![]() |
|
![]() منگل پچیس اکتوبر، بالاکوٹ صبح آٹھ بجے: کل رات بہت پریشانی رہی کیونکہ بالا کوٹ کل واپس پہنچنے پر احساس ہوا کہ ہماری ٹیم کے سترہ لوگوں میں سے ڈاکٹر کاشان مسنگ ہیں اور ہمارے ساتھ واپس نہیں آئے۔ ہم سب سمجھتے رہے کہ وہ پیلی کاپٹر میں واپس آگئے ہیں لیکن وہ شاید ابھی وہیں تھے۔ کاشان بہت اہم ہیں کیونکہ وہ چائلڈ سپیشلسٹ ہیں اور ان کی سخت ضرورت ہے۔ ہم انہیں ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اب ہر دفعہ کہیں سے بھی آنے جانے میں ہمیں باڈی کاؤنٹ کرنا ہوگا۔
صبح نو بج کر تیس منٹ: آج ہم اپنے ساز وسامان کے ساتھ فیلڈ میں جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ ہمیں پروگرام کے مطابق آج شنگران جانا تھا لیکن امدادی کارروائیوں کے مقامی فوجی کمانڈر کے عملے نے بتایا کہ فوج نے وہاں اپنا میڈیکل کیمپ قائم کر لیا ہے اس لیے وہاں اب ہم جیسے رضاکار نہیں چاہئیں۔ اس لیے ہم نے آج پہلے مظفرآبار اور پھر وہاں سے الائی جانے کا فیصلہ کیا۔ الائی جیسا کہ ہم جانتے ہیں پچھلے کچھ دنوں سے امدادی کارروائیوں کے علاوہ آتش فشانی کے خدشے کی وجہ سے خبروں میں آ رہا ہے۔ ادھر ڈاکٹر کاشان کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ اللہ کرے وہ جہاں بھی ہوں خیریت سے ہوں۔ وہ بغیر آرام کئے کام کئے چلے جارہے تھے، مجھے ڈر ہے کہ وہ کہیں بیمار نہ ہوگئے ہوں۔ صبح گیارہ بجے: ہم وہاں سے ضروری سامان اٹھا کر الائی کے لیے روانہ ہو رہے تھے کہ ہماری ملاقات طبی مرکز میں پہنچائے گئےچند مریضوں سے ہو گئی۔ ان لوگوں کو الائی کے علاقے استور سے لایا گیا تھا۔ ان مریضوں میں ایک خاتون زبیدہ جان بھی تھی۔ عمر تیس سے پینتیس سال کے درمیان رہی ہوگی لیکن ان کی حالت زیادہ اچھی نہیں تھی۔ وہ اپنے نچلے دھڑ کو زیادہ ہلا جلا نہیں سکتیں۔ان کے ساتھ آئے ہوئے دیگر مریضوں نے زبیدہ جان کی ہمت اور اپنی مدد آپ کی جو کہانی ہمیں سنائی اسے سن کر اگرچہ آنکھوں نم ہوجاتی ہیں لیکن ایک نیا حوصلہ بھی ملا۔ زبیدہ جان کا سارا خاندان، شوہر، دو بیٹے، بیٹی، ساس اور سسر۔۔۔ سب کے سب زلزلے کے پہلے جھٹکے کی نظر ہوگئے۔ وہ خود بھی شدید زخمی ہوئیں۔ ہوش آنے پر جب پتا چلا کہ ان کے اپنوں میں کوئی نہیں بچا، انہوں نے دوسروں کی مدد کرنا شروع کر دی۔ ان کے گاؤں کے لوگوں نے بتایا کہ زبیدہ جان نے نو نوجوان لڑکیوں کو ملبے کے نیچے سے نکالا۔ جب زلزلہ آیا تو یہ لڑکیاں برابر والے گھر میں تھیں۔ چونکہ ان لڑکیوں کے گھر والوں کا کچھ پتا نہیں چل رہا تھا کہ وہ زندہ ہیں یا مر گئے ہیں، زبیدہ جان نے ان کو اپنے ساتھ رکھا اور ان کی دیکھ بھال کرتی رہیں۔ گزشتہ دو ہفتے کے دوران تین چار مرتبہ آرمی والوں نے انہیں مظفر آباد لائے جانے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے ہر بار یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ جب تک ان کے گاؤں کے دوسرے زخمی نہیں نکال لیے جاتے وہ نہیں جائیں گی۔ آج جب انہیں مظفر آباد لایا گیا ہے تو زبیدہ جان کی اپنی حالت غیر ہو چکی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے اعصاب جواب دے چکے ہیں لیکن اب بھی ہم نے ان کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھے۔ بلکہ یہاں تک کہ ان کی باتیں سن کر ہماری آنکھیں بھر آئیں تو انہوں نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور اپنی مادری زبان میں کچھ کہا۔ لیکن اس مرتبہ ہمیں کسی ترجمان کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ان کا اشارہ بالکل واضع تھا: یہ وقت آنسو بہانے کا نہیں بلکہ میری طرح اپنی جسمانی طاقت کا آخری ذرہ بھی متاثریں کی امداد میں خرچ کرنے کا ہے۔‘ ہمیں مظفر آباد سے الائی جانا تو تھا ہی لیکن زبیدہ جان کی نصیحت نے جیسے ہماری کارروائیوں میں ایک نئی تیزی بھر دی۔ ساڑھے بارہ بجے دوپہر: لیکن الائی میں ہمارے ہیلی کاپٹر کو اترے ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ زلزلے کے شدید جھٹکے آئے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ یہ تو یہاں کا معمول ہے اور خدشہ ہے کہ الائی کے پہاڑ کسی وقت بھی پھٹ سکتے ہیں۔ ہم نے بھی ان پہاڑوں سے دھواں اٹھتے دیکھا۔ سارا علاقہ کسی کیمیائی مادے کی جلنے کی بو سے بھرا ہے۔ ڈھائی بجے سہ پہر: تین بجے سہ پہر: چار بجے سہ پہر: ہمیں ابھی تک ڈاکٹر کاشان کا پتہ نہیں چل پایا ہے۔ ہم نے فوج کو اطلاع دی ہے اور وائرلیس سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تمام ٹیم پریشان ہے۔ اگر آپ اس پر اپنی رائے دینا چاہیں تو یہاں کلک کریں: |
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ^^ واپس اوپر | |||