![]() |
|
![]() صابر نذر، پاکستان ’مجھے یاد ہے کہ جب میں نے برطانیہ کی ایک جنوب ایشیائی پبلیکیشن کو شیرون پر اپنا کارٹون بھیجا تو انہوں نے وہ مجھے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ اس سے اینٹی سیمٹ ازم یعنی سامی مخالفت کی جھلک ملتی ہے۔
عموماً ہم کارٹونسٹس کو خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور سیاستدان اپنے کارٹون کی اشاعت کو پسند نہیں کرتے۔ قائد اعظم کا کارٹون بنانا بغاوت کے مترادف اور نظریہِ پاکستان کے خلاف سمجھا جائے گا جبکہ انڈیا میں تقسیم کے فوراً بعد نہیں تو کچھ عرصے بعد ہی کارٹونسٹس نے گاندھی کے کارٹون بنانے شروع کردیئے تھے۔ تاہم مجھے حیرت ہوتی ہے کہ مسلم ممالک میں ان کارٹونوں پر ردِعمل پانچ ماہ بعد سامنے آیا۔ ڈینش اخبار نے جان بوجھ کر انہیں مسلمانوں کو بھڑکانے کے لیے شائع کیا اور مسلم ممالک میں مذہبی علماء جان بوجھ کر انہیں اپنے ممالک کی حکومتوں کے خلاف عوامی جذبات کو بھڑکانے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ پاکستان میں اس پرتشدد احتجاج کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی ایک مثال آغا خان ہسپتال اور پشاور میں ایک گرلز سکول پر حملہ ہے۔ اسی طرح ہالو کاسٹ پر ایران میں بنائے جانے والے کارٹون ایسے ہی ہیں جیسے کہ ڈینش اخبار میں چھپنے والے کارٹون۔۔۔۔ جسے اینٹ کا جواب پتھر کہا جا سکتا ہے۔ بہرحال کسی بھی کمیونٹی کے اعتقاد کا مذاق اڑانا انتہائی غلط ہے اور یہ کوئی ایسا کارٹونسٹ یا آرٹسٹ ہی کرسکتا ہے جس کے لیے سماجی اور فنکارانہ ذمہ داری کا کوئی وجود نہ ہو۔‘ صابر نذر ڈیلی ٹائمز اور فرائی ڈے ٹائمز کے لیے کارٹون بناتے ہیں اور پینتنگز کی کئی نمائش کر چکے ہیں۔ اگر آپ اس پر اپنی رائے دینا چاہیں تو یہاں کلک کریں |
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ^^ واپس اوپر | |||