آخری وقت اشاعت:  منگل 27 جولائ 2010 ,‭ 15:20 GMT 20:20 PST

صحافیوں کو فوج کی کار کردگی دکھائی گئی

میڈیا پلئیر

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں حالیہ برسوں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور حالات کی اس ابتری کا ایک سبب وہاں محدود پیمانے پر موجود مسلح مزاحمت یا شورش کو سمجھا جاتا ہے جس نے چار سال پہلے نواب اکبر بگٹی کی فوجی حملے میں ہلاکت کے بعد زور پکڑا ہے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے مرکزی حکومت نے کئی اعلانات کیے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد اب تک ایک سوال ہی رہا ہے۔ ایسے میں گزشتہ دنوں پاکستانی فوج نے اسلام آباد کے ملکی اور غیرملکی صحافیوں کی ایک ٹیم کو بلوچستان کے مختلف حصوں کا دورہ کرایا اور یہ دکھانے کی کوشش کی کہ مقامی لوگوں کی بہتری کے لیے فوج کیا کچھ کررہی ہے۔ اس ٹیم میں ہمارے ساتھی احمد رضا بھی شامل تھے۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