زلزلہ بیتی: عدنان کی ڈائری
 
اتوار، ستائیس نومبر
عبدالرحمان صاحب کا فون
 


اتوار، ستائیس نومبر

 
صبح عبدالرحمان صاحب کا فون آیا کہ وہ ہم سب ملنے مظفرآباد آرہے ہیں۔ ہم نے اپنے دیگر کام جلدی جلدی مکمل کیا اور ساڑھے بارہ بجے دوپہر ان سے ملاقات ہوئی۔ وہ چھ گھنٹے پیدل چل کر مظفرآباد پہنچے تھے۔ اپنے لوگوں کے لیے اتنا مخلص انسان بہر مشکل سے ملتا ہے۔ ان کی زبان سے وہاں کے حالات سن کر بہت پریشانی ہوئی۔۔۔

وہاں کے حالات کا خود جائزہ لینے کے بعد یہ پایا کہ انہوں نے جو کچھ بتایا تھا وہ بالکل سچ ہے۔

تلگران، حلقہ دو، مظفرآباد کے حالات کچھ اس طرح ہیں۔۔۔
یہ علاقے یونین کونسل کے چھ گاؤں پر مشتمل ہیں۔ یہاں تقریباً پندرہ بیس شدید زخمی افراد تھے جنہیں مظفرآباد منتقل کر دیا گیا ہے۔ باقی زخمی جن کے ہاتھ پیر ٹوٹے ہوئے پیں اور زخم خراب ہو چکے ہیں، ابھی تک ڈاکٹروں کےمنتظر ہیں۔ لوگ اب تک کھلے آسمان کے نیچے ہیں۔ برف دو سے تین انچ تک گر چکی ہے، جس کی وجہ سے یہاں بچوں کی حالت بہت خراب ہو گئی ہے۔ ان بچوں کو فوری علاج کی ضرورت ہے۔

یہاں فوری طور پر شیلٹرز نہ دیے گئے تو اس بڑھتی ہوئی سردی میں یہاں موت کا نیا کھیل شروع ہو جائے گا۔ خواتین بھی بہت مشکل میں ہیں۔ سمجھ میں آتی کہ یہ خود کو سنبھالیں یا اپنے بچوں کو۔ اس علاقے کی بد قسمتی یہ ہے کہ سید پور میں بنایا جانے والا بیس کیمپ اس سے بہت دور ہے۔

مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے زلزلے کے بعد یہاں کوئی آیا ہی نہیں۔ ہم اپنی طرف سے جو کچھ بھی کر شکتے ہیں، کر رہے ہیں۔ مگر ہماری کوشش بہت ہی کم ہے۔ یہاں بڑے پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو تلگران برف کے قبرستان میں تبدیل ہو جائے گا۔ ہیلی کاپٹر خراب موسم کی وجہ سے کام نہیں کر پا رہے۔ متبادل ذرایع تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ میں حکومت، این جی اوز، فوج سے اپیل کرتا ہوں کہ اس طرف توجہ دیں اور ان قیمتی جانوں کو بچا لیں۔۔۔

ہم شدید سردی کی وجہ سے تلگران میں رک نہیں پائے۔ اس لیے کچھ دیر پہلے پیدل چلتے ہوئے واپس مظفرآباد پہنچے ہیں۔ کچھ شدید زخمی اور بیمار افراد کو زظفرآباد منتقل کیا ہے۔ مگر اب بھی وہاں کئی بیمار بچے اور زخمی موجود ہیں۔۔۔

یہاں مظفرآباد میں آئی ٹی انسٹیٹیوٹ کا کام آخری مراحل میں ہے۔ اس کے علاوہ کئی متاثرین کو مالی امداد فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ یتیم بچوں کو خاص توجہ کی ضرورت ہے۔

دوبارہ ہیلی کاپٹر آپریشن شروع ہوئے تو ضرور تلگران جاوں گا، اور تب تک وہاں رہوں گا جب تک میری وہاں ضرورت ہے۔


اگر آپ اس پر اپنی رائےدینا چاہیں تو یہاں کلک کریں



 
 
 
’عبدالرحمان کا فون‘
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
^^ واپس اوپر تازہ ترین خبریں>>آپ کی آواز >>پاکستان >>