Thursday, 13 November, 2008, 12:53 GMT 17:53 PST
عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پرسوں ایک صاحب سے تعارف ہوا جو ایک نیم سرکاری محکمے میں اعلٰی عہدے پر فائز ہیں اور دفتری اوقات کے بعد ایک شبینہ کالج میں پرنسپل کے فرائض بھی ادا کرتے ہیں۔ ہم اس ڈبل ڈیوٹی ہی سے خاصے متاثر ہوچُکے تھے کہ جاتے جاتے انھوں نے ایک اور انکشاف فرمادیا۔ پتہ چلا کہ موصوف ایک روزنامے میں کالم بھی لکھتے ہیں اور اجنبیوں سے اپنا بنیادی تعارف ایک کالم نگار کے طور پر ہی کراتے ہیں۔
اس پر ہمیں تحریک ہوئی کہ ذرا پتہ لگایا جائے آخر ہمارے کتنے دوست آج کل شغلِ کالم نگاری میں مشغول ہیں؟ چنانچہ کل صبح ہم نے اور کوئی کام کرنے کی بجائے کالم شماری کا عزم کیا۔ ہر اخبار میں اوسطاً دس بارہ کالم موجود تھے اور ہمارے دفتر میں آنے والے سات اخبارات میں سے کُل بیاسی (82 ) کالم برامد ہوئے۔
جو اخبارات ہم نہیں پڑھتے کالم تو اُن میں بھی ہر روز چھپتے ہیں گویا یہ اندازہ غلط نہ ہوگا کہ آج کل ملکِ عزیز کے معروف روزناموں میں کم از کم ایک سو کالم روز چھپ رہے ہیں۔
اِن میں ’اصلی تے وڈّے‘ کالم نگار تو ہم صرف انھی کو سمجھتے ہیں جن کا روزی روزگار کالم نویسی سے جڑا ہے، باقی لوگوں میں سے کچھ شوقیہ فن کار ہیں اور کچھ گلی محلّے میں ’تڑی‘ قائم رکھنے کےلئے کالم نویسی کرتے ہیں۔ اگرچہ انکے لکھے ہوئے کسی کالم کی بنیاد پر نہ تو کارپوریشن کے نلکوں میں پانی کی دھار تیز ہوئی ہے اور نہ کوئی ٹوٹی ہوئی نالی مرمت ہوئی ہے لیکن پھر بھی اپنے زورِ قلم کی بنیاد پر یہ لوگ محلّے کے پرائمری سکول میں سالانہ تقسیمِ انعامات کی تقریب کے دوران کرسی صدارت پر متمکن نظر آتے ہیں اور یوں اپنی کالم نویسی کی داد پاتے ہیں۔
ہمارے ایک دوست نئے نئے کالم نگاروں کے کلب میں داخل ہوئے، لیکن انکا کالم اتنے غیر معروف اخبار میں چھپتا تھا کہ کسی نے نام بھی
نہ سنا تھا۔ چنانچہ وہ صاحب ہر جمعے کو اپنے مطبوعہ کالم والے اخبار کی بیس پچیس کاپیاں رعائتی نرخ پر خریدتے اور کسی مشّاق ہاکر
کی طرح آواز لگا کر دوستوں کے گھروں میں پھینک آتے۔ کچھ عرصہ بعد جب ان کے بجٹ پر پڑنے والا ناروا بوجھ بیوی کے طعنوں میں بدل
گیا تو انھوں نے پورا اخبار پیش کرنے کی بجائے اپنے کالم کی فوٹو کاپیاں دوستوں میں تقسیم کرنی شروع کردیں۔ آجکل انھوں نے آئی
ٹی کا خاصا عِلم حاصل کر لیا ہے چنانچہ ہر دوسرے تیسرے دِن اُن کا تازہ کالم ایک ای میل کی شکل میں دوستوں کے کمپوٹر پر نمودار
ہوجاتا ہے۔ مشکل صرف یہ ہے کہ اِن صاحب کے ایسے کالم بھی دوستوں تک پہنچ جاتے ہیں جو کبھی زیورِ طبع سے آراستہ نہ ہو سکے۔
|
|
|
|
اور کوئی دو ہزار نثری اور نظمی الفاظ کے بعد اس شعر پر ختم ہوتا ہے:
صادق ہوں اپنے قول میں غالب خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
اِن دو اشعار کے درمیان جو نثری موتی پروئے گئے ہیں اسکے لئے بھی نمونہ کلام حاضر ہے۔
’نا خدا کو خدا کا رتبہ دینے میں ہماری بیوروکریسی اور خوشامدیوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ مشرف صرف ایف اے پاس تھا جو ہم عموماً چپڑاسی کے طور پر بھرتی کرتے ہیں۔ ایک غلط طریقہء ترقی سے ہمارا سپہ سالار بن گیا اور ہمیں یہ دیکھ کر قے آتی تھی کہ یہ کم عقل نہایت تعلیم یافتہ لوگوں کو اور ماہرین کو، معاشیات، تعلیم، خارجہ، زراعت، صنعت پر سامنے بٹھا کر لیکچر دیا کرتا تھا اور وہ اسکے آگے گردن ہلا ہلا کر واہ واہ کیا کرتے تھے۔۔۔‘
تو یہ تھے عبدالقدیر خان کے کالم کی دیگ سے لئے ہوئے محض چند چاول۔ خدا انھیں صحت اور زندگی دے اور ہم اس دیگ کا مزیدار پلاؤ ہر روز چکھتے رہیں۔