پیر، رات دس بجے:
جیسا کہ کل رات دس بجے ہم نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اب ہمیں آگے جانا ہی ہوگا۔ اس لئے ہم نے ایک بار پھر اپنی پوری ٹیم کو جمع کیا جو کل انتیس افراد پر مشتمل تھی اور کہا کہ اب جو جانا چاہتا ہے، جا سکتا ہے کیونکہ ہمیں حود نہیں معلوم کہ ہماری اگلی منزل کیا ہوگی اور کیا حالاتت ہوں گے۔ ان میں سے بیس لوگوں نے آگے جانے کا فیصلہ نہیں کیا۔
ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور نو کارکنوں کی ٹیم کے ساتھ آگے سفر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں تین ڈاکٹرز، ڈاکٹر کاشان، ڈاکٹر خورشید اور ڈاکٹر فرخ، تین پیرامیڈکس، اسلم، کنول، خرم، ایک سول انجنیئر یاور اور ایک میں اور ایک اور رضاکار شامل ہے۔
ہمیں دو مقامی نوجوانوں کا ساتھ بھی حاصل ہے جو ان علاقوں کے لیے بہترین ڈرائیورز ہیں اور اپنی ہائی لیکس کے ساتھ صرف ڈیزل کے اخراجات کے ساتھ مفت چلنے کو تیار ہیں۔
ہماری اگلی منزل وادی نیلم میں نوسیری کا علاقہ ہے، جہاں جانے کا راستہ تھوڑا دشوار ہے، مگر ہم وہاں پہنچ ہی جائیں گے۔
پیر، صبح چار بجے :
ہم نوسیری پہنچ گئے ہیں۔ ہمارے دو مقامی ڈرائیوروں نے بہت مہارت سے ڈرائیونگ کی اور خطرناک راستوں سے ہوتے ہوئے ہم یہاں پہنچ گئے۔ یہاں اس وقت بھی لوگ جاگ کر رمضان کی ستائیسویں رات کی عبادت میں مصروف ہیں۔ کچھ جگہوں سے بچوں کے رونے کی آوازیں آ رہی ہیں۔ ہم نے اپنا کچھ سامان اتارا اور ان بچوں کو کچھ گرم کپڑے اور ٹینٹ دیئے جو سردی کی وجہ سے رو رہے تھے۔ یہاں بھی امداد کی بہت کمی ہے۔ درجہ حرارت منفی تک چلا گیا ہے۔ مجھے دمے کا دورہ پڑا تھا مگر اب بہتر ہوں۔
یہاں ہم نے کچھ ایسے بچے دیکھے جن کی عمر آٹھ سے پندرہ دن کے درمیان ہے۔ ان کی یا تو مائیں نہیں ہیں، اور اگر ہیں تو وہ انہیں دودھ پلانے کے قابل نہیں ہیں۔ ہم سے جو بھی ہو سکتا ہے ہم کر رہے ہیں۔ ان بچوں کو فوری طور پر اسلام آباد منتقل کرنا ہوگا۔
ہم خود سردی سے بہت پریشان ہیں۔ سحری کے وقت تھکان کی وجہ سے آرام کا سوچا، تو باہر سے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ جا کر دیکھا تو ایک زخمی خاتون کا انتقال ہو گیا تھا۔ خدا جانے ابھی اور کتنے لوگ مریں گے۔۔۔
منگل، صبح آٹھ بجے:
رات کی شدید ٹھنڈ کی وجہ سے ڈاکٹر کاشان اور مجھے بخار ہو گیا ہے۔ دوا لینے کا سوچتے ہیں تو ڈاکٹر کاشان کہتے ہیں کہ شاید کسی اور کو ضرورت نہ پڑ جائے۔ خیر اب کچھ آرام ہے۔ یہاں پہلے ہم نے تمام زخمی بچوں اور خواتین کو ایک کیمپ میں جمع کیا۔ یہاں اب تک کوئی طبی امدادی کیمپ نہیں بنایا گیا ہے۔ ان سب کو اینٹی ٹیٹنس ٹیکے لگائے، باقی کی مرہم پٹی کی۔ رضاکاروں کی کمی کی وجہ سے بہت دیر ہو رہی ہے۔ لیکن یہاں کے مقامی لوگ بہت کام آ رہے ہیں۔ اس وقت بھی ان کے چہروں پر شکایت نہیں ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ کوئی آیا تو۔۔۔
منگل، صبح نو بجے:
