسمہ ساز اور مصور جوزیہ کاسیولی نے تمغے ڈیزائن کرنے کا آئی او سی کا مقابلہ جیتا اور انیس سو اٹھائیس سے انیس سو اڑسٹھ تک تمغوں کا ڈیزائن یکساں رہا۔
تمغے کے سامنے والے حصے پر فتح کی دیوی نائیکی کی تصویر ہے جو ہاتھ میں جیتنے والے کا تاج اورپام کی ٹہنی لیے کھڑی ہے اوراس کی پشت پر ایک جیتنے والے کھلاڑی کا عکس ہے جسے لوگ کندھوں پراٹھائے ہوئے ہیں۔
چوالیس برس میں پہلی مرتبہ میونخ کے منتظمین نے روایت سے ہٹتے ہوئے تمغوں کی پشت پر گریہارڈ مارکس سے ایک عکس بنوایا جس میں یونانی دیومالائی کرداروں کاسٹرو اور پولکس کی تصاویر بنائیں۔ ان دونوں بھائیوں کی ماں لیدا تھیں لیکن ان کے باپ سپارٹن کے بادشاہوں تھینڈرس اور زیس تھے۔
تمغوں کی پشت کے ڈیزائن کے انداز کو برقرار رکھا گیا صرف اس میں پتوں کے تاج اور میزبان شہر کے اولمپک کے نشان کا اضافہ کر دیا گیا۔
میزبان شہرکا لوگو تمغوں کی پشت پر بنانے کی روایت جاری رکھی گئی جسکے نیچے سٹیڈیم اور اولمپک مشعل کی تصویر بنائی گئی تھی۔
تمغے کا ڈیزائن پھر کاسیولی کی طرز پر بنا دیا گیا لیکن اس میں امریکی مصور ڈوگالڈ سٹریمر نے کچھ اختراع کی۔
تمغوں کے ڈیزائن میں پھر جدت کی گئی جس میں ایک فاختہ کوایک شاخ کے ساتھ دکھایا گیا اور اس پر سیئول اولمپک کا لوگو بھی بنایا گیا تھا۔
سپین کے مشہور مجسمہ ساز ہاویر کوربیرو تمغے کے سامنے والے حصے پر نائیکی کی شبہیھ واپس لائے اورانہوں نے پشت پر بارسلونا اولمپکس کا لوگو بنایا ۔
روایتی نائیکی کا ڈائزائن واپس آیا ۔ تمغے کی پشت پر ایٹلانٹا کا لوگو، اولمپکس مشعل اور ستارے اور ایک شاخ جو کہ جدید دور کے سوویں سال کی عکاسی کرتی تھی۔
اس ڈیزائن نےاس وقت ایک تنازع کھڑا کر دیا جب کچھ ناقدین نے یہ نکتہ اٹھایا کہ تمغے کا سامنے والا حصہ یونانی روایت کی عکاسی نہیں کرتا اور رومی کلاسیم کا عکاس ہے۔ سکوں کا ڈیزائن بنانے والے آسٹریلوی فن کار ووسیچ پیترانیک نے تمغے کی پشت پر اولمپک مشعل اور سڈنی اوپیرا ہاؤس کا عکس بنا دیا۔
یونانی یونان کی طرف لوٹ گئے اور نائیکی کا عکس بنایا گیا جو 1896 کے پیناتھانک سٹیڈیم کے اوپر محوپرواز ہے اور طاقتوروں، تیزرفتاروں اور طویل قامت کھلاڑیوں کو فتح سے ہمکنار کرتی ہے۔
یونانی دیوتا اور سٹیڈیم سامنے حصے پر رہے۔ پشت پر مقدس چینی پتھر لگایا گیا
یہ اب تک کے سرمائی اولمپکس کا سب سے بڑا تمغہ تھا۔ فن کار ڈیویڈ ایٹکنز کا کہنا ہے کہ اس کے سامنے اور پشت کے حصے پردیوی نائیک
ایک سکیئر کوہ سفید کے سامنے ایک ہاتھ میں سکی اور دوسرے میں سکیٹس لیے کھڑا ہے۔ راؤل برنارڈ نے ایک کونے میں اپنا نام بھی کندہ کیا۔
ناروے کی ابھرتی ہوئی اتھلیٹ سونجا ہینی نے سکیٹنگ میں تین طلائی تمغے جیتے ۔ اس لیے تمغے پر سکیٹر کی تصویر بنائی گئی جو برفباری کے درمیان اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے دکھائی گئی۔
اس پرنائیکی کو کوہ اڈیرونڈک پر دکھایا گیا اور اس کے نیچے اولمپک سٹیڈیم اور سکی جمپ کے عکس تھے۔
نازیوں کے میڈل ڈیزائنر رچرڈ کلین نے نائیکی کو ایک بگی دوڑاتے ہوئے دکھایا اور سرمائی کھیلوں کے آلات نیچے بنائے گئے۔
