کارٹونسٹس کیا کہتے ہیں؟
 
سلک آرٹ، انڈیا
سہیل نقشبندی، انڈیا
 


’متنازعہ کارٹونوں سے صرف غیر ذمہ دارانہ صحافت کی عکاسی ہوئی ہے۔ طنز اور تضحیک کے درمیان بڑی باریک لکیر ہے اور بدقسمتی سے ڈنمارک کے کارٹونسٹ ان دونوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ میری نظر میں اخبار وہ جگہ نہیں جہاں کوئی اپنے آرٹسٹک لائسنس کا غلط استعمال کرے۔ سب سے بڑھ کرآج کل کی گندی سیاست میں ہمارے پیغمبر کو لانے کی کیا ضرورت تھی؟

آزادیِ اظہار کے نام پر کسی کے مذہبی جذبات کی توہین بالکل ناقابلِ قبول ہے۔ ایسی آزادیِ اظہار کا کیا فائدہ جس کا نتیجہ افراتفری، بے چینی اور انسانیت میں نفرت کا پھیلاؤ نکلے۔

دوسری طرف مانا کہ یہ سب کچھ غلط ہوا ہے لیکن اگر ہم اس کا جواب تشدد سے دیں گے تو وہ بھی ہمارے پیغمبر کی تعلیمات کے ہی خلاف ہے۔‘

سہیل نقشبندی دلی میں سینیئر گرافک ڈیزائنر ہیں اور سری نگر کے روزنامے ’گریٹر کشمیر‘ کے لئے کارٹون بھی بناتے ہیں۔



اگر آپ اس پر اپنی رائے دینا چاہیں تو یہاں کلک کریں





 
 
 
 
 
’ باریک لکیر‘
 
 
 
 
^^ واپس اوپر تازہ ترین خبریں>>پاکستان>>اوپر واپس>>