آرمی کا ایک ہیلی کاپٹر آتا دکھائی دیا تو اس کی توجہ اپنی جانب کرنے کے لیے ہم نے آگ جلائی۔ شکر ہے کہ وہ یہاں اترا۔ پائلٹ کو ہم نے یہاں کے حالات بتائے۔ اس نے وعدہ کیا ہے کہ اگلی ٹرپ میں یہاں سے بیمار اور زخمیوں کو لے جائے گا اور مظفرآباد جا کر یہاں کے حالات بتائے گا۔ شاید کسی کو یہاں کا بھی خیال آئے۔
منگل، صبح گیارہ بجے:
ہیلی کاپٹر واپس آیا ہے اور اپنے ساتھ کچھ امداد اور ایک میڈکل ٹیم بھی لایا ہے۔ یہاں ان بچوں کی حالت بہت خراب ہے جن کی مائیں ہی نہیں ہیں۔ ہم ان کے لیے بہت پریشان ہیں۔ زخمیوں کو منتقل کیا جا رہا ہے، اور ہمیں لوگ اب آگے کا کہہ رہے ہیں کہ وہاں جائیں جہاں حالات یہاں سے بھی زیادہ خراب ہیں۔ اب ہم جمال شاہی کی طرف جا رہے ہیں۔
منگل، تین بجے سہ پہر:
ہم جمال شاہی پہنچ چکے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ یہاں ایک آرمی ٹیم نے طبی کیمپ لگایا ہوا ہے۔ نیٹو سے بھی کچھ لوگ آئے ہوئے ہیں اور ہماری فوج ان کی حفاظت میں لگی ہوئی ہے۔ ایک جرمن ٹیم بھی یہاں موجود ہے۔
ہم نے جمال شاہی کے لوگوں سے اپر کے علاقوں کا حال پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نیچے تو کیمپ ہیں لیکن اوپر کوئی جانے کو تیار نہیں۔ اب ہم اوپر جا رہے ہیں، شاید ہم کوئی زندگی بچا سکیں۔
منگل، چھ بج کر دس منٹ شام:
سردی بہت ہو رہی ہے۔ شاید اللہ ہمارا بھی امتحان لے رہا ہے۔ ہمیں زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ اوپر گئے تو وہاں ایک ماں اپنی چار بیٹیوں کو کھلے آسمان کے نیچے لے کر بیٹھی تھی۔ اس کا شوہر اس کی مدد کا وعدہ کرکے دو دن سے گیا ہوا ہے۔ ان کی حالت بہت خراب ہے، خرم اور کاشان کا کہنا ہے کہ وقت بہت کم ہے۔ ان بچیوں کے نام یاسمیںن (عمر دو سال)، گلِ لیلا (تین سال) اسماء (چار سال) اور بختاور (چھ سال) ہیں۔ ان کا اکلوتا بھائی نیچے ایک سکول میں پڑھنے گیا تھا ابھی تک واپس نہیں آیا۔ یہ بچیاں ابھی تک اپنے باپ کی منتظر ہیں۔ ہم خدا کی اس آزمائش پر روئیں یا کیا کریں۔
تقریباً پینتیس اور لوگ بھی ہیں جو پلاسٹک کی شیٹس اور ٹوٹی پھوٹی چارپائیوں کے نیچے پناہ لئے ہوئے ہیں۔
ایک ہیلی کاپٹر آیا تھا، ان کا کہنا ہے کہ مظفراْاد اور اسلام آباد کے تمام ہسپتال بھرے ہیں۔ ہمارے پاس کل تین خیمے تھے جو انہیں دے دئیے گئے ہیں۔
میں اس وقت نیٹو کے ایک جوان لیفٹیننٹ جان ایرا کے ساتھ ہوں۔ نہ میرا موبائکل کام کرہا ہے اور نہ لیپ ٹاپ۔۔۔میں ان کے لیپ ٹاپ سے ہی یہ ڈائری بھیج رہا ہوں جو کام کررہا ہے۔
رات پھر آچکی ہے، سردی کا نہ ہی پوچھیں۔ ڈاکٹر کاشان آئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ مزید گرم کپڑوں کی ضرورت ہے۔ ہم اپنا سارا سٹاک یہیں اتار رہے ہیں، انہیں تو کچھ آسرا ہو۔
آخری بات:
سب پڑھنے والوں کا شکریہ دعاؤں میں یاد رکھیں۔ اپیل یہی ہے کہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈکس کی ضرورت ہے۔ غذا کی کمی ہے، ہم نے خود دو لوگوں نے ایک بسکٹ کا پیکٹ مل کر کھایا ہے۔ امی آپ فکر نہ کیجیے گا، میرا انہیلر ساتھ ہے، جیسے ہی فون نے کام کیا، آپ ہی سے پہلے رابطہ کروں گا۔
خدا کرے آج کی رات کسی طرح کٹ جائے۔
اگر آپ اس پر اپنی رائے دینا چاہیں تو یہاں کلک کریں: