زلزلہ بیتی: عدنان کی ڈائری
 


 
تیس اکتوبر
 


(اگر آپ امدادی کاموں میں عدنان علی کی مدد کرنا چاہیں تو ان سے اس نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں : 00923333426031 )

ہماری کل رات گیارہ بجے سے لیک صبح تین بجے تک میٹنگ ہوئی ہیں یہاں لوکل گورنمنٹ کی سِوِل مینجمنٹ کے ساتھ اور اسلام آباد میں پی ایم سیکریٹریٹ سے بھی رات کو ڈھائی بجے رابطہ کیا، اور ان کو بتایا کہ یہاں ریلیف کا کام سست ہوگیا ہے، معلوم نہیں کیا وجہ ہے۔ لیکن آج موسم نے ہمارا تھوڑا ساتھ دیا جس کے بعد آج کچھ تیزی سے کام ہوا، کچھ مزید ہیلی کاپٹر آئے ہیں، دنیا کا سب سے بڑا ہیلی کاپٹر آیا ہے، بہت اچھا کام ہوا ہے اور اس کے بعد ہم نے تھوڑا سا ریسٹ بھی کیا۔
سید عدنان علی نقوی
سید عدنان علی نقوی
چار بجے سے سات بجے صبح کے درمیان ہمیں دوائیں ملی ہیں، جو کچھ دوستوں نے بھجوائی ہیں، جو کہ بی بی سی کے ذریعے انہوں نے ہم سے کنٹیکٹ کیا، اور بھی مزید سپورٹ مل رہی ہے، ایک کامیابی یہ ہوئی کہ ہم نے کچھ خاندانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ویکینڈ یہاں آکر گزاریں یہاں کی فیملیز کے ساتھ، خصوصا ان بچوں کے ساتھ جو کے اپنے والدین کھوچکے ہیں یا اپنی فیملیز سے بچھڑ چکے ہیں، بہت ساری فیملیز یہاں آئیں اسلام آباد سے، راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد اور مزید شہروں سے، اور کل اور آج کا دن یہاں گزارا۔

کئی فیملیز یہاں آئیں

 

ان فیملیز میں میری اپنی دو بہنیں بھی تھیں جو کہ میرے بھائی کی موت کے بعد چلی گئیں تھیں، ایک کینیڈا گئی تھیں، ایک سنگاپور، وہ آپس آئی ہیں سامان کے ساتھ، میری والدہ بھی آئیں، تو ایک عرصے کے بعد میں نے اپنی والدہ کے ہاتھ کی پکائی ہوئی روٹی اور سالن کل رات کو کھایا، اس سے پہلے آٹھ دس دن میں ہمیں اس طرح کا کھانا میسر نہیں ہوا تھا۔

صبح آٹھ بجے کے قریب یہاں تھوڑا مسئلہ یہ ہوا کہ ہیلی کاپٹر نہیں مل رہا تھا، ہمیں وادئ جہلم میں جانا تھا، ہم نے اپنی ٹیم کو دو حصوں میں تقسیم کیا، ایک ٹیم گئی وادئ نیلم میں ہٹیاں بالا کے مقام پر، اور دوسری ٹیم جس میں میں شامل تھا وہ وادئ جہلم میں اشکوٹ کے مقام پر اتاری گئی۔


اشکوٹ میں ادویات کی کمی

 

اشکوٹ ایک بہت خوبصورت علاقہ رہا ہے، میں یہاں دوسری دفعہ آیا ہوں، عام حالات میں بھی یہاں پہنچنا مشکل ہوتا ہے، آج کل سڑکیں خراب ہوچکی ہیں، اس لئے یہاں پہنچنا صرف ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ دوسری مشکل یہ ہوئی ہے کہ چونکہ عید کا موقع آگیا ہے تو ہمارے کچھ دوست جو کراچی اور لاہور سے آئے تھے، ان میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی بڑی تعداد تھی، ان میں سے بعض آج کچھ عرصے کے لئے چلے گئے ہیں۔ ان کی کمی ہمیں بہت محسوس ہورہی ہے، ہم صرف چالیس نیورو اسپیشلِسٹ رہ گئے ہیں۔

اشکوٹ جب ہم پہنچے تو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ وہاں آرمی، جاپانی اور اطالوی ٹیم موجود تھیں۔ لیکن ادویات کی کمی ہے، خیمے جو دیے گئے ہیں وہ ناکافی ہیں، یہ ٹینٹ گرمیوں کے لئے ہیں، جو دوائیں دستیاب ہیں وہ عام حالات میں استعمال کرنے والی ہیں، زندگی بچانے والی ادویات نہیں ہیں جیسے ٹیٹنس کے لئے دوا نہیں ہے۔ علاوہ اشکوٹ کے آگے کی آبادیوں تک پہنچنے کی ضرورت ہے، مزید علاقوں میں آٹھ سو کے قریب لوگ موجود ہیں جن تک امداد نہیں پہنچی ہے۔ ہمارا اب فوکس دور دراز کے علاقوں پر ہورہا ہے، ایسے علاقوں کی ہم نشاندہی کررہے ہیں، اور مقامی لوگوں اور ساتھیوں کی مدد سے پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔



اگر آپ اس پر اپنی رائے دینا چاہیں تو یہاں کلک کریں:




 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
اشکوٹ میں ادویات کی کمی
 
 
 
 
 
 
 
 
 
^^ واپس اوپر تازہ ترین خبریں>>آپ کی آواز >>پاکستان >>