|
QUESTION TAGS یعنی سوالیہ دُم چھلّے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئیے اس موضوع کا آغاز اردو کے چند جملوں سے کرتے ہیں: لڑکی خوبصورت ہے، ہے نا؟ ان جملوں میں اصل بات کرنے کے بعد اُسی بات کو سوالیہ انداز میں دہرایا گیا ہے۔ گویا اس بات کی تصدیق درکار ہے اور سُننے والے سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ہاں میں ہاں ملائے گا۔ جملے کے اسی آخری حِصّے کو ہم ’سوالیہ دُم چھلّہ‘ قرار دے رہے ہیں۔ انگریزی بول چال میں یہ انداز بہت عام ہے۔ اسکا سیدھا سا اصول یہ ہے کہ اگر بیان مثبت ہو تو سوالیہ دُم چھلّہ منفی ہو گا اور اگر بیان منفی ہو تو سوالیہ دُم چھلّہ مثبت ہو گا۔ مثال کے طور پر یہ دو جملے دیکھیے: اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ آپ سکول جاتے ہیں تو اس کے دو جوابات ممکن ہیں: جی ہاں، جاتا ہوں یا جی نہیں، میں نہیں جاتا۔ اسی طرح اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ آپ کا تعلق ہندوستان سے ہے تو اسکا جواب بھی ہاں یا نہ میں دیا جا سکتا ہے۔ اگلی مثال میں بنیادی جملہ چونکہ منفی ہے اس لئے جوابات کی صورت بھی بدل گئی ہے۔ اسے غور سے پڑھیئے اور اُوپر والی مثال سے اسکا موازنہ کیجئے: ?You aren’t from India, are you اب ذرا اُردو کے ان جملوں پر غور کیجئے: ذرا میری مدد کرو، کرونا بھئی آپ نے غور کیا ہو گا کہ ان تمام انگریزی جملوں میں فعل امر استعمال ہوا ہے۔ اِن افعال کو Imperatives کہا جاتا ہے اور ایسے جملوں میں سوالیہ دُم چھلّہ لگانے کا وہی طریقہ انگریزی میں رائج ہے جسکی پانچ مثالیں آپ نے اوپر پڑھی ہیں۔ اب ہم آپ کی مشق کے لئے کچھ ملے جلے فقرے لکھ رہے ہیں۔ آپ ان میں سوالیہ دُم چھلّوں کا اضافہ کر کے جملے مکمل کیجئے۔ پہلا جملہ ہم نے آپکی مدد کے لیے خود ہی مکمل کر دیا ہے۔ آخری تین جملوں کا تعلق فعل امر سے ہے اس لئے اِن میں خاص احتیاط برتیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||