BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 April, 2007, 15:16 GMT 20:16 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
مصنوعی پرندہ اور طالبان کا قبضہ
 

 
 
جامعہ حفصہ
جامعہ حفصہ کی طالبات نے ایک خاتون شمیم اختر کو اپنی بیٹی، بہواور پوتی یرغمال بنا لیا تھا
Decoy ایک انگریزی اصطلاح ہے۔ جس کا مطلب ہے وہ مصنوعی پرندہ جو اصل پرندوں کو جال میں پھانسنے کے لئے اڑایا جائے یا وہ چال جو کسی کو بھٹکانے کے لئے چلی جائے۔ عموماً دنیا کی تمام فوجیں دشمن کی توجہ بٹانے کے لئے طرح طرح کے ڈیکوئے استعمال کرتی ہیں۔اصل اہداف چھپانے کے لئے نقلی ٹینک، نقلی مورچے، نقلی میزائیل لانچرز نصب کردئے جاتے ہیں۔تاکہ دشمن کے پائلٹ غچہ کھا جائیں۔یا اصل محاذ سے توجہ ہٹانے اور دشمن کو کنفیوز کرنے کے لئے نقلی یا متبادل محاذ کھول دیا جاتا ہے۔

مثلاً مسلم لیگ نواز کے حامی کہتے ہیں کہ نواز شریف اور واجپائی کی پاک بھارت تعلقات معمول پر لانے کی کوشش ناکام بنانے اور نواز شریف کو ایک شکست خوردہ وزیرِ اعظم دکھانے کے لئے کارگل کو نقلی پرندے کے طور پر استعمال کیا گیا۔

اسی طرح جب آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کے زلزلے کے بعد بروقت امدادی کاروائیوں میں ناکامی اور عدم منصوبہ بندی کے بارے میں حکومت کو این جی اوز اور زلزلہ متاثرین کی جانب سے مسلسل تنقید کا نشانہ بننا پڑا تو توجہ بٹانے کے لئے صدرِ مملکت نے کالا باغ ڈیم کی حمایت میں تقاریر کا سلسلہ شروع کردیا۔اور سندھ اور سرحد کے قوم پرستوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کی توجہ بھی زلزلے سے ہٹ کر وفاق کے مستقبل اور صوبائی حقوق کی جانب موڑ دی گئی۔اور پھر کالا باغ کا معاملہ غیر محسوس طور پر پس منظر میں چلا گیا۔

 جب نو مارچ کو جسٹس افتخار چودھری کو معطل کیا گیا اور اسکا شدید ملک گیر ردِ عمل شروع ہوا تو ایک اور ٹوپی ڈرامہ شروع ہوگیا۔صوبہ سرحد کے شہر ٹانک پر سینکڑوں مسلح طالبان نے حملہ کردیا جبکہ اسلام آباد کی سرکاری لال مسجد کے علما نے اپنے طلبا کو نزدیکی وڈیو آڈیو دوکانوں پر اور ڈنڈہ بردار طالبات کو آنٹی شمیم اختر کے گھر بھیج دیا
 
نقاد وکلا
اسی طرح جب بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کا پرتشدد ردِ عمل ہوا اور یہ امکان پیدا ہوا کہ قوم پرست اور ملک گیر جماعتیں مشرف مخالف پلیٹ فارم پر یکجا ہونے کی کوشش کررہی ہیں تو بہت عرصے سے پارلیمنٹ کی کسی فائل میں دبا ہوا حقوقِ نسواں بل نکال لیا گیا۔لوگ اکبر بگٹی اور بلوچستان کو بھول بھال کر عورتوں کے حقوق کے مباحثے میں الجھ گئے۔

حکومت کے نقاد متعدد وکلا کا خیال ہے کہ جب نو مارچ کو جسٹس افتخار چودھری کو معطل کیا گیا اور اسکا شدید ملک گیر ردِ عمل شروع ہوا۔میڈیا کی ساری توجہ اس مسئلے پر مرکوز ہوگئی تو ایک اور ٹوپی ڈرامہ شروع ہوگیا۔صوبہ سرحد کے شہر ٹانک پر سینکڑوں مسلح طالبان نے حملہ کردیا جبکہ اسلام آباد کی سرکاری لال مسجد کے علما نے اپنے طلبا کو نزدیکی وڈیو آڈیو دوکانوں پر اور ڈنڈہ بردار طالبات کو آنٹی شمیم اختر کے گھر بھیج دیا۔انہوں نے دو پولیس والے بھی پکڑ لیے لیکن انتظامیہ غیر معمولی تحمل دکھاتی رہی اور دکھا رہی ہے۔میڈیا پر کئی دنوں کے لئے یہ سوال چھاگیا کہ کیا اسلام آباد پر طالبان کا قبضہ ہونے والا ہے۔

نقاد وکلا کہتے ہیں کہ اسلام آباد میں طالبان سرکس وکلا کی تحریک کا جواب ہے۔اگر آج وکلا گھر بیٹھ جائیں تو طالبان بھی بیرکوں میں بھیج دئیے جائیں گے کسی اور وقت کے لئے۔

 
 
شمیم اختر’میں مجبور تھی‘
ڈنڈے مار کر بیان دلوایا گیا: شمیم اختر
 
 
اسلام آباد کے طالبان
آئی ایس آئی کے اہلکار اور لال مسجد میں نماز
 
 
طالبات کی کارروائی
اسلام آباد میں جامعہ حفصہ کی تصاویر
 
 
اسی بارے میں
جنرل مشرف، سموزا اور شاہ ایران
21 March, 2007 | قلم اور کالم
'لاٹھی گولی کی سرکار‘
17 March, 2007 | قلم اور کالم
عصمت فروش کون؟
29 March, 2007 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد