امریکہ کی ایک عدالت نے پینسٹھ ارب ڈالر کے مالیاتی فراڈ کے سرغنے برنارڈ میڈاف کو ایک سو پچاس سال قید کی سزا سنائی ہے۔
برنارڈ میڈوف کی عمر ستر سال ہے اور اب ان کا زندہ جیل سے نکلنا تقریباً ناممکن ہوگیا ہے۔ عدالت میں موجود لوگوں نے برنارڈ میڈاف کو سنائی جانے والی سزا پر تالیاں بجائیں۔
برنارڈ میڈاف نے اعترف جرم کرتے ہوئے عدالت سے کم سزا کی درخواست کی تھی جو عدالت نے قبول نہیں کی۔ جج نے کہا کہ وہ ایک ایسی سزا سنانا چاہتے ہیں جس سے یہ پیغام جائے گا کہ ان کا جرم انتہائی گھناؤنا تھا۔
میڈاف نے عدالت کی طرف سے سزا سنائے جانے سے پہلے کہا کہ وہ اپنے خاندان کے لیے ’شرمناک ماضی‘ چھوڑنے پر معافی کے طلبگار ہیں۔ مالیاتی بحران کے شروع ہوتے ہی نیویارک کے ارب پتی سرمایہ کار برنارڈ میڈوف کا ہیج فنڈ ڈوب گیا تھا۔ اس ہیج فنڈ کی ناکامی کو امریکہ کی تجارتی منڈی وال سٹریٹ کی تاریخ کے بدترین مالی سکینڈلز میں سے ایک ہے۔
دنیا کے بڑے بینک جن کے فنڈ ڈوب گئے ہیں ان میں برطانیہ کا رائل بینک آف سکاٹ لینڈ، سپین کا سینٹینڈیر، فرانس کا بی این پی پاریبا اور شنگھائی بینک شامل ہیں۔