![]() |
|
![]() انتیس اکتوبر شب کا سفر کل رات ساڑھے گیارہ بجے ہم مقامی لوگوں کی رہنمائی میں جہلم وادی کے لئے روانہ ہوئے۔ آرمی اور دیگر اداروں نے ہم نے سے کہا تھا کہ رات کے وقت اور موسم کی وجہ سے ہیلی کاپٹر اڑانا مشکل ہے، لیکن چونکہ بچوں کا معاملہ تھا اور ہمارے پاس ٹیکے اور دوائیں تھیں اس لئے ہم چل پڑے۔ کافی شب کو ہم جہلم وادی کے قریب پہنچے، وہاں ایک علاقہ پانچ ہزار فِٹ کی پہاڑی پر، وہاں چھوٹے چھوٹے گاؤں ہیں، کافی تباہی ہوئی ہے۔ میں نے جوکچھ دیکھا ہے اگر آزاد کشمیر کو وادئ موت کہا جائے تو کم نہیں ہوگا، اوپر چڑھنا مشکل ہے، ہم پہاڑی نہیں ہیں، ہم عمارتوں میں چڑھنے کے عادی ہیں، وہ بھی لِفٹ سے۔ مقامی لوگوں نے کافی مدد کی اور ہم خان کوٹ پہنچنے۔ حالات بہت خراب تھے، اتنے خراب حالات میں نے اس دورے پر شمالی علاقہ جات اور کشمیر کے دوسرے علاقوں میں نہیں دیکھا۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے ہیں جن کے زخم اب خراب ہوچکے ہیں، کئی کو ٹیٹنس ہوچکا ہے، کئی بچے جو بچ چکے تھے موسم اور غذا نہ پہنچنے کی وجہ سے ان کے کافی برے حالات ہیں، ان بچوں کے حالات سب سے خراب ہیں جن کے والدین میں سے کوئی ہلاک ہوگیا ہے اور ان کی مائیں اس قابل نہیں ہیں کہ وہ ان کی دیکھ بھال کرسکیں، کھانے پینے کے حوالے سے بھی بہت برے حالات ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ چوبیس گھنٹے میں کوئی کہیں سے، مکان کے اندر سے کچھ ڈھونڈ کر نکال لائے، پچھلے اڑتالیس گھنٹوں سے ان کا گزارا صرف شکرقندی یا کھجوروں پر تھا جو کہیں سے انہوں نے جمع کررکھی تھیں۔
’یہ میرا لالہ ہے۔۔۔۔‘ اسی طرح کے وہاں سترہ بچے موجود ہیں جن کی کریٹیکل کنڈیشن ہیں۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ اگر ہم ان کو مظفرآباد پہنچاسکتے، لیکن ٹرانسپورٹیشن کا مسئلہ ہے، ہم خود خچروں پر پہنچے تھے۔ ہماری ٹیم میں کل چالیس لوگ تھے، ہم سترہ بچوں کو لیکر وہاں سے پیدل اور خچروں پر نکلے تھے، راستے میں روڈ بند ہیں، اوپر سے زلزلے نے ہم کو ہلاکر رکھ دیا، ایک بھینکر پریشانی جس نے ہم سب کی کمر توڑ دی، چونکہ ہمارے پاس آکسیجن اور کچھ ضروری ادویات نہیں تھیں اس لئے ان بچوں میں سے سات کی موت ہمارے ہاتھوں میں ہوئی، سلیمان بھی میرے ہاتھوں میں مرگیا۔ ان مرے ہوئے اور زندہ بچوں کو لیکر آج صبح مظفرآباد پہنچے ہیں، یہاں آرمی بیس کیمپ اور امریکن بیس کیمپ میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ کافی دیر ہوچکی ہے۔ وادئ موت بن جائے گی۔۔۔ مجھ سے کسی نے سوال کیا کہ یہ تمہارا کون ہے، ہم سب سے سوال ہوتا ہے کہ یہ تمہارا کون ہے، رشتہ دار ہے؟ میں کہتا ہوں کہ یہ میرے سگے ہیں، ہم سب آدم کی اولاد ہیں۔ ہم یہاں پر اس لئے آئے ہیں کہ ہم ان کی مدد کرسکیں جن تک کوئی نہیں پہنچ پایا ہے، ہم موسم کا بہانہ کب تک کرتے رہیں گے، آخر لوگ اوپر سے اتر کر تو آرہے ہیں، ہم بھی جارہے ہیں، اگر ہم نے مزید تاخیر کی تو یہ وادئ موت بن جائے، پھر تاریخ ہمیں بہت برے الفاظ میں یاد رکھے گی۔ پہلی بار یہ ہوا کہ سات بچے ہماری ہاتھوں میں مر گئے۔ آج اسلام آباد میں مجھے میٹنگ کے لئے بلوایا گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ مظفرآباد آئیے، آپ راولاکوٹ، باغ جائیے، آپ شہر میں نہیں دیہاتوں میں جائیں۔ ہم نے ان سے کہا کہ اگر آپ کا ہیلی کاپٹر وہاں نہیں پہنچتا ہے تو ہمیں ایسی جگہ چھوڑ دیں جہاں سے ہم پیدل جاسکیں۔ آج ہماری ٹیم افسردہ ہے، سات بچوں کو دفنایا ہے۔ خدا ہمیں اس بڑے امتحان سے نکال لے۔ یہاں میڈیکل ٹیم کی کمی ہے، ہم ہار رہے ہیں، ہمیں کچھ جان بچانے والی دوائیں اور انجیکشن چاہئے جو کہ اس وقت پورے پاکستان میں نہیں ہیں، میں نے منسٹری سے کہی کہ پلیز ہمیں باہر سے منگوانے کی اجازت دیں، انڈیا سے آفر ہے، وہاں جو دوا بنانے والے ادارے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ ہم صرف کاسٹ پر (بغیر منافع کے) آپ کو یہ چیزیں مظفرآباد یا اسلام آْباد پہنچا دیں گے۔ ہم حکومت سے کہہ رہے ہیں کہ یہ ہمیں دیں، حکومت کہتی ہے کہ ایک ہفتے کا ٹائم دیں۔ ایک ہفتہ بہت زیادہ ہے، ایک ایک لمحہ قیمتی ہے، ایک منٹ میں کتنے بچے مررہے ہیں، خان کوٹ کے بارے میں بتایا گیا کہ کتنے مرد اور خواتین زندہ تھے ان کی اموات ہوگئیں۔ ابھی بھی وہاں کا موسم خراب ہے۔ ہم دوبارہ خان کوٹ جانے کی کوشش کریں گے، تودے گرنے کی وجہ سے راستے بند ہوگئے ہیں۔ لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھا میں لوگوں کو بچانے کے لئے آیا تھا، لیکن لوگوں کو اپنے سامنے مرتے ہوئے دیکھا۔ رات کے زلزلے کے بعد لوگوں نے خیمے کے اندر رہنا بند کردیا۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ ایک ہفتے میں ایک لاکھ ٹینٹ آرہے ہیں، لیکن ایک ہفتے میں ٹینٹ کا استعمال کرنے والا رہے گا بھی یا نہیں۔ رات کو جن بچوں کی موت ہوئی ان کے نام لینا چاہوں گا: تین سے سات سال کی عمر کے درمیان -- علی جان جس کے والدین کے بارے میں معلوم نہیں، مراد کی ماں زندہ ہے جو سکتے کے عالم میں ہے، دو سال کا بچہ ہے شہ روز جسے ہم جب لارہے تھے اس نے سختی سے ہاتھ میں پینسل پکڑی تھی، اس کی ماں نے ہمیں نکالنے سے منع کیا۔ عادل کی عمر سات سال کی ہے، خرم ہے ، صدام ہے، طلحیٰ ہے، ان کی عمر تین سے گیارہ سال کے اندر ہے۔ امدادی ٹیموں کے آنے کے انتظار میں بہت لوگ مر جائیں گے۔ اقوام متحدہ، یونیسیف نے آج اعلان کیا ہے کہ اگر انہیں امداد نہیں پہنچی تو انہیں اپنا آپریشن بند کرنا پڑے گا۔ اگر ایسا ہوا تو ایک قیامت ہی آرہی ہوگی۔ ہم نے کراچی میں ڈاکٹروں سے اپیل کی ہے، ہمیں نیوروسرجن اور آرتھوپیڈِک ڈاکٹروں کی ضرورت ہے، ہمیں جنریٹروں کی ضرورت ہے جو بچوں کی آئی سی یو کو چلانے کے لئے ضروری ہے، کئی عورتیں ماں بننے والی ہیں، ہمیں چائلڈ اسپیشلِسٹ کی ضرورت ہے۔ ماہ رخ کو بھی آج یہاں لایا گیا ہے۔ میں منہ چھپاتا پھررہا ہوں، وہ مجھ سے پوچھے گی کہ میرا لالہ کہاں ہے۔۔۔۔ اگر آپ اس پر اپنی رائے دینا چاہیں تو یہاں کلک کریں: |
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ^^ واپس اوپر | |||