زلزلہ بیتی: عدنان کی ڈائری
 

بدھ، دو نومبر
 


منگل، شام:

 
ہم جمال شاہی سے اوپر ایک لواری نامی قصبہ ہے، وہاں پہنچے۔ اس کی آبادی تقریباً آٹھ سو کے قریب ہے۔ ہم نے رات وہیں گزاری۔ یہاں زخمیوں کے علاوہ بیمار بچوں اور بیمار خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ تھوڑی بہت بارش بھی ہوگئی۔ رات ہم نے یہیں گزارنے کا فیصلہ کیا۔

بدھ، صبح آٹھ بجے:

 
دوائیاں تقریباً ختم ہورہی ہیں۔ اگرچہ سٹاک مظفرآباد میں موجود ہے لیکن لینڈسلائیڈ ہوجانے کی وجہ سے راستے پھر بند ہوگئے ہیں۔ نہ ہم لوگ یہاں سے متاثرین کو منتقل کر پارہے ہیں اور نہ ہی واپس جا سکتے ہیں۔

یہاں ہمیں ایسی باتیں سننے کو ملیں کہ امدادی سامان کچھ جگہوں پر بک رہا ہے۔ جمال شاہی دراصل فوج اور نیٹو دونوں کی بیس بنا ہوا ہے۔ تو ہم نے سوچا کہ ان حالات میں کچھ ادھر ادھر نظر ماری جائے کہ ہو کیا رہا ہے۔ جب ہم نے اس کا جائزہ لیا تو حیرت انگیز بات یہ تھی کہ نہ صرف یہ بک رہی ہے بلکہ بعض اوقات سوگنا قیمت سے بھی زیادہ پر بک رہی ہے۔ میں نے خود امدادی پیکیٹ خریدے، جن پر اب تک مختلف این جی اوز کی مہر لگی ہوئی تھی۔ بہت افسوس ہوا کہ امداد اس طرح بک رہی ہے۔ یہاں تک کہ لوگوں نے ہمیں پیسے دینے کی کوشش کی کہ ہم جو امداد لائے ہیں اسے انہیں بیچ دیں۔

بیچنے والوں میں مقامی افراد بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو مقامی نہیں ہیں۔ یہ بھی سمجھ نہیں آرہا کہ حکومت کیا کر رہی ہے۔

ایک واقعہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ ہمارے ساتھ ایک خاندان تھا جسے ہم نوسیری سے اپنے ساتھ لائے تھے کہ جیسے ہی موقع ملا ہم انہیں کسی ہیلی کاپٹر کے ذریعے مظفرآباد بھیج دیں گے۔ اس خاندان میں ایک خاتون اور ان کی کم عمر کی چار بچیاں ہیں۔ ایک مردوں کاگروپ آیا۔ وہ لوگ کشمیری بالکل نہیں بول رہے تھے اور مقامی کسی صورت نہیں تھے۔ انہوں نے یہ جتانے کی کوشش کی کہ وہ اس خاندان کے رشتہ داروں میں سے ہیں۔ جبکہ وہ خاتون کہتی رہیں کہ میں انہیں نہیں جانتی۔ ان میں سے ایک نے تو ایک بچی کو بھی اٹھا لیا تھا یہ کہتے ہوئے کہ یہ میری پوتی ہے۔ شکر ہے کہ ہم نے فوج کی مدد سے ان کو ناکام کر دیا۔

دوائیں تمام ختم ہوگئی ہیں، میرا انہیلر بھی ختم ہوگیا ہے۔ درجہِ حرارت خطرناک حد تک گر گیا ہے۔ گرم کپڑوں کا سٹاک بھی ختم ہوگیا ہے، شاید ان سب چیزوں کا مل کر اثر ہورہا ہے۔ ہمیں صحیح معنی میں اندازہ ہوا کہ لوگ واقعی کتنی مشکل میں یہاں پر ہیں۔ کل کی رات ہم پر بہت مشکل تھی۔

بدھ تین بجے، سہ پہر:

 
ہم ترائے پہنچے۔ ہم نے سنا تھا کہ یہاں کوئی زندہ نہیں بچا ہے۔ وہاں شاید کبھی زندگی رہی ہوگی، لیکن میں نے پہلی دفعہ دیکھا ہے کہ پورے گاؤں کی پوری آبادی تباہ ہو چکی ہے۔ اس گاؤں میں تقریباً ڈیڑھ سو گھر تھے۔ ایک بھی زندہ شخص ہمیں نہیں ملا۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ہم نے ایک ایسا گاؤں دیکھا ہے جہاں ہمیں زندگی کا کوئی نشان نہیں ملا۔ لاشیں اب تک چاروں طرف پڑی ہوئی ہیں۔ بدبو ویسی ہی ہے جیسی پہلے دنوں میں مظفرآباد میں تھی۔