تمغوں کے اوپر ایک مرتبہ پھر برف کے گالے اور اولمپک کی مشعل دکھائی گئی اس کے علاوہ اولمپک کا موٹو تیز، اونچا اور طاقت ور بھی تھا۔
تمغے کی پشت پر اوسلو کے سٹی ہال کی تصویر تھی جس کا افتتاح دو سال قبل ہی ہوا تھا اور اسے ہی اولمپیک کی علامت بنایا گیا تھا۔
کوسنٹنٹینو آفر نے میلانی اولمپک دائروں اور اپنی آئڈیل وومن کے ڈیزائن کو کوہ پوماگانیوں کے پس منظر میں پیش کیا۔
اس کا محور نوجوان کھلاڑی رہے اور دائروں کے نیچے کی جگہ کو خالی چھوڑ دیا گیا تھا تاکہ کھیل کا نام کندہ کیا جا سکے۔
تمغے کے ایک طرف ایک ڈیزائنر نے تخلیق کی اور دوسری طرف کا ڈائزائن دوسرے ڈیزائنر نے بنایا۔ مارتھا نے کوہ تورلوف کو سامنے کے حصے پر بنایا۔ آرتھر زیگلر نے پچھلے حصہ پر اولمپک دائروں کو شہر کے پل کے نشان کے ساتھ بُن دیا۔
راجر اکسوفون نے برف کے گالے اور سرخ گلاب اور گرانوبل کی علامت اور پشت پر ہر کھیل کی تصویر کشی کی۔
سامنے والے حصے پر برف دکھائی گئی اور پچھلے حصہ پر ابھرتے ہوئے سورج ، برف کے گالے اور اولمپک کے دائرے بنائے گئے۔
مارتھا کوفال نے پھر اینسبروک کی علامت اور دائرے بنائے۔ پشت پر جدید طرز ایلپس اور برژیسل کے سکئی کرنے کا علاقہ اور اولمپک آلاؤ۔
صنوبر کے درخت کی شاخ اورکوہ آدیرونداک کا عکس تمغے پر بنایا۔
نبوژا میٹرک کا زبردست ڈیزائن کھیلوں کا نشان اور روئی کے گالے سامنے والے حصہ پر بنےاور پشت پر ایک اتھیلٹ کو پتوں کا تاج پہنے ہوئِے دکھایا گیا۔
قوم کے مرد اول کے سر کا پہناوا سرمائی کھیلوں کے آلات سے بنایا گیا ۔ برف کے گالے اور میپل کے پتے کی علامت بنائی گئی تھی اس پر کیلگری اور کینیڈا کی سی بھی بنائی گئی تھیں۔
یہ پہلے سرمائی اولمپک تھے جن میں تمغوں کا میٹیریل تبدیل کیا گیا۔ لالیک نے ہاتھ سے بنایا ہوا شیشہ اورسونا استعمال کیا۔ اولمپک کے دائرے کے پس منظر میں ایلبرٹ وائل کی پہاڑیاں دکھائی گئیں۔
اینگریدہانوولد نے گرینائٹ کو بنیادی میٹریل کے طور پر استعمال کیا جس سے ناروے کے لوگوں کا قدرت سے لگاؤ ظاہر ہوتا تھا۔ انھیں امید تھی کہ سکی مین کا ڈیزائن لوگوں کے تفنن ، سنجیدگی اور آسانی سے شناخت کیا جا سکنے والا نشان ثابت ہو گا۔
روایتی کسو سیال استعمال کیا گیا جس پر سونا چھڑکا گیا ۔ کھیلوں کی علامت میں کھلاڑیوں کواولمپک میں مقابلہ کرتے دکھایا گیا۔
ایک وزنی ترین میڈل جس کی شکل یوٹا دریا میں پائی جانے والے پتھروں کی طرح تھی۔ پشت کا ڈیزائن تبدیل کیا گیا جس میں نائیکی کو ہر جیتنے والے اتھیلیٹ کو گلے لگاتے دکھایا گیا۔ سالٹ لیک مشعل کی طرح انھوں نے اسی’اندر کی آگ کو جلانے ‘ کے موضوع کو آگے بڑھایا اور ایک اتھلیٹ کو برف اور چٹانوں سے ابھرتے ہوئے دکھایا گیا۔
اس میں ایک سوراخ تھا جیسے اولمپک کا دائرہ یا اطالوی پیزا۔ اس کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ اتھلیٹس کے گلے میں لٹکے ہوئے یہ لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرے۔
اس تمغے کو دوبارہ قابل استعمال مواد سے بنایا گیا تھا۔ اس کو نو مختلف طریقوں سے بنایا گیا اور ہر ایک میں وینکور کے قدرتی مناظر کی عکاسی کی گئی تھی ان میں کورین ہنٹ کے فن کام کی جھلک بھی آتی تھی۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