![]() |
|
![]() ستائیس اکتوبر کل کی رات
آٹھ بجے صبح سوا نو بجے صبح سوا گیارہ بجے اروٹ کی آبادی بہت کم تھی مگر اب پوری طرح ختم ہو چکی ہے۔ چالیس کے قریب لاشیں اب بھی وہاں موجود تھی، تدفین کے انتظار میں۔ لیکن نہ کفن تھا اور نہ دفنانے والے۔ اتنی ہی تعداد میں خواتین اور بچے، شدید زخمی حالت میں تھے۔ ہم بہت کچھ چاہتے ہوئے نہیں کر پائے۔ ہمیں پتہ چلا کہ پچھلے تین دنوں میں وہاں سترہ اموات ہو چکی ہیں۔ ہم روز ہمت کرتے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کو دیکھ کر ہمت ہو تی ہے۔۔۔ اور پھر کوئی چیز ایسی سامنے آتی ہے کہ ہماری ہمت ٹوٹ جاتی ہے۔ وہاں زخمی خواتین میں ہمیں ایک بچی ملی۔ اس کی عمر ڈیڑھ دو سال سے زیادہ نہیں ہوگی۔ اس بچی کے ماں باپ اس حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ باپ کا پتہ نہیں چل رہا، ماں کی لاش موجود ہے ملبے کے نیچے، لیکن نکالی نہیں جا سکی۔ تین بھائی بھی ماں کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ بچی زلزلے کے وقت باہر سہن میں کھیل رہی تھی۔ پتہ نہیں کیسے بچ گئی۔ یہ بچی آٹھ اکتوبر سے آج تک ان عورتوں کے رحم و کرم پر ہے۔ روتی بہت کم ہے۔ صرف تین الفاظ بولتی ہے : ماما، انا اور بھا۔۔۔یہ اب تک انتظار کر رہی ہے کہ اس کے بھائی کہیں سے آ رہے ہیں، یا اس کے ماں پاب کہیں سے آ رہے ہیں۔ ان عورتوں نے کہا کہ اب ہم اس کو نہیں سنبھال سکتے۔ آپ اس کو یہاں سے لے جائیں۔ اس کے علاوہ تین اور بچے مقامی لوگوں نے ہمارے حوالے کر دیے۔ سلطان، علی اور اعظم۔ ان کے بھی والدین کا کچھ پتہ نہیں۔ ماوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ملبے کے نیچے ہیں، مگر والدوں کا کچھ پتہ نہیں۔ ان کی عمر گیارہ سے چودہ سال ہے۔ ان چاروں بچوں کو ہم اپنے ساتھ لے آئے۔ ہم تین بجے تک اروٹ میں رہے۔ اور جتنی ہو سکی لوگوں کی طبی امداد کی۔ ہمارے پاس ادویات کی کمی ہے۔ لیکن جتنا ہم سے ہو سکے، ہم کوشش کر رہے ہیں۔ میرے کچھ دوستوں نے اپنی بائکیں بیچ دیں، ایک کی بیوی نے اپنے گہنے بیچ دیے، میں نے اپنی گاڑی بیچ دی۔ ہم سے جو کچھ ہو پا رہا ہے ہم کر رہے ہیں۔ اب ہمیں لائف سیونگ ڈرگس انڈیا یا چین سے منگوانی پڑ رہی ہیں۔ تین بجے سہ پہر چار بجے سہ پہر میں خود دمے کا مریض ہوں۔ بہت تھک چکے ہیں ہم۔ راتوں کو نیند نہیں آتی۔ آنکھیں بند کرتا ہوں تو وہی بچے، وہی خواتین نطر آتے ہیں۔ پھر شرم آتی ہے کہ ہم یہاں بستر پر ہیں جبکہ ان کا نہ جانے کیا حال ہوگا۔ سوا پانچ بجے شام وادی نیلم اور باغ میں پیرا میڈک سٹاف کی اشد ضرورت ہے۔ ہم ایسے افراد کو معاوضہ دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ایسی خواتین کی بھی بہت ضرورت ہے جو رضاکارانہ طور پر بچوں کے ساتھ کام کر سکیں۔ ایسے ہی بچوں کے ساتھ جنہیں ہم آج اروّ سے ساتھ لائے ہیں۔ ہم انہیں فوج کے پاس لے کر گئے تو انہوں نے کہا کہ آج آپ انہیں اپنے پاس رکھ لیں، آج بالکل جگہ نہیں ہے۔ کل ہم انہیں لے لیں گے۔ سنگاپور والے کیمپ میں بھی یہی ہوا۔ وہ ڈیڑھ سالہ بچی اس وقت بھی ہمارے رضاکاروں کے ساتھ ہے۔ وہ اب بھی صرف ماما کر رہی ہے۔ ہم اس عائشہ کہہ کر پکارنے لگے ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا عائشہ کا کیا کروں۔ یہاں سینکڑوں ایسے بچے ہیں جو لاوارث ہو گئے ہیں۔ اب ہم سوچ رہے ہیں کہ زخمی اور لاوارث بچوں اور خواتین پر زیادہ توجہ دیں گے اور ان کے لیے ایک کیمپ بنانے کی کوشش کریں گے۔ ہم نے سوچا تھا کہ ہم نے تئیس اکتوبر سے آج تک بہت کچھ کیا، لیکن آج فرحانہ کی موت کے بعد ہم وہی کھڑے ہو گئے ہیں جہاں سے ہم چلے تھے۔ بہت کام کرنا باقی ہے۔ بہت رضاکار چاہئیں اور پیرا میڈکل سٹاف ورنہ نہ جانے اور کتنے بچے یہاں اسی طرح مر جائیں گے۔ اگر آپ اس پر اپنی رائے دینا چاہیں تو یہاں کلک کریں: |
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ^^ واپس اوپر | |||