
پاکستان کے شہر کراچی میں 1999 میں قائم ہونے والا ادارہ سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ انٹرنیشنل مہنگائی کے اس دور میں غریبوں کی مدد کرتا ہے اور روزانہ اڑتیس سے چالیس ہزار افراد کے لیے کھانا بناتا ہے۔ بی بی سی نے اس ٹرسٹ کے منتظم محمد عامر اقبال اور اس ٹرسٹ کے دستر خوانوں پر کھانا کھانے والے افراد سے بات چیت کی ہے، ان میں سے بعض افراد نے اپنے نام ظاہر نہیں کیے ہیں۔

محمد عامر اقبال:’سیلانی ویلفیئر 1999 میں قائم ہوا اور اس کے ٹرسٹ میں نو ارکان شامل ہیں۔ اس کے سربراہ مولانا بشیر فاروقی صاحب ہیں اور اس ادارے کو قائم کرنے کا مقصد اسلام کی صحیح تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے غریبوں کی مدد اور کفالت کرنا ہے۔ ہمارا فوڈ ڈپارٹمنٹ روزانہ اٹھتیس سے چالیس ہزار لوگوں کے لیے کھانا بناتا ہے اور یہ سال کے تین سو پینسٹھ دن بنتا ہے، کوئی چھٹی نہیں ہوتی اور یہ سارا کام بڑے منظم طریقے سے ہوتا ہے اور کسی بھی جگہ کوئی کمی نہیں آنے دی جاتی۔ ہر سینٹر موبائل پر کچن سے رابطے میں رہتا ہے‘۔

محمد عامر اقبال:’لوگ ہمارے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور صدقے کی مد میں روزانہ چار سو بکرے عطیہ کرتے ہیں‘۔

محمد عامر اقبال:’کراچی میں ہسپتال، عدالتوں میں پیشی پر آئے ہوئے قیدی اور کم آمدنی پر کام کرنے والے مزدور اور محنت کشوں کے لیے صنعتی علاقے میں ہمارے دستر خوان لگتے ہیں اور لوگ دوپہر کا کھانا ادھر ہی کھاتے ہیں جس سے ان کو روزانہ پنتیس سے چالیس روپے کی بچت ہوتی ہے‘۔

محمد عامر اقبال:’دستر خوان پر کوئی بھی جتنا مرضی کھائے، کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی انسان بھوک کی وجہ سے پریشان ہو یا خودکشی کرے‘۔

’میں اپنے بچوں کے ساتھ اکثر ادھر ہی کھانا کھاتا ہوں۔ کبھی کام ہوتا ہے اور کبھی بیروزگاری۔ یہاں کھانے سے ایک سو پچاس روپے کی بچت ہو جاتی ہے اور ایک سو پچاس کمانا کوئی آسان کام نہیں‘۔

’میں ہسپتال میں ڈاکٹر کے پاس اپنا چیک اپ کروانے آیا تھا کہ کھانے کا ٹائم ہو گیا تو میں نے سوچا بھوک بھی لگی ہے تو پہلے کھانا کھا لوں‘۔

’بکرے کا گوشت گھر پر کہاں مل سکتا ہے۔ تین سو پچاس روپے کلو ہے۔ ادھر فری میں ملتا ہے۔ اتنی تو میری دہاڑی بھی نہیں ہے۔ سارا دن کام کرتا ہوں تو مشکل سے تین سو روپے کماتا ہوں‘۔

خوبدار علی: ’میں ہارون آباد میں رہتا ہوں اور اِدھر کباڑیہ کی دکان پر کام کرتا ہوں۔ میری تنخواہ چھ ہزار روپے ہے۔ میں بہت وقت سے ادھر کھانا کھا رہا ہوں۔ ہوٹل پر جانے سے ستر روپے خرچ ہوتے ہیں۔ ہم چار بھائی اور دو بہنیں ہیں‘۔

سہراب خان: ’میں بنارس میں رہتا ہوں۔ ادھر سگنل پر گاڑیوں کے شیشے صاف کرتا ہوں۔ دو سو روپے کماتا ہوں۔ دوپہر کا کھانا ادھر ہی کھانے آ جاتا ہوں۔ گھر جاؤں گا تو سارا ٹائم خراب ہو جائے گا۔ ہوٹل جاؤں گا تو گھر کیا لے کر جاؤں گا‘۔

ہسپتال میں اندرون سندھ سے آئے ہوئے مریضوں کے ساتھ آنے والے افراد جن کو یہاں زیادہ عرصہ رکنا پڑتا ہے وہ دوپہر کا کھانا ادھر ہی کھا لیتے ہیں۔ یہ لوگ آ کر انتظار کرتے ہیں کیوں کہ باز اوقات ان لوگوں نے صبح کا ناشتہ بھی نہیں کیا ہوتا۔

منیزہ: ’میں گھروں کے شیشے صاف کرتی ہوں اور جب بھوک لگتی ہے تو ادھر ہی کھانا کھاتی ہوں۔ جتنا پیسہ سب لوگ دیتے ہیں وہ سب اماں کو دیتی ہوں۔ ابھی ابو کے کام کی چھٹی ہے اور بس میں ہی کام کرتی ہوں‘۔

منیزہ:’میں جب بھی کام پر آتی ہوں یہ (چھوٹا بھائی) زبردستی میرے پیچھے لگ جاتا ہے اور کام پر میرے ساتھ ہی رہتا ہے‘۔

پولیس والے بھی شاید اپنی کم آمدنی سے پریشان ہیں اور تنخواہ میں گزر نہیں کر پا رہے۔ ادھر کھانا کھا کر ان کی ہر ماہ تقریباً بارہ سو روپے کی بچت ہو جاتی ہے۔

اقبال:’میں گودام میں مزدوری کرتا ہوں۔ ایک ماہ سے ادھر ہی کھانا شروع کیا ہے۔ مہنگائی بہت ہے۔ میں ہب چوکی سے پچیس روپے دے کر کام کرنے آتا ہوں اور دو سو پچاس روپے مزدوری ہے۔ میری ایک بچی بھی ہے۔ ہوٹل میں کھانا کھاؤں گا تو سو روپے تو وہ لے لیں گے‘۔

محمد عامر اقبال:’کھانا کھلانا ثواب کا کام ہے اور اس سے ہم اپنے رب کو راضی کرتے ہیں اور رات کو یہ سوچ کر سوتے ہیں کہ آج ہم نے کوئی اچھا کام کیا۔ ہمارا ضمیر بہت مطمئن ہوتا ہے‘۔