زلزلہ بیتی: عدنان کی ڈائری
 

ستائیس اکتوبر
 


کل کی رات

 
کل کی پوری رات بھی جاگتے ہوئے گزری۔ ہم یہاں جس مکان میں مقیم ہیں۔ برابر والے مکان سے کافی بو آ رہی تھئ ہم نے چیک کیا تو وہاں کچھ لاشیں تھیں۔ پوری رات اسی مشکل میں گزری۔ کل عرفان اور فرحانہ کا ذکر کیا تھا۔ کل رات کو عرفان نے ہمیں بلوایا۔ وہاں پہنچے تو اس نے کہا مجھے آپ یہیں چھوڑ دیں، میری بہن کو لے جائیں اور اس کا علاج کریں۔ فرحانہ کو آج صبح سات بجے کے قریب ہم نے اسلام آباد جانے والے پہلے ہیلی کاپٹر میں بھیج دیا۔ ابھی جب میں واپس پہنچا ہوں تو مجھے اطلاع ملی ہے کہ وہ بچی انتقال کر گئی ہے۔ اس کی حالت یہیں بہت زیادہ خراب تھی لیکن اس بچی کی آنکھوں میں ایک چمک تھی، وہ جینا چاہتی تھی۔ شاید اسے وہاں پہنچانے میں بہت دیر ہو گئی۔ ہم پوری کوشش کرنے کے باوجود اسے نہیں بچا سکے۔ عرفان اب اسلام آباد پمز میں ہے۔
سید عدنان علی نقوی
سید عدنان علی نقوی
اسی کیمپ میں ایک بوڑھی خاتون تھیں جو سردی سے ٹھٹھر رہی تھی۔ میں نے اپنا جیکٹ ان کو دے دیا۔ رات کو ٹھنڈ لگی تو آرمی والوں کے پاس گیا کہ مجھے کوئی گرم کپڑا دے دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں سامان رکھا ہے، آپ نکال لیں۔ لوگوں نے کپڑے بھیجے تو بہت ہیں لیکن وہ تمام گرمی کے موسم والے کپڑے ہیں، سردی والے نہیں۔ میری لوگوں سے یہی درخواست ہے کہ کم بھیجیں، مگر سردیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بھیجیں۔

آٹھ بجے صبح

 
ہم وادی نیلم کے لیے روانہ ہوئے۔ چونکہ ہم آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے وہاں گئے، اور بہت کم ہمیں پیدل چلنا پڑا، اس لیے سفر اتنا پریشان کن نہیں تھا۔ لیکن وہاں پہنچ کر، وہاں کے حالات دیکھ کر۔۔۔ہم بھی آخر انسان ہیں۔ وہاں حالات بہت برے ہیں، اور بہت تیزی سے خراب ہو رہے ہیں۔کشمیر جسے ہم جنت کہتے تھے، اب وہاں میدان حشر سے بھی برا حال ہے۔ وادی نیلم میں لوگ بہت ہی بری حالت میں ہیں۔ اور ٹھنڈ بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ میرے خیال میں نومبر کے پہلے ہفتے میں یا پھر اگلے ہفتے اس علاقے میں برف باری شروع ہو جائے گی۔

سوا نو بجے صبح

 
ہم وادی نیلم پہنچے۔ ہیلی کاپٹر نے بڑی مشکل سے لینڈ کیا۔ ہمارے اترتے ہی لوگوں کا ایک حجوم پیدا ہو گیا۔ ہم سمجھے کہ یہ امداد چھیننے کے لیے آئے ہیں لیکن ایسا نہیں تھا۔ ان سب نے ایک ساتھ بولنا شروع کیا کہ یہاں امداد نہیں آئی۔ وہاں لوگوں نے بتایا کہ وادی نیلم میں تقریباً تین ہزار فٹ کی اونچائی پر ایک پہاڑی ہے اروٹ، انہوں نے بتایا کہ وہاں اب تک کوئی ٹیم نہیں گئی ہے۔

