|
اگلے کھلاڑی ہیں۔۔محمد یوسف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالاخر یوسف یوحنا نے اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت فراہم کر ہی دیا۔ ایک تصویر میں وہ نماز ادا کرتے دکھائی دیے ہیں اور ان کے ہمراہ صف میں موجود ہیں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق۔ اس میں خبر کیا ہے؟ ظاہر ہے یہ یوسف کا ذاتی معاملہ ہے اور تمام حالات میں ہمیں اپنا تبصرہ ان کے کھیل تک ہی محدود رکھنا چاہیے۔ وہ خدا کے سامنے کس طرح حاضر ہوتے ہیں، ہاتھ باندھ کر یا ہاتھ اور نظریں جھکائے یا پھر دو زانو ہو کر، ان تمام باتوں سے اس جمِ غفیر کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے جو یوسف کو ایک کھلاڑی کے طور پر پسند کرتے ہیں۔ یوسف کے قبولِ اسلام کے واقعے کو جس طریقے سے اخبارات میں کوریج دی گئی ہے اس سے ظاہر ہے کہ وہ تمام لوگ جو یوسف کے قریب ہیں اور وہ بھی جو اس واقعے کو دور سے مگر دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں، کتنی شدت سے ان کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ اس کے بارے میں بعد میں بات کرتے ہیں۔ پہلے کچھ ذکر ہو جائے مزہب اور کھیل کے میدان میں گھٹتے ہوئے فاصلے کا۔ یوسف کا مسلمان ہونا اس سلسلے کی کڑی ہے جس میں بہت سے پاکستانی کھلاڑی مذہب کی طرف رجوع کرتے نظر آتے ہیں۔ سعید احمد جو کہ پچاس اور ساٹھ کے عشرے میں ایک مایہ ناز بلے باز کے طور پر اپنے آپ کو منوا چکے ہیں، گزشتہ کئی برسوں سے کھیل کے میدان کے آس پاس تبلیغ کرتے نظر آتے ہیں۔ سعید انور کے مذہب کی جانب اچانک جھکاؤ کی کہانی تو سب جانتے ہی ہیں۔
ان کے علاوہ انضمام الحق، ثقلین مشتاق اور مشتاق احمد ان ممتاز کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے نہ صرف عوامی سطح پر مذہب کی افادیت کا پرچار کیا ہے بلکہ ان میں سے اکثر کھلاڑی تبلیغ کیلیے پاکستان کے مختلف علاقوں کا دورہ بھی کرتے رہتے ہیں۔ ان کے علاوہ یہ بات بھی اب عام ہے کہ پاکستان کی ہاکی ٹیم کے گیارہ کھلاڑی بریلوی مسلک کے مشہور عالم مولانا الیاس قادری کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان تمام ستاروں کی مذہب کی طرف رغبت، تبلیغی جماعتوں کے لیے انتہائی مسرت کا باعث ہے۔ یہ چند افراد کا ذاتی معاملہ تو ہے ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک ایسی مثال ہے جس کی تقلید کا امکان اس مثال کی تقلید کے امکان سے کہیں زیادہ ہے، جہاں ایک کامیاب ڈاکٹر یا انجینیئر جو کہ اپنے کام میں ماہر تو ہے مگر ایک کھلاڑی کی طرح مشہور نہیں، اسلام کیلیے اپنی خدمات پیش کرتا ہے۔ اس بات سے تو ہمارے روشن خیال حکمرانوں کو بھی انکار نہیں ہوگا کہ ملک میں تمام شعبوں سے متعلق لوگ مذہب کی طرف نہ صرف رجوع کر رہے ہیں بلکہ ان میں سے بڑی تعداد اس نظام کی بھی حامی دکھائی دیتی ہے جہاں عبادت انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی فعل ہے اور جو معاشرے کی سطح پر بہت سی پابندیوں کا متقاضی ہے۔ وہ تمام افراد جو مذہب کو غیر آسودہ حال لوگوں سے منسلک کرتے ہیں اس بات پر بہت حیران ہیں کہ یہ کھاتے پیتے کھلاڑی اور فنکار جو موجودہ دور کی تمام سہولتوں اور نعمتوں سے مالا مال ہیں کیونکر ایسی سرگرمیوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں جو اب بہت حد تک تارک الدنیا مولویوں کے لیے مخصوص ہو کر رہ گئی ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ آج کا پاکستان دین اور دنیا میں توازن کی تلاش میں ہے۔ یہ مغربی دنیا کا شاکی ہے اور جانتا ہے کہ مذہب کے علاوہ آج اس کے پاس ایسا کچھ نہیں جو وہ مغربی دنیا کے سرمایہ دارانہ نظام کے سامنے پیش کر سکے۔ آج کا پاکستانی مغرب کی تقلید پر مجبور ہے مگر اپنی تسلی کے لیے اپنے افعال میں ساتھ ساتھ ایسی ترامیم کرتا جاتا ہے کہ جس سے نہ صرف اس کا اسلامی تشخص بھی برقرار رہے بلکہ اس کی نیک نامی میں بھی اضافہ ہو۔ یہ اتصال ہمیشہ سے ہوتا آ رہا تھا مگر موجودہ دور میں جب کیپٹل ازم کے مقابلے میں کوئی سیاسی یا اقتصادی نظام ناپید ہے، یہ زیادہ نمایاں ہوگیا ہے۔ بات یوسف یوحنا کی نئی شناخت کی ہو رہی تھی اور قصہ مسلمانوں کی نشاۃِ ثانیہ تک جا پہنچا۔ کہا جاتا ہے کہ یوسف کو پاکستانی ٹیم میں لانے والے سعید انور تھے۔ سعید نے یوسف کو لاہور میں اس وقت کھیلتے ہوئے دیکھا جب یوسف دلبرداشتہ ہو کر کھیل چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ سعید نے سابقہ کرکٹر اور اس وقت کے سلیکٹر ظہر عباس کو ان کے بارے میں بتایا اور اس طرح یوسف پر شہرت کے نئے دروازے کھل گئے۔ اب ایک مرتبہ پھر سعید انور یوسف پر نئے دروازے کھولنے والوں میں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ کئی اور لوگ ہیں جنہیں یوسف کے قبولِ اسلام کا کریڈٹ دیا جا رہا ہے۔ عام قاری بہرحال ان تمام باتوں سے لاعلم ہیں جن کی وجہ سے یوسف کو اعلانِ اسلام تین سال کیلیے مؤخر کرنا پڑا۔ یوسف کا کہنا ہے کہ وہ تین برس پہلے مسلمان ہوئے تھے اور ایک ایسے معاشرے میں جہاں عام طور پر بطورغیر مسلم شناخت چھپائی جاتی ہے یہ تاخیر حیران کن ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||