زلزلہ بیتی: عدنان کی ڈائری
 

چھبیس ا کتوبر
 


صبح آٹھ بجے:

 
کل رات انتہائی پریشانی میں گزری۔ بالا کوٹ میں تقریباً تین سے چار ریکٹر سکیل کے جھٹکے آئے جن سے دہشت پھیل گئی۔ دوسرا بارش شروع ہوگئی۔ چونکہ یہ علاقہ وادی میں ہے، تو پانی خیموں میں بھرنا شروع ہوگیا اور ہمارے خیمے میں بھی پانی آگیا۔ کئی لوگوں کو دوسرے خیموں میں منتقل کرنا پڑا۔ خیموں کی کمی کا تاحال سامنا ہے جس کے وجہ سے یہ زیادہ بڑا مسئلہ بن گیا۔
سید عدنان علی نقوی
سید عدنان علی نقوی
صبح آٹھ تیس:

 
بارش ہی کی وجہ سے فوجی فلائیٹس لیٹ ہوگئی ہیں اور ہم ابھی تک وہاں سے روانہ نہیں ہوسکے۔

صبح گیارہ بجے:

 
ہم اب جاکر مظفرآباد پہنچے ہیں طبی عملے کی ٹیم کے ساتھ۔ مظفرآباد کا موسم اچھا تھا۔ یہ جگہ میری پسندیدہ جگہ رہی ہے لیکن اب جو بھی متاثرہ ہے بھاگ کر یہیں پہنچ رہا ہے۔ پیدل، خچروں پر یا گاڑیوں پر، جو جس کے بس میں ہو۔ گاڑیوں کے کرائے بہت زیادہ بڑھ چکے ہیں۔

بارہ بجے :

 
یہاں منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔ جو ہمیں سرکاری اداروں، فوج اور این جی اوز میں کوآرڈینیشن بالاکوٹ میں دکھائی دی، یہاں دیکھنے میں نہیں آئی۔ زیادہ لوگوں کے یہاں آجانے کی وجہ سے نہ صرف خیمے کم پڑرہے ہیں بلکہ جگہ کی کمی بھی محسوس ہورہی ہے۔ یہاں حیرت انگیز طور پر غیرسرکاری عمارتیں تو پھر بھی کہیں نہ کہیں بچ گئی ہیں لیکن سرکاری عمارتیں حتیٰ کہ وزیرِ اعظم کا سیکرٹیریٹ بھی مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔ اب ملبے کو تیزی سے ہٹانے کی ضرورت ہے تاکہ متاثرین کو جگہ مل سکے۔ ہم نے یہاں امدادی کاموں کے نگران ایک کپتان صاحب سے درخواست کی کہ ہمیں کسی ایسے مکان میں جگہ دے دی جائے جو تھوڑا بہت بچ گیا ہو۔

یہاں صورت حال یہ ہے کہ مکانوں میں کوئی نہیں جانا چاہتا۔ ہمارے ساتھ ایک انجنیئر بھی ہیں جو پہلے جائزہ لے لیتے ہیں کہ اگر کچھ اور جھٹکے آییں تو نکل سکنے کی گنجائش موجود ہو۔ اب ہم یہاں مین بازار کے ایک مکان میں ہی ہیں جس کی اوپر کی منزل تباہ ہوچکی ہے اور پلاسٹر اکھڑ چکا ہے۔ میں یہ وہیں سے لکھ رہا ہوں۔ خوش قسمتی سے واپڈا اور کشمیر کی حکومت کی کوششوں سے بجلی بھی واپس آچکی ہے۔

بدبو بہت زیادہ ہے یہاں پر۔ کشمیر کی وہ مخصوص خوشبو جس سے میں ہمیشہ اسے یاد کرتا رہا ہوں، کہیں کھو گئی ہے۔

ڈھائی بجے سہ پہر:

 
ہم نے آرمی رلیف کیمپ کا دورہ کیا۔ جو سامان ہم لے کر گئے تھے اس میں وہ چالیس خیمے بھی شامل تھے جو ہم نے انڈیا سے منگوائے تھے۔ دس ٹینٹ چین سے بھی آئے تھے۔ یہ ٹینٹ ہم نے الائی کے علاقے میں بھیج دئے ہیں۔ ہم نے کچھ لائف سیونگ ڈرگس کے علاوہ دیگر ضروری ادویات بھی بھجوائیں۔ اس کے علاوہ کچھ کھانے کی اشیا اور پینے کا پانی بھی بھجوایا۔ ٹارچ، سٹوو، دریاں، کنبل اور بھی کئی چیزیں جو اس وقت وہاں ضرورت ہیں۔ موسم کی خرابی کی وجہ سے ہم مظفرآباد کے آرمی رلیف کیمپ تک ہی محدود رہے۔

تین بج کر بیس منٹ، سہ پہر:

 

یہاں پر صورت حال بہت خطرناک ہو گئی ہے۔ امدادی ٹیمیں کام تو کر رہی ہیں، لیکن یہاں مریضوں اور زخمیوں کی حالت بہت خراب ہو رہی ہے۔ آج ہم نے اپنی توجہ بچوں پر رکھی۔ میں آج عرفان سے ملا۔

