BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 October, 2008, 11:43 GMT 16:43 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
ان دنوں کی بات ہے!
 

 
 
تعلیم نے ایک صنعت بن گئی۔۔۔۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہسپتال میں علاج اور سکول میں پڑھائی خالص تھی۔ معالج اور استاد حرص و طمع کے فیوض و برکات سے نا آشنا تھے۔ جب پیدل ڈاکٹر اور زنگ آلود سائیکل پر سوار استاد کوچہ و بازار سے گزرتا تھا تو ہر طرف سے ڈاکٹر صاحب سلام، استاد جی آداب کی آوازیں آتی تھیں۔ ہر راہ چلتا ایسا مؤدب ہوجاتا جیسے شاہی سواری گزر رہی ہو۔

ڈاکٹر اور استاد دونوں مسیحا تھے۔اہلِ محلہ کے باپ تھے۔ دونوں کے دونوں طبقاتی اونچ نیچ سے قطع نظر بچے کی جسمانی و ذہنی صحت کے مسیحا و امین تھے۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب کوئی بھی زن و مرد بچے کی انگلی پکڑے بے دھڑک استاد کے کمرے میں گھس جاتا تھا۔’ماسٹر جی آج سے اس بچے کی چمڑی آپ کی اور ہڈیاں ہماری۔ بس اسے کسی قابل کردیجئے!‘ اور استاد بچے کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتا: ’آپ بے فکر ہو کر جائیں اب یہ بچہ ہماری ذمہ داری ہے۔‘

 پھر سب کچھ بدل گیا اور پچھلے بیس پچیس برس میں ہی بدل گیا۔ تعلیم صنعت میں، استاد مشین میں اور بچے کرنسی نوٹ میں تبدیل ہوتے چلےگئے۔ اور ہاں! یہ ان دنوں کی بات ہے جب پانچ اکتوبر عالمی یومِ استاد قرار نہیں پایا تھا۔ اس دور کے استاد کے لئے ہر دن پانچ اکتوبر ہوتا تھا۔
 
یہ ان دنوں کی بات ہے جب اساتذہ سکول کے بعد بھی شاگردوں کی جاسوسی کروایا کرتے تھے۔ بچے کی صحبت کیسی ہے ؟ سکول کے بعد سیدھا گھر گیا یا آوارہ گردی میں پڑ گیا؟ گھر میں اس کی خوراک و صحت کا کتنا خیال رکھا جارہا ہے ؟ زیادہ لاڈ پیار سے بگاڑا تو نہیں جا رہا؟ کس کس بچے نے کونسی کلاس اٹینڈ نہیں کی؟ بھگوڑے بچوں کی باقاعدہ فہرست بنتی تھی اور اگلے روز صبح ہی صبح سکول کی اسمبلی کے سامنے انہیں ہتھیلی پر دو دو ڈنڈوں اور تضیحک کا نشانہ بننا پڑتا تھا۔ یونیفارم کے میلے ہونے، ناخن نہ کاٹنے اور ہوم ورک مکمل نہ ہونے پر والدین کو سکول میں طلب کرلیا جاتا تھا۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب بچہ صرف کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے اسباق کا قیدی نہیں بنا تھا۔ اسے یا تو ہفتہ وار بزمِ ادب کی کسی تحریری و تقریری سرگرمی میں یا پھر فٹ بال، والی بال، ہاکی، کرکٹ یا بیڈ منٹن کی ٹیم میں نام لکھوانا پڑتا تھا۔ جو بچہ ہچکچاتا تھا وہ اپنے ہم جولیوں اور اساتذہ کی نظروں میں نکو بنتا تھا اور نکھٹو کہلاتا تھا۔ایسے کام چور اور پڑھائی میں کمزور بچوں کی سزا یہ ہوتی تھی کہ وہ علی الصبح یا اسکول کے بعد اضافی کلاس میں بیٹھیں۔ان کلاسوں میں اوور ٹائم اور تعریف سے بے پرواہ اساتذہ کمزور بچوں کو اپنے ذہین ساتھیوں کے برابر لانے کے لئے سرتوڑ کوششیں کرتے تھے۔

جب ان پیلے سرکاری اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھے ہوئے بچے عملی زندگی میں کسی مقام پر پہنچتے تھے تو سب سے پہلے ایک ایک استاد کے پاس مٹھائی اور پھول لے کر جاتے اور استاد انہیں نمناک آنکھوں سے گلے لگا لیتے۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب استاد کو اپنی تنخواہ کے حصول کے لئے سڑک پر پولیس کے ڈنڈے نہیں کھانے پڑتے تھے۔ جب ٹیچر کی تقرری کسی رکنِ اسمبلی یا وزیر کی پرچی یا مٹھی گرم کرنے پر نہیں بلکہ منشی فاضل، ادیب فاضل، پی ٹی سی، بی ایڈ اور ایم ایڈ کی بنیاد پر ہوتی تھی۔ جب یہ مقابلہ نہیں تھا کہ کس ٹیچر کا ٹیوشن سینٹر کتنا رش لے رہا ہے۔ بلکہ یہ مقابلہ ہوتا تھا کہ کس استاد کی کلاس کے کتنے بچے فرسٹ ڈویژن میں کامیاب ہوئے ہیں۔

پھر سب کچھ بدل گیا اور پچھلے بیس پچیس برس میں ہی بدل گیا۔ تعلیم صنعت میں، استاد مشین میں اور بچے کرنسی نوٹ میں تبدیل ہوتے چلےگئے۔

اور ہاں! یہ ان دنوں کی بات ہے جب پانچ اکتوبر عالمی یومِ استاد قرار نہیں پایا تھا۔ اس دور کے استاد کے لئے ہر دن پانچ اکتوبر ہوتا تھا۔

 
 
بات سے بات بارودی وزیٹنگ کارڈ
نائن الیون قسطوں میں پاکستان پر اتر رہا ہے
 
 
یہ عالی جناب لوگ!
سچ سن کر وہ سکتے میں کیوں آجاتے ہیں؟
 
 
بات سے بات ناپا پر ’چھاپہ‘
ناپا کو ثقافت کے فروغ کی سزا ملنی چاہیئے
 
 
بات سے بات اتحاد، تنظیم اور مکر
اتحاد، تنظیم، یقینِ محکم کی جگہ نیا نعرہ
 
 
یہ کسے جوابدہ ہیں؟
آئی ایس آئی اور پاکستانی حکومتیں
 
 
بدنیتی کو تین طلاق !
ملک کی سمت کیا ہے کوئی نہیں جانتا
 
 
 بات سے بات اب کیا حکم ہے !
حکومت اپنے ہی وعدوں کے جال میں گھر گئی ہے
 
 
اسی بارے میں
بلی خود گھنٹی باندھے!
25 May, 2008 | قلم اور کالم
مہلت نہیں رہی !
15 June, 2008 | قلم اور کالم
یادِ مسلسل کیسے ہو !
22 June, 2008 | قلم اور کالم
یہ معصوم ادائیں !
29 June, 2008 | قلم اور کالم
اب کیا حکم ہے !
06 July, 2008 | قلم اور کالم
بدنیتی کو تین طلاق !
13 July, 2008 | قلم اور کالم
مہنگا ترین ووٹ !
20 July, 2008 | قلم اور کالم
یہ کسے جوابدہ ہیں؟
27 July, 2008 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد