زلزلہ بیتی: عدنان کی ڈائری
 

اٹھائیس اکتوبر
 


کل کی رات

 
کل رات کا زیادہ تر وقت این جی اوز، پاکستانی اور کشمیری حکومت اور آرمی کے رلیف ورکرز کے ساتھ میٹنگز میں گزرا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایک ایسا نظام یہاں بنا دیں جیسا بالاکوٹ میں دیکھا تھا۔ ہم نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ جو اتنے سارے کپڑے پاکستان کے مختلف علاقوں سے لوگوں نے بھیجے ہیں اور جو گرم موسم کے لیے ہیں جس وجہ سے وہ سڑکوں پر پڑے ہوئے ہیں، ان کے ہم نے گدے بنوانے کا فیصلہ کیا۔ یہ حل مظفرآباد کی ہی ایک خاتون نے نکالا۔ وہ ویسے تو امریکہ میں مقیم ہیں مگر زلزلے کے بعد یہاں آگئی ہیں۔
سید عدنان علی نقوی
سید عدنان علی نقوی
ساتھ ہی یہ مسئلہ ہو گیا تھا کہ عائشہ بوتل سے دودھ نہیں پی رہی تھی۔ مجبوراً ہم اسے لے کر کچھ کیمپس کی طرف گئے اور وہاں باقاعدہ ہم نے آوازیں لگائیں کہ کوئی ہے جو اس بچی کو دودھ پلا سکتا ہے۔کافی ساری خواتین ملیں ہمیں۔ تب جا کر عائشہ نے دودھ پیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج صبح ہم اسے، دیگر بچوں کے ساتھ اسلام آباد بھیجنے میں کامیاب ہو گئے۔ عائشہ اب بہت بہتر ہے اور فی الحال میری ماں کے ساتھ ہے۔ کیونکہ اب تک اس کا کوئی رشتہ دار سامنے نہیں آیا ہے۔


صبح ساڑھےچھ بجے

 
کراچی سے ہمارے دوست منصور غیر متوقع طور پر یہاں پہنچ گئے۔ وہ اپنے ساتھ بہت بڑی مقدار میں وہ ادویات اپنے ساتھ لے کر آئے تھے جن کی یہاں اشد ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ وہ ٹینٹ، دودھ کے ڈبے، دریاں، کنبل، ٹارچ اور دیگر چیزیں لے کر آئے تھے۔ یہی امداد لے کر ہم آج آگے تروت گئے۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنے ساتھ پیرا میڈکس، رضاکار اور ڈاکٹر بھی لے کر آئے۔ یہ ساری ٹیم باغ چلی گئی تاکہ وہاں لوگوں کی مدد کی جا سکے۔

آج ہم لوگ وادی نیلم کے ایک اوپری علاقے تروٹ گئے تھے۔ خوش قسمتی سے آج یہاں چنوک ہیلی کاپٹر مہیا تھا۔

صبح ساڑھے نو بجے

 
ہم تروٹ پہنچے۔ تروٹ تقریباً پانچ ہزار فٹ کی اونچائی پر ہے۔ ہمارے ساتھ آرمی کے پانچ پیرا ماڈکس موجود تھے اور چار ڈاکٹر بھی ہمارے ساتھ تھے۔ اس کے علاوہ ہمارا اپنا عملہ تھا اور کافی سارا امدادی سامان بھی تھا۔ یہاں بھی وہی صورت حال ہے جو ہر جگہ ہے۔ طبی امداد کے ساتھ پہنچنے والی ہماری پہلی ٹیم تھی۔ وہاں اس سے پہلے ٹینٹ وغیرہ تو پہنچ چکے تھے مگر آج تک وہاں طبی امداد نہیں پہنچی تھی۔

ہم نے سب سے زیادہ توجہ بچوں پر دی۔ یہاں کے لوگوں میں میں نے ایک جذبہ دیکھا، ہر چھوٹے، بڑے میں کہ وہ سب کہتے تھے کہ میں اتنی زخمی نہیں ہوں، وہ جو میرے سامنے پڑا ہوا ہے، وہ جو درخت کے پاس پڑا ہوا ہے، جو کھیت میں لیٹا ہوا ہے، اس کو آپ دیکھیں، اسے زیادہ ضرورت ہے۔ لوگوں میں اتنی آپس میں محبت اور خلوص ہے۔ ہمارے یہ طے کرنا مشکل ہو گیا کہ پہلے کسے دیکھیں۔ پھر ہم نے فیصلہ کیا کہ پہلے بچوں پر توجہ دی جائے۔

وہاں ہمیں ایک بچہ ملا جس کا نام ہے عبداللہ۔ وہ بچہ اپنے ملبے کے پاس سے نہیں ہٹ رہا تھا۔ اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا بھیڑ کا بچہ تھا اور وہ بس یہی کہہ رہا تھا کہ میری ماں آئی گی تو ہی میں یہاں سے اٹھوں گا۔ اسے سمجھانا بڑا مشکل تھا کہ اس کی ماں اب کبھی نہیں آئے گی۔ اسے ہم بہت مشکل سے وہاں سے لے کر آئے۔ اسے بہت تیز بخار بھی تھا۔ اب اسے ہم نے طبی امداد کے لیے اسلام آباد بھیج دیا ہے۔

یہاں پر بھی زیادہ تر بچے ایسے ہیں جن کی مائیں ملبے کے نیچے ہیں اور بچے یا تو کھیل رہے تھے یا سکول اور گھر کے درمیان کہیں تھے اس لیے بچ گئے ہیں۔ ان بچوں میں سے زیادہ تر کی عمر ایک سے سات سال کے درمیان۔ نو بچے شدید زخمی تھے جنہیں ہم نے اپنی موجودگی میں اسی ہیلی کاپٹر کے ذریعے مظفرآباد بھجوایا۔ یہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوا کہ اینٹی بائٹکس ہمیں کافی کم پڑ گئیں۔ اور وہاں اینٹی ٹیٹنس انجیکشنز کی اشد ضرورت ہے۔ ابھی بھی ہم چالیس زخمیوں کو وہیں چھوڑ کر آئے ہیں۔ اگر انہیں جلد اینٹی ٹیٹنس انجیکشنز نہیں دیے گئے تو مسئلہ ہو سکتا ہے۔

وہاں غذائی قلت بہت زیادہ تھی، کیونکہ یہ بہت اونچا اور دشوار گزار علاقہ ہے۔ اس کے علاوہ بچوں میں نمونیہ، ٹائیفائڈ اور ڈائریا بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ہم نے ان تمام بچوں کو وہاں سے نکال لیا ہے جن کی عمر ایک سے سات سال تک تھی۔ اس کے علاوہ ان شدید زخمی خواتین کو بھی نکال لیا ہے جن کی حالت بہت نازک تھی۔

سوا چار بجے سہ پہر

 
ہم مظفر آباد واپس پہنچے۔ جب یہاں واپس پہنچا تو دیکھا کہ ڈاکٹر کاشان بھی یہاں پہنچ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ زبیدہ جان جن کا ذکر میں نے پہلے کیا تھا، ان کے بیٹے متحدہ عرب امارات سے پہنچ گئے تھے۔ ان کے کسی دوست نے بی بی سی کی سائٹ پر یہ ڈائری پڑھ کر انہیں ان کی ماں کے بارے میں بتایا تھا۔ میں بی بی سی ارود سروس کا بہت شکر گزار ہوں۔ ان کی وجہ سے ایک ماں اپنے بیٹے سے دوبارہ مل گئی۔ زبیدہ جان کے بیٹے نے کہا کہ وہ بھی ہمارے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ تو ہم نے اس بارے میں سوچ کر ان سے کہا کہ وقت ان کی ماں کو ان کی زیادہ ضرورت ہے۔ ایک بار وہ سنبھل جائیں اس کے بعد وہ ہمارے ساتھ کام کرنے کے لیے آ سکتے ہیں۔

ایک بات اور یہ کہ کل میں نے عائشہ کے بارے میں اپنے بلاگ میں لکھا تھا۔ مجھے بہت اچھا رسپانس ملا۔ کئی لوگ سامنے آئے۔ انہوں نے مدد کی پیشکش کی۔ میں شکر گزار ہوں۔ ایک خاتون نے کینیڈا سے فون کر کے کہا کہ میں بھی آنا چاہتی ہوں۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے کہا کہ میں ان بچوں کا نام لے کر پیسے بنانے کی کوشش کررہا ہوں۔ عائشہ میری بیٹی ہے اور کوئی باپ اپنی بیٹی کا نام پیسے بنانے کے لیے نہیں لیتا۔ اگر یہ بات ہے تو میں اپنی مدد کے لیے وہ اپیم واپس لیتا ہوں۔ جب تک مجھ میں دم ہے میں خود عائشہ اور اس جیسے دوسرے بچوں کی مدد کروں گا۔

ہر بندہ ایک ادارہ ہے۔ ہر انسان یہ سوچلے کہ میں ایک ادارہ ہوں، تو وہ دیکھیں گے کہ اکیلے بھی بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔

چھ بجے شام

 
آج آخر جمعہ کے حوالے سے ہم نے یہاں ان بچوں کے لیے ایک افتار پارٹی جیسی کچھ رکھی تھی، جن کے ورثاء کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ اسی دوران ہمیں وادی جہلم سے اطلاع ملی ہے کہ وہاں تقریباً آٹھ سو بچے ایسے ہیں جنہیں ویکسین کی اشد ضرورت ہے۔ اور ہم نے ابھی ایک ہنگامی میٹنگ میں فیصلہ کیا ہے کہ ہم ابھی وہاں جائیں گے۔ جیسے ہی ہمیں ویکسین اسلام آباد سے مل جاتی ہیں ہم وادی جہلم کے لیے نکل جائیں گے۔
فیصل آباد سے ہمارے ایک دوست اشرف آئے۔ وہ بچوں کے لیے گرم کپڑے، جوتے اور بسکیٹ لے کر آئے ہیں۔ گدے بنانے کا آئڈیا بہت اچھا تھا۔ ابھی تک ہمارے پاس تقریباً تین سو گدے آ گئے ہیں۔ اب کم از کم یہ اوڑھنے کے نہیں تو بچھانے کے کام تو آئیں گے۔
عرفان کا آپریشن آج ہو گیا۔ اور ہمیں امید ہے کہ وہ بہت جلد اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے گا۔

انڈیا سے ہمارے ایک دوست روہت ورما نے ہم سے کہا ہے کہ وہ ہمیں بائیس لاکھ روپے کی ادویات اگلے چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے تک ممبئی سے اسلام آباد پہنچا کر دیں گے۔ اور انشا اللہ بچوں کا آئی سی یو چند دنوں میں مظفرآباد یا باغ میں شروع ہو جائے گا۔


اگر آپ اس پر اپنی رائے دینا چاہیں تو یہاں کلک کریں:



 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
’ہر بندہ ایک ادارہ ہے‘
 
 
 
 
 
 
 
^^ واپس اوپر تازہ ترین خبریں>>آپ کی آواز >>پاکستان >>