سوا گیارہ بجے

 
ہم پیدل اور خچروں کی مدد سے وہاں پہنچے۔ وہاں زندگی ویسے ہی کتنی مشکل ہے ہم شہر والوں کو اس کا اندازہ اب ہو رہا ہے۔

اروٹ کی آبادی بہت کم تھی مگر اب پوری طرح ختم ہو چکی ہے۔ چالیس کے قریب لاشیں اب بھی وہاں موجود تھی، تدفین کے انتظار میں۔ لیکن نہ کفن تھا اور نہ دفنانے والے۔ اتنی ہی تعداد میں خواتین اور بچے، شدید زخمی حالت میں تھے۔ ہم بہت کچھ چاہتے ہوئے نہیں کر پائے۔ ہمیں پتہ چلا کہ پچھلے تین دنوں میں وہاں سترہ اموات ہو چکی ہیں۔

ہم روز ہمت کرتے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کو دیکھ کر ہمت ہو تی ہے۔۔۔ اور پھر کوئی چیز ایسی سامنے آتی ہے کہ ہماری ہمت ٹوٹ جاتی ہے۔ وہاں زخمی خواتین میں ہمیں ایک بچی ملی۔ اس کی عمر ڈیڑھ دو سال سے زیادہ نہیں ہوگی۔ اس بچی کے ماں باپ اس حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ باپ کا پتہ نہیں چل رہا، ماں کی لاش موجود ہے ملبے کے نیچے، لیکن نکالی نہیں جا سکی۔ تین بھائی بھی ماں کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ بچی زلزلے کے وقت باہر سہن میں کھیل رہی تھی۔ پتہ نہیں کیسے بچ گئی۔ یہ بچی آٹھ اکتوبر سے آج تک ان عورتوں کے رحم و کرم پر ہے۔ روتی بہت کم ہے۔ صرف تین الفاظ بولتی ہے : ماما، انا اور بھا۔۔۔یہ اب تک انتظار کر رہی ہے کہ اس کے بھائی کہیں سے آ رہے ہیں، یا اس کے ماں پاب کہیں سے آ رہے ہیں۔ ان عورتوں نے کہا کہ اب ہم اس کو نہیں سنبھال سکتے۔ آپ اس کو یہاں سے لے جائیں۔

اس کے علاوہ تین اور بچے مقامی لوگوں نے ہمارے حوالے کر دیے۔ سلطان، علی اور اعظم۔ ان کے بھی والدین کا کچھ پتہ نہیں۔ ماوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ملبے کے نیچے ہیں، مگر والدوں کا کچھ پتہ نہیں۔ ان کی عمر گیارہ سے چودہ سال ہے۔ ان چاروں بچوں کو ہم اپنے ساتھ لے آئے۔

ہم تین بجے تک اروٹ میں رہے۔ اور جتنی ہو سکی لوگوں کی طبی امداد کی۔ ہمارے پاس ادویات کی کمی ہے۔ لیکن جتنا ہم سے ہو سکے، ہم کوشش کر رہے ہیں۔ میرے کچھ دوستوں نے اپنی بائکیں بیچ دیں، ایک کی بیوی نے اپنے گہنے بیچ دیے، میں نے اپنی گاڑی بیچ دی۔ ہم سے جو کچھ ہو پا رہا ہے ہم کر رہے ہیں۔ اب ہمیں لائف سیونگ ڈرگس انڈیا یا چین سے منگوانی پڑ رہی ہیں۔

تین بجے سہ پہر

 
ہم نے دو مقامی لوگوں کو نیچے بھیجا کہ وہاں موجود آرمی کو بتائے کہ یہاں موجود زخمیوں کو فوری طور پر منتقل کرنا ہوگا۔ ہمارے ساتھ آئے ڈاکٹر نے بتایا کہ ایک زخمی تشنج کا شکار ہو گیا ہے۔ پچھلے ایک دن سے وہ پوری طرح اکڑا ہوا ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ وہ بیماری کسی اور کو بھی لگ جائے۔ وہاں جتنے زخمی ہیں ان کی زندگی داؤ پر لگی ہے۔ خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

چار بجے سہ پہر

 
آرمی والے یہاں پہنچے۔ پندرہ بیس جوان آئے اور زخمیوں کو نیچے لے گئے۔

میں خود دمے کا مریض ہوں۔ بہت تھک چکے ہیں ہم۔ راتوں کو نیند نہیں آتی۔ آنکھیں بند کرتا ہوں تو وہی بچے، وہی خواتین نطر آتے ہیں۔ پھر شرم آتی ہے کہ ہم یہاں بستر پر ہیں جبکہ ان کا نہ جانے کیا حال ہوگا۔

سوا پانچ بجے شام

 
ہم واپس آئے تو ایک اچھی خبر ملی۔ کراچی میں ہمارے ایک دوست ہیں ڈاکٹر کاشف۔ ان کے ایک دوست متحدہ عرب امارات میں ہوتے ہیں۔ ان کا نام ہے ڈاکٹی سمیت بادھوا۔ وہ انڈین ہیں اور ایک بہترین نیورو سرجن ہیں۔ ہم نے ان سے درخواست کی تھی وہ یہاں آ جائیں۔ افسوس ناک بات یہ ہوئی کہ وہ اسلام آباد تو آ گئے لیکن انہیں صرف پانچ دن کا ویزہ دیا گیا ہے، جو بالکل ناکافی ہے۔ انہیں کم از کم ایک ماہ کے لیے تو ویزہ ملنا چاہیے۔

وادی نیلم اور باغ میں پیرا میڈک سٹاف کی اشد ضرورت ہے۔ ہم ایسے افراد کو معاوضہ دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ایسی خواتین کی بھی بہت ضرورت ہے جو رضاکارانہ طور پر بچوں کے ساتھ کام کر سکیں۔ ایسے ہی بچوں کے ساتھ جنہیں ہم آج اروّ سے ساتھ لائے ہیں۔ ہم انہیں فوج کے پاس لے کر گئے تو انہوں نے کہا کہ آج آپ انہیں اپنے پاس رکھ لیں، آج بالکل جگہ نہیں ہے۔ کل ہم انہیں لے لیں گے۔ سنگاپور والے کیمپ میں بھی یہی ہوا۔ وہ ڈیڑھ سالہ بچی اس وقت بھی ہمارے رضاکاروں کے ساتھ ہے۔ وہ اب بھی صرف ماما کر رہی ہے۔ ہم اس عائشہ کہہ کر پکارنے لگے ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا عائشہ کا کیا کروں۔ یہاں سینکڑوں ایسے بچے ہیں جو لاوارث ہو گئے ہیں۔ اب ہم سوچ رہے ہیں کہ زخمی اور لاوارث بچوں اور خواتین پر زیادہ توجہ دیں گے اور ان کے لیے ایک کیمپ بنانے کی کوشش کریں گے۔

ہم نے سوچا تھا کہ ہم نے تئیس اکتوبر سے آج تک بہت کچھ کیا، لیکن آج فرحانہ کی موت کے بعد ہم وہی کھڑے ہو گئے ہیں جہاں سے ہم چلے تھے۔ بہت کام کرنا باقی ہے۔ بہت رضاکار چاہئیں اور پیرا میڈکل سٹاف ورنہ نہ جانے اور کتنے بچے یہاں اسی طرح مر جائیں گے۔


اگر آپ اس پر اپنی رائے دینا چاہیں تو یہاں کلک کریں:



 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
ماما، انا اور بھا۔۔۔
 
 
 
 
 
 
^^ واپس اوپر تازہ ترین خبریں>>آپ کی آواز >>پاکستان >>