عرفان کی عمر نو سال ہے۔ اسے ضلعہ باغ کے کسی علاقے سے یہاں منتقل کیے گئے ہیں۔ عرفان کی بہن فرحانہ بی بی بھی اس کے ساتھ ہے۔ فرحانہ کی عمر گیارہ سال ہے۔ زلزلے کے وقت عرفان اپنی بہن کے ساتھ مقامی سکول میں تھا۔ عرفان کے والد کینسر کے مریض تھے۔ وہ اپنے گھر کی نچلی منزل میں تھے اور اس کی والدہ اوپر ٹیریس پر تھیں۔ زلزلے سے اس کے والدین ہلاک ہو گئے۔ عرفان کے کسی اور رشتہ دار کے بارے میں بھی کوئی معلومات نہیں ہیں۔ تئیس اکتوبر کو اس بچے کو باغ سے مظفر آباد لایا گیا۔ عرفان ملبے کے نیچے پھنس گیا تھا۔ اس کی ایک ٹانگ پوری طرح ٹوٹ گئی ہے۔ ہمارے آرتھو سرجن نے بتایا کہ عرفان کو جلد از جلد کسی بڑے ہسپتال منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ فرحانہ بھی بہت بری طرح زخمی ہے۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی پوری طرح ختم ہو چکی ہے۔ اور وہ مفلوج ہو چکی ہے۔ عرفان خود ملبے سے بہت مشکل سے نکلا اور پھر وہاں موجود امدادی کارکنوں کی مدد سے اپنی بہن کو نکلوایا۔ وہ تب تک ملبے کے پاس سے نہیں ہٹا جب تک اس کی بہن کو نکالا نہیں گیا۔ فرحانہ کو تقریباً بارہ گھنٹے بعد ملبے سے نکالا گیا۔ اب اس کے ہاتھ پیر نہیں ہلتے مگر آنکھیں بھائی پر ٹکی ہوئی ہیں اور بھائی ہے کہ اپنی بہن کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاتا۔

پرسوں سے اعلان ہو رہا تھا کہ حکومت ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کو ایک لاکھ روپے دے رہی ہے۔ جب ہم عرفان اور فرحانہ کے پاس تھے تو کم از کم تین لوگ وہاں آئے، یہ کہتے ہوئے کہ وہ ان بچوں کے رشتہ دار ہیں۔ ماموں ہیں اور چچہ ہیں۔ ایک صاحب تو باپ بن کر بھی سامنے آئے۔ جبکہ فوج کہتی ہے کہ عرفان کے باپ کو انہوں نے خود دفنایا تھا۔ عرفان نے صاف کہا کہ ہم انہیں نہیں جانتے۔ وہ تو بس یہی کہتا رہا کہ ہمیں ان کے ساتھ مت بھیجئے۔ ہم نے بہت کوشش کی کہ ان دونوں کو اسلام آباد منتقل کیا جائے، تاکہ ان کا صحیح علاج ہو سکے، مگر ہیلی کاپٹروں میں رش بہت تھا۔ انشا اللہ کل ہم ان دونوں کو ہمارے سرجن کے ساتھ اسلام آباد بھیج دیں گے۔

آج ہمارے آرتھو سرجن نے یہاں تین بڑے آپریشن کیے۔ ان بچوں پر جو شدید زخمی تھے۔

آج ہمیں یہاں ایک ایسا گروپ بھی ملا جو بظاہر مختلف قبائیلی علاقوں سے آیا ہے۔ بیس سے پچیس لوگوں پر مشتمل اس گروپ میں کچھ بوڑھی خواتین بھی ہیں۔ یہ کیمپوں میں جاتے ہیں اور ان بچیوں کو پرپوز کرتے ہیں، یعنی انہیں شادی کی پیشکش کرتے ہیں، جو اکیلی ہیں، جن کے ساتھ کوئی نہیں اور جن کی عمر گیارہ بارہ سال سے اوپر کی ہے۔ ان کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ہماری بیٹی بن جاؤ، ہماری بیوی بن جاؤ۔ بہت ہی عجیب وغریب بات ہے۔ میری تو سمجھ میں نہیں آتا، کوئی ایسا کیسے کر سکتا ہے۔ میں اس بارے میں یہاں آرمی کے کپتان سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگ انتظار کر رہے ہوتے ہیں کہ کوئی اکیلا بچہ آ رہا ہے یا کوئی اکیلی عورت آ رہی ہے۔


ساڑھے پانچ بجے شام:

 
افتار کے بعد ہمیں کہا گیا کہ اب آپ شہر کی طرف جائیے، وہاں لوگوں کو آپ کی ضرورت ہے۔ پہلے ہم سمجھے نہیں کہ کن لوگوں کو ہماری ضرورت ہے۔ جب ہم شہر پہنچے تو جگہ جگہ پر ہمیں وہ لوگ ملے جو اوپر سے آیے ہیں اور جنہیں حکومت کی طرف سے بنا ئی گئی خیمہ بستیوں میں جگہ نہیں ملی ہے۔ وہ سڑک کے کنارے، چٹانوں کے نیچے پڑے ہوئے تھے۔ ان کی بھی ہم جتنی کر سکتے تھے ہم نے مدد کی۔


چھ بجے شام:

 
اچھی بات یہ ہوئی کہ ڈاکٹر کاشان کا پتہ چل گیا ہے۔ فوج نے انہیں کاغان کے فوجی ہسپتال میں لوکیٹ کرلیا ہے۔ وہ وہاں بے ہوشی کی حالت میں پہنچائے گئے تھے۔ وجہ کام کی زیادتی اور شدید تھکاوٹ تھی لیکن وہ خیریت سے ہیں اور امید ہے کہ جلد ہی انہیں چکلالہ منتقل کرکے کراچی یا اسلام اباد کے کسی ہسپتال میں بھیج دیا جائے گا۔


اگر آپ اس پر اپنی رائے دینا چاہیں تو یہاں کلک کریں:



 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
’وہ بہن کے پاس سے نہیں ہلتا‘
 
 
 
 
 
^^ واپس اوپر تازہ ترین خبریں>>آپ کی آواز >>پاکستان >>