BBC Urdu
آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 10 اپريل 2010 ,‭ 07:19 GMT 12:19 PST

ہاشمی، سعد رفیق کا ووٹ سب نے محسوس کیا

بیورو رپورٹ

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

مسلم لیگ نواز کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی اور خواجہ سعد رفیق کے اٹھارویں ترمیم کی ایک شق کے خلاف ووٹ کے بعد سیاسی حلقوں یہ بحث جاری ہے کہ اب پارٹی میں ان کا مقام کیا ہوگا۔

دونوں رہنماؤں نے ہمارے نامہ نگار علی سلمان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ انہی کی جماعت سب سے زیادہ جمہوری ہے۔

قومی اسمبلی نے اٹھارویں ترمیم میں ایک شق ہے جس کے تحت سیاسی جماعتیں اپنے اندرونی انتخابات کرانے کی پابندی سے متثنیٰ ہو جائیں گی۔ اور سیاسی جماعت کا قائد رکن پارلیمان نہ ہوتے ہوئے بھی پارٹی فیصلے سے انحراف کرنے والے رکن پارلیمنٹ کےخلاف تادیبی کارروائی کرسکے گا۔

تین سو بیالیس کے ایوان میں مسلم لیگ نون کے دو رہنماؤں مخدوم جاوید ہاشمی اور خواجہ سعید رفیق اور مسلم لیگ قاف کے منحرف تین اراکین کے سوا کسی رکن نے اس ترمیم کی مخالفت نہیں کی۔

مخدوم جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ ان کا پارٹی کے باقی اراکین سے ہٹ کر ووٹ دینے کو سب نے محسوس کیا لیکن یہ بات کیوں نظر انداز کی جارہی ہے کہ پیپلزپارٹی میں سے تو ایک بھی رکن ایسا نہ نکلا جو سیاسی جماعتوں کی آمریت کے خلاف بات کرسکتا۔

سیاسی جماعتوں پر اندرونی انتخابات کرانے کی پابندی سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں متعارف کرائی گئی تھی لیکن جب اس کو ختم کیا جانے لگا تو اس کی نشاندہی مسلم لیگ قاف کی رکن کشمالہ طارق نے کی جو مشرف دور میں ان کی ٹیم میں شامل تھیں۔

مخدوم جاوید ہاشمی کاکہنا ہے کہ کسی اچھے قانون کو صرف اس بنیاد پر ختم کرنا نامناسب ہے کہ وہ ایک ڈکٹیٹر کے دور میں متعارف کرایا گیا۔

مخدوم جاوید ہاشمی مسلم لیگ نون کے ایک ایسے رہنما ہیں جنہوں نے مشرف دور میں سب سے طویل جیل کاٹی وہ مسلم لیگ نون کے پارلیمانی لیڈر تھے اور انہیں بغاوت کے مقدمے میں جیل بھجوادیا گیا تھا۔

مخدوم جاوید ہاشمی کو رہائی کے بعد جمہوری قوتوں خاص طور پر ان کی اپنی جماعت میں بہت پذیرائی ملی اور عام انتخابات میں وہ مسلم لیگ کے سب سے زیادہ نشستیں جیتنے والے رہنما بنے اور انہیں تین نشستوں پر کامیابی ملی۔

ان کا وہ بیان خاص طور پر نوٹ کیا گیا تھا جس میں انہوں نے ملک میں آمریت کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں میں آمریت کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

سیاسی حلقوں میں یہ بھی کہا گیا کہ جب قومی اسمبلی کی تین سیٹوں کے فاتح مخدوم جاوید ہاشمی نے دو نشستیں خالی کرنا تھیں تو انہوں نے ملتان کی نشست سے دستبردار ہونے کی ’شریف خواہش‘ نظر انداز کرکے راولپنڈی کی سیٹ خالی کردی تھی جو ضمنی انتخاب میں شیخ رشید کی وجہ سے مسلم لیگ نون کے لیے زندگی موت کا سبب بن گئی۔

سرائیکی صوبے کےحق میں مخدوم جاوید ہاشمی کا بیان بھی پارٹی قیادت کو کڑوا کسیلا لگتا ہے کیونکہ نواز شریف اور شہباز شریف دونوں ہی صوبہ پنجاب کی تقسیم کے حق میں نہیں ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو ملنے والے اس اختیار کے خلاف ووٹ ڈالنے والے خواجہ سعد رفیق ہیں جو شریف برادران کی جلاوطنی میں احتجاجی تحریکوں کے روح رواں جانے جاتے تھے۔ لیکن ماضی میں ان پر ایک ایسا دور بھی گذرا تھا جب شریف برادران ان کے خلاف تھے اور کشمیر سے ایک سیاستدان نے آکر انہیں دوبارہ شریف گڈ بک میں شامل کرایا تھا۔

مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ اس ترمیم کے خلاف ووٹ ڈالنے کا دونوں کا فیصلہ الگ الگ تھا اور انہیں یہ علم نہیں تھا کہ ان کے پیچھے خواجہ سعد رفیق بھی اس ترمیم کے خلاف ووٹ دینے کے لیے آکھڑے ہوئے۔

لاہور سے منتخب ہونے والے خواجہ سعد رفیق نے بی بی سی کے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ شاید پارٹی کے باقی اراکین اتنی جلد فیصلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے ورنہ پارٹی لائن وہی ہوتی جو انہوں نے اپنائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کشمالہ طارق نے اس قانون کی مخالفت کی تو چند لمحے تھے جس میں فیصلہ کرنا تھا ۔’یہ لیڈرشپ کا امتحان کا وقت تھا۔‘

خواجہ سعد رفیق نے کہا ’میں نے فوری طور پر اپنے پارلیمانی لیڈر چودھری نثار علی خان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی لیکن سپیکر نے گنتی شروع کرادی صرف ڈیڑھ منٹ کا وقفہ ملا اور میں نے اس ترمیم کے خلاف ووٹ دے دیا۔‘

سعد رفیق کا دعویٰ ہے کہ دیگر اراکین اسمبلی کو بھی غور و خوص کا مناسب وقت ملتا تو وہ بھی اس کے خلاف ووٹ دیتے ۔

جاوید ہاشمی اور سعد رفیق دونوں ہی پارٹی لائن کے برعکس ووٹ دینے کے اپنے اس اقدام کو درست قرار دیتے ہیں۔سعد رفیق نے کہا کہ ان کی پارٹی میں باتیں ضرور ہورہی ہیں اور کئی افراد ان کے فیصلے کو غیر دانشمندانہ قرار دیتے ہیں لیکن وہ خود مطمئن ہیں۔

جاوید ہاشمی نے کہاکہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے کرتے ہیں اور کرتے رہیں انہیں نتائج کی کوئی پرواہ نہیں ہے البتہ انہوں نے اس تاثر کو غلط قراردیا کہ حالیہ فیصلے سے ان کی پارٹی میں حثیت سے کوئی فرق پڑا ہے۔