![]() |
|
![]() اٹھائیس اکتوبر کل کی رات
صبح ساڑھےچھ بجے آج ہم لوگ وادی نیلم کے ایک اوپری علاقے تروٹ گئے تھے۔ خوش قسمتی سے آج یہاں چنوک ہیلی کاپٹر مہیا تھا۔ صبح ساڑھے نو بجے ہم نے سب سے زیادہ توجہ بچوں پر دی۔ یہاں کے لوگوں میں میں نے ایک جذبہ دیکھا، ہر چھوٹے، بڑے میں کہ وہ سب کہتے تھے کہ میں اتنی زخمی نہیں ہوں، وہ جو میرے سامنے پڑا ہوا ہے، وہ جو درخت کے پاس پڑا ہوا ہے، جو کھیت میں لیٹا ہوا ہے، اس کو آپ دیکھیں، اسے زیادہ ضرورت ہے۔ لوگوں میں اتنی آپس میں محبت اور خلوص ہے۔ ہمارے یہ طے کرنا مشکل ہو گیا کہ پہلے کسے دیکھیں۔ پھر ہم نے فیصلہ کیا کہ پہلے بچوں پر توجہ دی جائے۔ وہاں ہمیں ایک بچہ ملا جس کا نام ہے عبداللہ۔ وہ بچہ اپنے ملبے کے پاس سے نہیں ہٹ رہا تھا۔ اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا بھیڑ کا بچہ تھا اور وہ بس یہی کہہ رہا تھا کہ میری ماں آئی گی تو ہی میں یہاں سے اٹھوں گا۔ اسے سمجھانا بڑا مشکل تھا کہ اس کی ماں اب کبھی نہیں آئے گی۔ اسے ہم بہت مشکل سے وہاں سے لے کر آئے۔ اسے بہت تیز بخار بھی تھا۔ اب اسے ہم نے طبی امداد کے لیے اسلام آباد بھیج دیا ہے۔ یہاں پر بھی زیادہ تر بچے ایسے ہیں جن کی مائیں ملبے کے نیچے ہیں اور بچے یا تو کھیل رہے تھے یا سکول اور گھر کے درمیان کہیں تھے اس لیے بچ گئے ہیں۔ ان بچوں میں سے زیادہ تر کی عمر ایک سے سات سال کے درمیان۔ نو بچے شدید زخمی تھے جنہیں ہم نے اپنی موجودگی میں اسی ہیلی کاپٹر کے ذریعے مظفرآباد بھجوایا۔ یہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوا کہ اینٹی بائٹکس ہمیں کافی کم پڑ گئیں۔ اور وہاں اینٹی ٹیٹنس انجیکشنز کی اشد ضرورت ہے۔ ابھی بھی ہم چالیس زخمیوں کو وہیں چھوڑ کر آئے ہیں۔ اگر انہیں جلد اینٹی ٹیٹنس انجیکشنز نہیں دیے گئے تو مسئلہ ہو سکتا ہے۔ وہاں غذائی قلت بہت زیادہ تھی، کیونکہ یہ بہت اونچا اور دشوار گزار علاقہ ہے۔ اس کے علاوہ بچوں میں نمونیہ، ٹائیفائڈ اور ڈائریا بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ہم نے ان تمام بچوں کو وہاں سے نکال لیا ہے جن کی عمر ایک سے سات سال تک تھی۔ اس کے علاوہ ان شدید زخمی خواتین کو بھی نکال لیا ہے جن کی حالت بہت نازک تھی۔ سوا چار بجے سہ پہر ایک بات اور یہ کہ کل میں نے عائشہ کے بارے میں اپنے بلاگ میں لکھا تھا۔ مجھے بہت اچھا رسپانس ملا۔ کئی لوگ سامنے آئے۔ انہوں نے مدد کی پیشکش کی۔ میں شکر گزار ہوں۔ ایک خاتون نے کینیڈا سے فون کر کے کہا کہ میں بھی آنا چاہتی ہوں۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے کہا کہ میں ان بچوں کا نام لے کر پیسے بنانے کی کوشش کررہا ہوں۔ عائشہ میری بیٹی ہے اور کوئی باپ اپنی بیٹی کا نام پیسے بنانے کے لیے نہیں لیتا۔ اگر یہ بات ہے تو میں اپنی مدد کے لیے وہ اپیم واپس لیتا ہوں۔ جب تک مجھ میں دم ہے میں خود عائشہ اور اس جیسے دوسرے بچوں کی مدد کروں گا۔ ہر بندہ ایک ادارہ ہے۔ ہر انسان یہ سوچلے کہ میں ایک ادارہ ہوں، تو وہ دیکھیں گے کہ اکیلے بھی بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔ چھ بجے شام فیصل آباد سے ہمارے ایک دوست اشرف آئے۔ وہ بچوں کے لیے گرم کپڑے، جوتے اور بسکیٹ لے کر آئے ہیں۔ گدے بنانے کا آئڈیا بہت اچھا تھا۔ ابھی تک ہمارے پاس تقریباً تین سو گدے آ گئے ہیں۔ اب کم از کم یہ اوڑھنے کے نہیں تو بچھانے کے کام تو آئیں گے۔ عرفان کا آپریشن آج ہو گیا۔ اور ہمیں امید ہے کہ وہ بہت جلد اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے گا۔ انڈیا سے ہمارے ایک دوست روہت ورما نے ہم سے کہا ہے کہ وہ ہمیں بائیس لاکھ روپے کی ادویات اگلے چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے تک ممبئی سے اسلام آباد پہنچا کر دیں گے۔ اور انشا اللہ بچوں کا آئی سی یو چند دنوں میں مظفرآباد یا باغ میں شروع ہو جائے گا۔ اگر آپ اس پر اپنی رائے دینا چاہیں تو یہاں کلک کریں: |
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ^^ واپس اوپر | |||