زلزلہ بیتی: عدنان کی ڈائری
 

’کیا آپ میرے دوست بنو گے؟‘
 


بائیس سے پچیس نومبر

 
میں اپنے ساتھ لائے ہوئے سامان اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پنجکوٹ کے لیے روانہ ہوا۔ راستے میں ہم نے جہاں بھی امداد کی ضرورت سمجھی، ہم دیتے گئے۔ مگر ہر بار کی طرح ہمارا لایا ہوا سامان کم پڑ گیا۔

میرے کراچی اور لاہور والے ساتھی یہاں کے موسم کی سختیوں کو برداشت نہیں کر سکے اور اب سے تین دن پہلے واپس چلے گئے ہیں۔ مگر میں چاہ کر بھی واپس نہیں جا پا رہا ہوں۔ پتہ نہیں کب یہاں کے حالات بہتر ہونگے اور ہم اپنے گھروں کو واپس جا سکیں گے۔

اب میں یہاں کے مقامی لوگوں کے ساتھ ہی کام کر رہا ہوں۔ یہ سب جی جان لگا کر کام کر رہے ہیں، مگر ہمارے وسائل بہت کم ہیں۔ بہت سی چیزیں ہیں جو ہم چاہ کر بھی نہیں کر پا رہے۔

پنجکوٹ سے کچھ پہلے ہم نورہ نامی ایک شہر پہنچے۔ وہاں بہت کم امداد پہنچی تھی۔ سردی کی وجہ سے وہاں تمام بچے بیمار ہو چکے ہیں، گرم کپڑے نہیں ہیں، یہاں تک کہ کئی لوگوں کے پاس کھانے تک کا سامان نہیں ہے۔ یہ صرف ایک شہر کی کہانی نہیں۔

پنجکوٹ سے ہم ایسے بچوں کو مظفرآباد اور اسلام آباد بھیج رہے ہیں جن کا اب اس دنیا میں کوئی نہیں رہا۔ یہاں ہمیں ایک گیارہ سالہ بچہ ملا۔ اس کا نام ذیشان ہے۔ اس کے والدین اس زلزلے کی نظر ہو گئے اور ذیشان پچھلے چوون دنوں سے اکیلا ہے۔ کوئی اس کو یہ نہیں پوچھتا کہ اس کے کچھ کھایا یا نہیں، اسے کہیں سردی تو نہیں لگ رہی۔۔۔جب میں ذیشان کے پاس گیا تو اس نے کہا ’کیا آپ میرے دوست بنو گے؟‘۔ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ افسوس یہ ہے کہ نہ جانے ذیشان جیسے کتنے بچے اس انتظار میں ہیں کہ کوئی آ کر ان کا بھی ہاتھ تھامے گا۔ ہم نے ذیشان کو اسلام آباد منتقل کروا دیا۔

ہفتہ، چھبیس نومبر

 
ہم کل رات واپس مظفرآباد پہنچے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سردی اور موسم کی شدت کی وجہ سے مجھے فیور اور کھانسی ہو گئی ہے۔ حالت بھی تھوڑی سی خراب ہے۔ مگر دوسروں کو دیکھتا ہوں تو اپنی تکلیف بھول جاتا ہوں۔

رات ایک کاریگر سے ملاقات ہوئی۔ خدا نے اس کو نئی زندگی تو دی مگر زندگی کے تمام وسائل سے اسے محروم کر دیا۔ اس کے پاس ایک ٹینٹ تک نہیں ہے۔ اس کے بیوی اور بچے کھلے آسمان کے نیچے پڑے ہیں۔ یہ کسی سے کچھ مانگتا بھی نہیں۔ میں نے پوری کوشش کی کہ اس کی مدد کر سکوں مگر میری مدد اس غریب کے لیے بہت کم ہے۔

صبح نو بجے

 
سب اٹھ کر ایک سکول گئے۔ اس سکول میں ہلاک ہونے والے بچوں کے لیے قرآن خوانی کی جا رہی تھی۔ اس سکول میں اب کھلے آسمان کے نیچے بچے پڑھائی کرتے ہیں۔ وہاں سے نکل کر ہم کچھ ایسی عورتوں سے ملنے گئے جن کے گھروں میں کام کرنے والے اس زلزلہ میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان کے گھر بھی تباہ ہو گئے ہیں اور یہ اب تک مدد کے انتطار میں ہیں۔ ہم سے ان کے لیے جو کچھ ہو پا رہا ہے ہم کر رہے ہیں۔

کچھ بچوں کے لیے سکالرشپ بھی شروع کر دی ہے۔


اگر آپ اس پر اپنی رائےدینا چاہیں تو یہاں کلک کریں



 
 
 
 
 
آپ میرے دوست بنیں گے؟‘
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
^^ واپس اوپر تازہ ترین خبریں>>آپ کی آواز >>پاکستان >>