![]() |
|
![]() چھبیس ا کتوبر صبح آٹھ بجے:
صبح آٹھ تیس: صبح گیارہ بجے: بارہ بجے : یہاں صورت حال یہ ہے کہ مکانوں میں کوئی نہیں جانا چاہتا۔ ہمارے ساتھ ایک انجنیئر بھی ہیں جو پہلے جائزہ لے لیتے ہیں کہ اگر کچھ اور جھٹکے آییں تو نکل سکنے کی گنجائش موجود ہو۔ اب ہم یہاں مین بازار کے ایک مکان میں ہی ہیں جس کی اوپر کی منزل تباہ ہوچکی ہے اور پلاسٹر اکھڑ چکا ہے۔ میں یہ وہیں سے لکھ رہا ہوں۔ خوش قسمتی سے واپڈا اور کشمیر کی حکومت کی کوششوں سے بجلی بھی واپس آچکی ہے۔ بدبو بہت زیادہ ہے یہاں پر۔ کشمیر کی وہ مخصوص خوشبو جس سے میں ہمیشہ اسے یاد کرتا رہا ہوں، کہیں کھو گئی ہے۔ ڈھائی بجے سہ پہر: تین بج کر بیس منٹ، سہ پہر: یہاں پر صورت حال بہت خطرناک ہو گئی ہے۔ امدادی ٹیمیں کام تو کر رہی ہیں، لیکن یہاں مریضوں اور زخمیوں کی حالت بہت خراب ہو رہی ہے۔ آج ہم نے اپنی توجہ بچوں پر رکھی۔ میں آج عرفان سے ملا۔ عرفان کی عمر نو سال ہے۔ اسے ضلعہ باغ کے کسی علاقے سے یہاں منتقل کیے گئے ہیں۔ عرفان کی بہن فرحانہ بی بی بھی اس کے ساتھ ہے۔ فرحانہ کی عمر گیارہ سال ہے۔ زلزلے کے وقت عرفان اپنی بہن کے ساتھ مقامی سکول میں تھا۔ عرفان کے والد کینسر کے مریض تھے۔ وہ اپنے گھر کی نچلی منزل میں تھے اور اس کی والدہ اوپر ٹیریس پر تھیں۔ زلزلے سے اس کے والدین ہلاک ہو گئے۔ عرفان کے کسی اور رشتہ دار کے بارے میں بھی کوئی معلومات نہیں ہیں۔ تئیس اکتوبر کو اس بچے کو باغ سے مظفر آباد لایا گیا۔ عرفان ملبے کے نیچے پھنس گیا تھا۔ اس کی ایک ٹانگ پوری طرح ٹوٹ گئی ہے۔ ہمارے آرتھو سرجن نے بتایا کہ عرفان کو جلد از جلد کسی بڑے ہسپتال منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ فرحانہ بھی بہت بری طرح زخمی ہے۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی پوری طرح ختم ہو چکی ہے۔ اور وہ مفلوج ہو چکی ہے۔ عرفان خود ملبے سے بہت مشکل سے نکلا اور پھر وہاں موجود امدادی کارکنوں کی مدد سے اپنی بہن کو نکلوایا۔ وہ تب تک ملبے کے پاس سے نہیں ہٹا جب تک اس کی بہن کو نکالا نہیں گیا۔ فرحانہ کو تقریباً بارہ گھنٹے بعد ملبے سے نکالا گیا۔ اب اس کے ہاتھ پیر نہیں ہلتے مگر آنکھیں بھائی پر ٹکی ہوئی ہیں اور بھائی ہے کہ اپنی بہن کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاتا۔ پرسوں سے اعلان ہو رہا تھا کہ حکومت ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کو ایک لاکھ روپے دے رہی ہے۔ جب ہم عرفان اور فرحانہ کے پاس تھے تو کم از کم تین لوگ وہاں آئے، یہ کہتے ہوئے کہ وہ ان بچوں کے رشتہ دار ہیں۔ ماموں ہیں اور چچہ ہیں۔ ایک صاحب تو باپ بن کر بھی سامنے آئے۔ جبکہ فوج کہتی ہے کہ عرفان کے باپ کو انہوں نے خود دفنایا تھا۔ عرفان نے صاف کہا کہ ہم انہیں نہیں جانتے۔ وہ تو بس یہی کہتا رہا کہ ہمیں ان کے ساتھ مت بھیجئے۔ ہم نے بہت کوشش کی کہ ان دونوں کو اسلام آباد منتقل کیا جائے، تاکہ ان کا صحیح علاج ہو سکے، مگر ہیلی کاپٹروں میں رش بہت تھا۔ انشا اللہ کل ہم ان دونوں کو ہمارے سرجن کے ساتھ اسلام آباد بھیج دیں گے۔ آج ہمارے آرتھو سرجن نے یہاں تین بڑے آپریشن کیے۔ ان بچوں پر جو شدید زخمی تھے۔ آج ہمیں یہاں ایک ایسا گروپ بھی ملا جو بظاہر مختلف قبائیلی علاقوں سے آیا ہے۔ بیس سے پچیس لوگوں پر مشتمل اس گروپ میں کچھ بوڑھی خواتین بھی ہیں۔ یہ کیمپوں میں جاتے ہیں اور ان بچیوں کو پرپوز کرتے ہیں، یعنی انہیں شادی کی پیشکش کرتے ہیں، جو اکیلی ہیں، جن کے ساتھ کوئی نہیں اور جن کی عمر گیارہ بارہ سال سے اوپر کی ہے۔ ان کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ہماری بیٹی بن جاؤ، ہماری بیوی بن جاؤ۔ بہت ہی عجیب وغریب بات ہے۔ میری تو سمجھ میں نہیں آتا، کوئی ایسا کیسے کر سکتا ہے۔ میں اس بارے میں یہاں آرمی کے کپتان سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگ انتظار کر رہے ہوتے ہیں کہ کوئی اکیلا بچہ آ رہا ہے یا کوئی اکیلی عورت آ رہی ہے۔ ساڑھے پانچ بجے شام: چھ بجے شام: اگر آپ اس پر اپنی رائے دینا چاہیں تو یہاں کلک کریں: |
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ^^ واپس اوپر | |||