|
ساٹھ برسوں میں کس کی ترقی ہوئی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل مشرف کی صدارت میں چلنے والی حکومت پاکستان کا دعوٰی ہے کہ گذشتہ آٹھ برسوں میں جس تیز رفتاری سے ملک نے اقتصادی ترقی کی ہے اتنی ساٹھ سالوں میں نہیں ہوئی۔ حکومت کے مطابق سن دو ہزار سات کے مالی سال کے پہلے چند ماہ کے دوران اقتصادی ترقی کی شرح چھ اعشاریہ چھ فیصد رہی اور اس سال گندم اور کپاس کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے مگر اقوام متحدہ کے ترقیاتی پرگرام کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی پچھہتر فیصد آْبادی اب بھی غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے اور ایک شخص کی یومیہ آمدنی محض دو ڈالر ہے جو کئی برسوں سے بڑھ نہیں پائی ہے۔ پاکستان کی تیسری نسل سے وابستہ معاشیات کی طالبہ شافعہ کہتی ہیں کہ پاکستان کی معیشت میں یقینی طور پر بہتری آئی ہے مگر ملک کے اقتصادی وسائل کو مناسب اور مساوی طور پر تقسیم نہ کیے جانے کی وجہ سے اس کا فائدہ معاشرے کے پسماندہ طبقے کو نہیں ہوا اور اس ترقی کے نتیجے میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ بیشتر لوگوں کا ماننا ہے کہ آمدنی میں کسی حد تک ضرور اضافہ ہوا ہے مگر اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث گرہستی چلانا مشکل ہو رہا ہے۔ ایک سرسری اندازے کے مطابق متوسط گھرانے کی ایک خاتون ِخانہ پانچ سے دس ہزار روپےگھر گرہستی پر خرچ کرتی ہے اور وہ اس رقم سے صرف چار افراد پر مشتمل خاندان کو دو وقت کی روٹی کھلا سکتی ہے۔ معاشیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ نائن الیون کے بعد پاکستان کو اب تک دس ارب ڈالر کی امداد حاصل ہوئی ہے جس کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا بیشتر حصہ ترقیاتی کاموں پر صرف کیا گیا البتہ اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ ملک کی ترقی سے مراد ہے کہ ہزاروں دیہات میں سڑک، پانی اور بجلی کی سہولیات میسر کی گئی ہوں مگر پاکستان کے دور دراز علاقے ابھی تک ان سہولیات سے محروم ہیں حتٰی کہ ہزاروں دیہاتوں میں انتظامیہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی موجود نہیں۔ اسلام آباد میں خواتین کے ایک کالج کے پرنسپل پروفیسر نعیم قاسم کہتے ہیں کہ دیہاتوں میں آج بھی غریب خاندان سرداروں، زمینداروں اور وڈیروں کے ہاں کام کاج کر کے گھرگرہستی پال رہے ہیں جس طرح بھارت میں آزادی کے چند برسوں بعد ہی سرداری اور وڈیرہ نظام ختم ہوا پاکستان میں اس کے برعکس یہ نظام مضبوط ہوتا گیا جس کی بعض حکومتوں نے کھل کر حمایت کی۔ پاکستان کے قومی سروے کے مطابق قومی بجٹ کا چار فیصد حصہ ملک کے ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جاتا ہے جس میں صفر اعشاریہ نو فیصد صحت اور دو اعشاریہ ایک فیصد تعلیم کے شعبے کے لیے مختص ہے جبکہ ملکی دفاع پر بجٹ کا چالیس فیصد خرچ کیا جاتا ہے۔
پروفیسر نعیم کہتے ہیں’پاکستان کی دو فیصد امیر ترین آبادی گذشتہ ساٹھ برسوں سے ملکی نظام چلا رہی ہے چاہے یہاں فوجی حکومت رہی یا سِول۔اٹھانوے فیصد غریب آبادی جن کی نہ آواز ہے اور نہ حقوق اس دو فیصد کی غلام ہے‘۔ عالمی بنک کے مطابق پاکستان میں پانچ کروڑ عوام خطِ غربت سے نیچےگذر بسر کر رہے ہیں اور یومیہ ایک ڈالر سے کم کما رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ملک میں سیاسی اداروں کی ناکامی کا اثر معاشی اداروں کے قیام پرگہرا پڑا تاہم پچھلے چند برسوں میں بعض معاشی ادارے نہ صرف مضبوط ہوگئے ہیں بلکہ ان کے استحکام سے ملکی معیشت بھی بہتر ہوئی ہے۔ پاکستان کے شہروں کو دیکھ کر یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ گذشتہ ساٹھ برسوں میں شہری زندگی میں کافی بہتری آئی ہے اور بنیادی سہولیات کسی حد تک میسر بھی ہیں مگر دیہات کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شاید ابھی یہ تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہیں۔ حکومت نام کی کوئی چیز یہاں موجود نہیں اور عوام بھی حقوق کے حصول کی جنگ لڑتے لڑتے تھک ہارچکے ہیں | اسی بارے میں ’قوم نہیں تو ترقی کا کوئی جواز نہیں‘21 August, 2007 | پاکستان ’مسائل ہیں مگر مستقبل تابناک ہے‘09 August, 2007 | پاکستان منافع بخش کاروبار یا مجبوری؟21 June, 2007 | پاکستان یہ امیروں کا بجٹ ہے: اپوزیشن12 June, 2007 | پاکستان مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے08 June, 2007 | پاکستان شرح نمومیں اضافے سےمہنگائی 18 April, 2007 | پاکستان ’پاکستان میں غربت کم ہو گئی‘30 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||