BBC Urdu

’یومِ سوگ‘: ہاتھوں میں شمعیں، سڑکوں پر احتجاج

ایران میں صدارتی انتخابات میں شکست کھانے والے امیدوار حسین موسوی نے اصلاح پسندی کے سرگرم کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور ان کے مطالبے پر ان کے طرفداروں نے یومِ سوگ مناتے ہوئے مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں موم بتیاں تھیں اور انہوں نے سیاہ لباس زیبِ تن کیا ہوا تھا۔

جمعرات کو ہونے والا مظاہرہ گزشتہ جمعہ کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے بعد ہونے والے احتجاج میں تازہ ترین تھا اور امکان ہے کہ اس سلسلے کے مزید مظاہرے بھی ہوں گے۔میر موسوی نے بھی اجتماع سے خطاب کیا۔

میر موسوی نے اپنے حمایتیوں سے کہا کہ مظاہروں کے دوران وہ پُر امن رہیں اور ان آٹھ افراد کی یاد میں مساجد میں جمع ہوں جو پیر کو تہران میں ہلاک ہو گئے تھے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان بہت سے افراد کو رہا کیا جائے جو اصلاح پسندی کی حمایت کرتے ہیں لیکن گرفتار ہیں۔ادھر سرکاری ریڈیو کے مطابق ایران کے سب سے بڑے قانون ساز ادارے نے گزشتہ جمعہ کو شکست کھانے والے تینوں امیدواروں کو سنیچر کو ملاقات کے لیے طلب کیا ہے۔

سرکاری ترجمان کے مطابق مسٹر موسوی اور اصلاح پسند مہدی کروبی کے علاوہ قدامت پسند محسن رضا سے کہا گیا ہے کہ وہ شورائے نگہبان کی ایک غیر معمولی میٹنگ میں شرکت کریں اور شورٰی کے اراکین کے ساتھ اپنے اپنے مسائل پر بات چیت کریں۔

ترجمان نے بتایا کہ شورٰی نے نتائج سے متعلق چھ سو چھیالیس شکایات کا ’ْبغور معائنہ‘ شروع کر دیا ہ۔اس ہفتے کے شروع میں شورٰی کی طرف سے کہا گیا تھا کہ وہ نتائج کی نئے سرے سے جزوی گنتی کرے گی لیکن صدارتی امیدوار کی طرف سے ازسرِ نو انتخابات کے مطالبہ مسترد کر دیا گیا تھا۔

بارہ جون کو احمدی نژاد دو تہائی اکثریت کے ساتھ دوبارہ ایران کے صدر منتخب ہوگئے تھے لیکن اپوزیشن نے اس انتخاب پر وسیع پیمانے پر فراڈ کے الزامات عائد کر دیئے ہیں۔

اسی سلسلے میں احتجاج کی کال میں حسین موسوی نے اپنے حمایتیوں سے کہا ہے کہ وہ جمعرات کو سیاہ لباس پہن کر یومِ سوگ منائیں۔

تہران میں بی بی سی کے سابق نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ اب ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اقتدار کی جنگ ہے جس میں یہ فیصلہ ہوگا کہ ایران کا مستقبل کیا ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ کئی برس تک تضادات کی فضا نے اس بحران کو جنم دیا ہے۔ ایران کی قیادت نے ماضی میں سنگین بحرانوں کا سامنا کرنے میں کافی لچک اور تدبیر کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم موجودہ چیلنج دوسروں سے کافی بڑا ہے جو ایران میں نظام کے لیے خطرہ پیدا کر رہا ہے۔

میر موسوی اور سابق اصلاح پسند صدر محمد خاتمی نے عدلیہ کے سربراہ کو مشترکہ خط لکھا ہے جس میں لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کے خاتمے اور گرفتار شدگان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بی بی سی اور دیگر غیر ملکی اخباری تنظیوں پر بھاری پابندیاں ہیں، نامہ نگاروں کو ’بلا اجازت اجتماعات‘ کی رپورٹنگ اور تہران میں آزادانہ گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں البتہ ان کے لکھنے اور بولنے پر کوئی پابندی نہیں۔‘