بدھ چار بجے، سہ پہر:

 
ترائے کے نیچے نلول کے نام سے ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ یہاں اب بھی زخمی موجود ہیں۔ یہاں پہنچے تو غیر متوقع طور پر ہمیں سات نو زائدہ بچے مل گئے۔ یہ بچے مختلف خاندانوں کو مختلف جگہوں پر ملیں ہیں۔ ان بچوں کی کم از کم عمر ایک ہفتہ ہے اور ان کے بارے میں کچھ نہیں پتہ کہ یہ کہاں سے آئے، کس کے ہیں۔ سردی اور غذا کی کمی کی وجہ سے ان بچوں کی حالت بہت خراب ہے۔

ان بچوں کی وجہ سے مظفرآباد جلد سے جلد لوٹنا ضروری ہو گیا ہے۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ ہم نے جذبات میں آکر ایک ہفتے تک دشوار گزار علاقوں میں جانے کا فیصلہ کیا تو تھا اور ہم اب بھی اس پر قائم ہیں لیکن ہماری ادویات اور گرم کپڑے ختم ہو گئے ہیں۔ خالی ہاتھ ہم آگے نہیں جا سکتے۔ اس کے علاوہ اپنی صحت کا بھی کچھ مسئلہ تھا۔ اس لیے مظفرآباد واپس جانا ضروری ہے۔

بدھ شام ساڑھے چھ بجے:

 
میں اب واپس مظفرآباد پہنچا ہوں، میں کچھ بیمار ہوگیا ہوں۔ اس کی وجہ سے نزلہ زکام اور بخار ہوگیا ہے۔ ان نوزائدہ بچوں کو ہم روئی میں لپیٹ کر یہاں لائے ہیں۔

واپس پہنچنے کے بعد پتہ چلا کہ باغ سے بھی امدادی سامان کے بکنے کی خبریں مل رہی ہیں۔ خود یہاں مظفرآباد میں بھی کچھ ایسی اطلاعات مل رہی ہیں۔ ابھی میں خود جاکے دیکھنے کی کوشش کروں گا۔

یہاں اب تک کوئی ایڈوانسڈ لیب نہیں ہے جس میں بیماروں کے ٹیسٹ کیے جا سکیں۔ میں نے ڈبلیو ایچ او کو مشورہ دیا ہے کہ ہم جو بچے اوپر سے لے کر آئے ہیں ان کی حفاظت کے لیے یہاں ایک ڈی این اے لیب قائم کی جائے تاکہ انہیں لینے کے لیے ویسے ہی گروپ نہ آ جائیں جیسے ہم نے اوپر دیکھے ہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم خود روز ایک سو ٹیسٹس کا خرچہ اٹھائیں گے۔ تاکہ یہ بچے غلط ہاتھوں میں نہ پڑیں۔

اب ارادہ یہ ہے کہ صبح ہوتے ہی ہم دریا نیلم کے ساتھ ساتھ آگے کے علاقوں کی طرف جائیں گے۔ ان میں سے کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں اب تک کوئی امداد نہیں پہنچی اور زندگی اب بھی موجود ہے اور بہت مشکل میں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ برف ہونے سے پہلے اپنا سارا سٹاک لواری یا جما شاہی منتقل کر دیں۔

آخری بات۔۔۔:

 
میں چاہتا ہوں کہ عید کے روز جن بچوں کو ہم ان علاقوں سے نیچے لے کر آئے ہیں، ان کے ساتھ گزاروں۔ یہ موقع عید کی خوشی منانے کا نہیں۔ مگر ان بچوں کے ساتھ مل کر شاید یہ خود کو ذہنی طور پر مضبوط کرنے کا وقت ہے۔ ہمارے بہت سارے دوست دور دور سے آئے ہیں ان بچوں کے ساتھ عید گزارنے اور ان کے لیے سامان لے کر۔ ان میں اشفاق نامی ایک طالب علم بھی ہے جو بہت دور سے یہاں اکیلے آیا اور ان بچوں کے لیے کپڑے وغیرہ لے کر آیا اور ان بچوں میں انہیں تقسیم کیا۔

امی سے آج بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ کراچی میں زندگی بالکل معمول پر آگئی ہے۔ جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں۔ یہ وقت بھولنے کا نہیں۔ اپنے چاہنے والوں کے ساتھ عید مناتے ہوئے ان ہزاروں لاکھوں افراد کو بھی یاد کر لینا چاہیے جو یہاں ان حالات میں عید منائیں گے۔


اگر آپ اس پر اپنی رائے دینا چاہیں تو یہاں کلک کریں:


 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
’یہ وقت بھولنے کا نہیں‘
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
^^ واپس اوپر تازہ ترین خبریں>>آپ کی آواز >>پاکستان >>