باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے طالبان کمانڈر مولوی فقیر محمد نے بیت اللہ محسود کی جگہ تحریکِ طالبان پاکستان کی امارت سنبھالنے کا دعٰوی کرتے ہوئے سوات کے طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان کو تحریک کا مرکزی ترجمان مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مولوی فقیر محمد نے بدھ کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ بیت اللہ محسود مارے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’بیت اللہ محسود ہلاک نہیں ہوئے بلکہ بیمار ہیں اور اسی وجہ سے وہ روپوش ہیں‘۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ اگر بیت اللہ محسود شہید بھی ہوجا ئے تو اس سے تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ یہ کسی حکومتی ادارے کا بنی ہوئی تنظیم نہیں بلکہ یہ طالبان کی تنظیم ہے‘۔
بیت اللہ کی ہلاکت کے حوالے سے بار بار پوچھے گئے سوالات پر انہوں نے کہا کہ بیت اللہ کے حوالے سے ابھی تک ایسا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے معلوم ہوسکے کہ وہ مارے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کہ امیر کی صحت کی خرابی کے باعث وہ قائم مقام امیر ہیں اور بحثیت امیر وہ مولوی عمر کی گرفتاری کے بعد حاجی مسلم خان کو تحریک کا مرکزی ترجمان مقرر کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امیر کی تبدیلی کی حوالے سے ابھی تک کوئی شوری اجلاس نہیں ہوا ہے اور اس سلسلےمیں پہلے آنے والی تمام رپورٹوں میں کوئی حقیقت نہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’مولوی ولی الرحمان یا حکیم اللہ محسود کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ وہ دیگر علاقوں کے طالبان کی رائے لیے بغیر تحریک کا امیر مقرر کر دے اور نہ وزیرستان کے طالبان یہ کرسکتے ہیں۔ تحریک بیالیس اراکین شوری پر مشتمل ہے اور اگر کوئی امیر مقرر ہوگا تو شوری کے مشاورت سے ہوگا‘۔
ان کے مطابق ’ اس میں شک نہیں کہ وزیرستان کے طالبان نے اس تحریک کےلیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ولی الرحمان اور حکیم اللہ محسود میں امارت کی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیتیں موجود ہیں تاہم امارت کا معاملہ اتفاق رائے سے طے ہوگا‘۔
انہوں نے کہا کہ مولوی عمر کی گرفتاری سے قبل وہ بعض وجوہات کی بناء پر بحثیت مرکزی ترجمان استعفی دے چکے تھے۔ مولوی فقیر کا کہنا تھا کہ مولوی عمر نے اس لیے استعفی دیا تھا کیونکہ باجوڑ میں ٹیلی فون نظام خراب ہونے کی وجہ سے ان کا تمام میڈیا سے رابطہ مشکل ہوگیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وہ تنظیم کا نام تبدیل کرنے کےلیے بھی شوٰری سے بات کرینگے کیونکہ تنظیم کا نام اب تحریک طالبان پاکستان کی بجائے تحریک اتحاد طالبان ہونا چاہیے کیونکہ ان کے بقول ساری دنیا اس تحریک کی طرف دیکھ رہی ہے۔
ادھر تحریکِ طالبان نے الزام لگایا ہے کہ حکام نے اس کےگرفتار ترجمان مولوی عمر سے طالبان سربراہ بیت اللہ محسود کی امریکی ڈرون میں ہلاکت کا بیان دورانِ حراست دباؤ کے تحت حاصل کیا ہے۔ خیال رہے کہ منگل کو مولوی عمر کی گرفتاری کے بعد صوبہ سرحد کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا تھا کہ مولوی عمر نے پاکستانی تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ بیت اللہ محسود امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
مہمند ایجنسی میں طالبان کے سربراہ عمر خالد نے بی بی سی اردو کے عبدالحئی کاکڑ کو فون کر کے بتایا ہے کہ حکومتی دعوے میں کوئی سچائی نہیں ہے کہ مولوی عمر نے تفتیش کے دوران امریکی ڈرون حملے میں بیت اللہ محسود کے ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مولوی عمر کو حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ان سے دباؤ کے تحت بیت اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق کروائی گئی ہے جو بقول ان کے حراست کے دوران ایسے بیانات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔
عمر خالد نے اس دعوی کو دہرایا کہ بیت اللہ محسود زندہ ہیں اور انہوں گزشتہ شب مولوی عمر کی گرفتاری کی تفصیلات جاننے کے لیے انہیں فون کیا تھا۔ تاہم عمر خالد کے اس بات سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر بیت اللہ محسود واقعی زندہ ہیں اور وہ طالبان کمانڈروں سے فون پر بات کرنے کے قابل ہیں تو وہ میڈیا کو فون کرکے اپنی ہلاکت کی تردید خود کیوں نہیں کر لیتے۔