Sunday, 18 June, 2006, 10:12 GMT 15:12 PST
حسن مجتبی
سان ڈیاگو، کیلیفورنیا
پاکستان میں صحافت کی آزادی کی ایک پرائم مثال یہ ہے کہ انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئي ایس آئی) نے ملک میں صرف میڈیا اور صحافیوں کو ’مانیٹر‘ کرنے کیلیئے ایک فل فلیج میجر جنرل اور آدھے درجن کے قریب بریگیڈیئر تعینات کر رکھے ہیں اور یہ سب ’قومی سلامتی‘ کے نام پر ہے۔
جب اس دیو ہیکل ’قومی سلامتی‘ سے حیات اللہ جیسے صحافیوں کا تتلیوں کے پروں کی سرسر جیسی آواز والا قلم ٹکراتا ہے تو پھر ان کے لرزہ خیز قتل پر منتج ہوتا ہے- ’ہاتھ میں ہتھکڑی لگی ہوئی اور سر کے پیچھے گولی‘۔
اگر آپ پاکستان میں صحافی ہیں تو پھر آپ یا تو وہ لکھیں اور چھاپیں جو آئی ایس آئی اور ان کی ہیئت اور ہیبت جیسی اور ایجیسنیاں چاہتی ہیں یا آپ اپنی آزادی سے لکھیں تو اس سندھی کہاوت کے مصداق بنے رہیں:
’ڈنڈہ بھرساں چھوکر کڈے اج نہ بڈے سبھاں بڈے۔ (جھیل کنارے بچہ کھیلے آج نہ ڈوبے تو کل ڈوبے)۔
اور جھیل بھی وہ جو مگر مچھوں سے تا کنار بھری ہوئی ہے۔ پاکستان میں صحافت کا تیسرا کنارہ کوئی نہیں۔
لاڑکانہ میں کے ٹی این کے منیر سانگی کے ساتھ بھی یھی ہوا۔ اگر وہ ایجنسیوں کی شہ پر قتل نہیں ہوا تو ایسے وڈیرے کی شہ پر ضرور مارا گیا ہے جس کے ایک ووٹ کی سندہ اسمبلی میں آئی ایس آئی کو ضرورت ہے کیونکہ چیف صاحب کی وردی پاکستان میں ’ٹارزن کے سفر‘ والی قسط کی طرح آئندہ پانچ سال جاری رہنی ہے۔
![]() | |
| ’انیس سو اسی اور نوے کی دہائیاں پاکستان میں صحافت کی تاریخ کے اہم ابواب ہیں‘ |
پاکستان میں آزاد صحافت کی ایک عظیم مثال ڈاکٹر شاہد ہیں اور دوسری بیگم نوازش علی ہیں جن کے آگے سے لفظ کرنل کٹا ہوا ہے۔ یہی تو آزادی کا کمال ہے کہ کرنل جرنل کو مت چھیڑیں، باقی جو مرضی ہو لکھیں اور چھاپیں یا نشر کریں۔ہاں عورتوں سے ریپ کے کیسوں کو بے نقاب مت کریں کہ ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔ ایسی ظلم کی ماری عورتوں کو ہی ملک سے بھگا دو۔
قومی سلامتی کی کچی دیوار کو اپنے قلم سے مت ہلانے کی کوشش کریں یہ سفید پوشی کے بھرم کی طرح ٹوٹ جائے گي۔ خالد خواجہ اسلام آباد میں بیٹھے ہیں اور اخبارات کو انٹرویو دے رہے ہیں لیکن صحافی حیات اللہ غائب اور پھرمقتول۔
میں تو امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا اور پھر قتل کو بھی پاکستان میں صحافیوں پر تشدد کی ایک بدترین مثال سمجھتا ہوں۔ وہ پاکستانی ایجنیسوں کی منشا کے خلاف جہادیوں پر اسٹوری کرنے گیا تھا۔
مجھے حیات اللہ کی ٹرییجڈی پر اخبار ’دی مسلم‘ کے صحافی منصور یاد آتے ہیں جنہیں ’افغان مجاہدین‘ پر لکھنے کی وجہ سے منہ پر تیزاب انڈیل کر ہلاک کیا گیا تھا۔ منصور نے بھی میڈ ان آبپارہ اسٹوریاں لکھنے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ انیس سواسی کی دہائی کا صحافی تھا اور حیات اللہ انیس سو نوے کی دہائی کا۔
![]() | |
| ’ڈینیئل پرل پاکستانی ایجنیسوں کی منشا کے خلاف جہادیوں پر اسٹوری کرنے گیا تھا‘ |
لیاری کراچی میں میوہ شاہ قبرستان کے قریب کوکنی قبرستان کی دیوار سے ایک گمنام قبر پر رنگین چاک سےلکھا میں نے ایک نام دیکھا تھا ’رضیہ بھٹی‘۔ نیوز لائين کی اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو دی گریٹ کے دور حکومت میں اپنے گھر پر آدھی رات کی پولیس دستک کے بعد سات مہینوں میں دماغ کی شریان پھٹنے سے مرگئی، بالکل ایسے جیسے ضیاءالحق کے شروع کے دنوں میں مساوات کےایڈیٹر ابراہیم جلیس مرگئے تھے۔
رضیہ بھٹی وہ صحافی تھی جو محاذ جنگ میں مارے جانے والے صحافیوں جیسی جنگ اپنی ڈیسک پر لڑتے مرگئی۔ ’ایک ایسی جوگن جس کی ہرصبح تا شام روزی روٹی سانپوں کے بل میں ہاتھ ڈالنا ہوتی تھی‘۔ سندھی اخبار روزانہ سندھ کے اداریے میں لکھا تھا۔
واقعی کھرے سچے صحافیوں کے لیئے پاکستان میں قلم سے کمائی سانپوں کے بلوں میں ہاتھ ڈالنے کے برابر ہے۔
ایک ایسا دور بھی آیا جب کراچی میں اخبارات اور صحافیوں کی تقاریر کا فیصلہ یا نائن زیرو کرتا تھا یا کور کمانڈر۔ جام صادق علی اور عرفان مروت اور اس کی ’سی آئی اے‘ کا خونخوار دور۔ نواز شریف حکومت کا آزادی صحافت کے خلاف بد معاشی کا دور۔ بلے امتیاز کا دور۔ بعض سندھی قوم پرست پارٹیوں کے ہاتھوں سندھی پریس پر لاٹھی گولی کا راج بھی اپنا ایک تاریخی ریکارڈ رکھتا ہے۔ تحریک جعفریہ والوں کی پریس کانفرنس تو کوئٹہ پریس کلب والوں کو یاد ہوگی۔
مجھے نہیں معلوم کہ سندھی اخبار کے رتودیرو کے اس رپورٹر کا کیا ہوا جسے پچھلے دنوں ایک بچی شبانہ میرانی کے ساتھ جنسی زیادتی رپورٹ لکھنے پر سر پر شدید چوٹیں مارکر زخمی کر دیا گیا تھا-