زلزلہ بیتی: عدنان کی ڈائری
 

انیس نومبر
 


دس بجے رات

 
اب سے بس ایک گھنٹے پہلے ہم وادی نیلم سے واپس پہنچے۔ حالات ویسے ہی ہیں جیسا میں نے پہلا بتایا تھا۔ ایک بار پھر کہہ رہا ہوں کہ یہاں سردی بہت بڑھ رہی ہے۔ لوگ اب تک یہاں گرم کپڑوں اور راشن کی شدید قلت کی وجہ سے سخت پریشان ہیں۔

خود مظفرآباد کا یہ حال ہے کہ سفید پوش لوگ بھوکے ہیں کیونکہ یہ لوگ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا چاہتے۔ ہم نے یہاں مقامی لوگوں کی مدد سے کچھ ایسے خاندان ڈھونڈے ہیں جن کو ہم نے خیمے اور راشن وغیرہ دینا شروع کر دیا ہے۔

ایک اور مشکل یہ ہے کہ چھوٹے بچوں کی حالت موسم کے ساتھ ساتھ مزید خراب ہو رہی ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا ہوگا۔ سنا ہے کہ حکومت کچھ کرنے والی ہے۔ خدا کرے کہ کچھ اچھا ہو، لیکن نظر نہیں آرہا۔

درہ آدم خیل کے ساتھی

 
بہرحال ہمیں اپنے درہ آدم خیل والے دوست بہت یاد آتے ہیں۔ انہوں نے ہمارا بہت ساتھ دیا۔ اس وقت ہمارے گیارہ ساتھی وادی نیلم میں کام کر رہے ہیں۔

سردی کی وجہ سے بہت سی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ کل میں اسلام آباد جا رہا ہوں۔ کچھ امدادی سامان کی خریداری کرنی ہے اور کچھ اور بھی کام ہیں۔ رات تک رک کر واپس آ جاؤں گا۔

اب ہم نے بیوہ خواتین اور یتیم بچوں پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دعا کریں کہ ہم کامیاب ہو جائیں۔ تھوڑا مسئلہ فنڈز کا ہورہا ہے، مگر اللہ مالک ہے۔ میں ایک بار پھر اپیل کرتا ہوں کہ یہاں آئیں۔ بہت سارے لوگ یہاں کسی کا انتظار کر رہے ہیں۔

میرے خیال میں میڈیا جو کچھ دکھا رہا ہے وہ بہت کم ہے۔


اگر آپ اس پر اپنی رائےدینا چاہیں تو یہاں کلک کریں





 
 
 
 
 
 
’سردی بہت بڑھ گئی ہے‘
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
^^ واپس اوپر تازہ ترین خبریں>>آپ کی آواز >>پاکستان >>