زلزلہ بیتی: عدنان کی ڈائری
 

کس کو مبارک باد دوں
 


بدھ، رات:

 
نیلم کے لیے روانہ ہونے کا فیصلہ تو ہو ہی چکا تھا، ہم نے اپنا تمام سامان پیک کیا اور گاڑیوں کا انتظام کرلیا۔ تمام سامان گاڑیوں پر لوڈ کرنے میں صبح کے چار بج گئے۔ تھکن اور طبیعت کے پیشِ نظر آرام ضروری لگ رہا تھا، سو کچھ آرام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔


عدنان کے لئے چند ضروری پیغام:
سلام عدنان، نیلم ویلی میں ریلیف کیمپ کے قیام کے بارے میں جو ہماری بات چیت ہوئی تھی، اس کے بعد ہم نے خیمے امدادی سامان اور ایک ٹیم تیار کرلی ہے۔ میں نے آپ سے سیل پر بہت رابطہ کیا مگر ممکن نہ ہوسکا، اسی لئے ہم آپ سے اس صفحے کے ذریعے رابطہ کر رہے ہیں۔ ہم اتوار کو مظفرآباد کی طرف چل پڑیں گے، ازراہِ مہربانی ہم سے اس سلسلے میں رابطہ کیجئے تاکہ ہم امدادی کام کے لئے کسی جگہ کا انتخاب کرسکیں۔ میرا موبائل نمبر 00923005962281 ہے اور ای میل ایڈریس naseer.loveislife@gmail.com ہے۔ بہت شکریہ
قیصر خان آفریدی، درہ آدم خیل، پاکستان

عدنان، میں دوبئی سے احمد ہوں، میری آپ سے پچھلے ہفتے بات ہوئی تھی اور آپ نے کہا تھا کہ آپ مجھے امدادی سامان کی فہرست بھیجیں گے۔ ازراہِ مہربانی مجھ سے رابطہ کیجیے تاکہ میں اس سامان کے ساتھ وہاں پہنچ سکوں۔ میرا رابطہ یہ ہے: فون، 00971506256714 اور ای میل ایڈریس ہے: ahmedk1968@hotmail.com
احمد خلیل، دوبئی


جمعرات، صبح سات بجے:

 
ریلیف کیمپ کا دورہ کیا، کچھ نئے کپڑے آئے تھے جو لوگوں میں تقسیم کیے اور پانچ گاڑیوں میں اپنی اگلی منزل کے لئے روانہ ہوئے۔

جمعرات، صبح نو بجے:

 
مظفرآباد سے تھوڑا آگے فوج کے جوان سڑک پر کام کررہے تھے، سو رکنا پڑا۔ یہاں بھی کچھ متاثرین نظر آئے تو پچاس جوڑے کپڑوں کے تقسیم کئے۔

جمعرات، صبح گیارہ بجے:

 
نیلم کے پاس نوسہری کے علاقے میں پانچ منٹ کے لیے رکے، یہاں ہم پہلے آچکے ہیں۔ کچھ کپڑے تقسیم کئے اور آگے نکلے۔ ہماری منزل اٹھ مقام ہے۔

جمعرات، بارہ بجے دن:

 
اللہ کے فضل سے بغیر کسی نقصان اور بڑی پریشانی کے ہم اٹھ مقام پہنچ گئے ہیں۔ یہاں سارا سامان اتار کر فی الحال اسی کو بیس بنانے کا سوچا کہ آگے کے راستے زیادہ ٹھیک نہیں ہیں۔ ہمارا ارادہ آگے تحصیل فیض پور جانے کا ہے۔ یہاں لوگوں نے امداد کے ناکافی ہونے کی بہت شکایات کیں۔ ان کے مطابق پچھلے ہفتے صرف دو ہی بار ہیلی کاپٹر سے امداد یہاں تک پہنچ پائی۔

ہم مقامی لوگوں کی مدد سے جتنا سامان اور ادویات بھر سکے، بھر کر اوپر فیض پور کے لیے روانہ ہوئے۔ کراچی سے میری بہن کا فون آیا کہ ایف ایم ایک سوتین پر لائیو کالز آرہی ہیں۔ اس پر فون کروں اور کراچی کے لوگوں سے دعا کی اپیل کروں۔ کچھ دیر کوشش کے بعد فون مل گیا اور بات بھی ہوگئی۔ خدا ہم سب کو ہدایت اور اس تکلیف کی سمجھ بوجھ عطا کرے۔

جمعرات، سہ پہر چار بجے:

 
یا خدا، لگتا ہے کہ ایک قیامت گزر چکی اور دوسری آیا ہی چاہتی ہے۔ یہاں مقامی لوگ بہت غیض وغضب میں تھے۔ یہاں پہنچتے ہی انہوں نے جو سلوک ہمارے ساتھ کیا، یقیناً ہم اسی کے حق دار تھے۔

یہاں ان کے پاس نہ کھانے، نہ پہننے کو اور نہ ہی کوئی ادویات تھیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم یہاں وافر مقدار میں سامان لائے ہیں، پینتیس ٹینٹ، سو کمبل اور اور بھی بہت کچھ۔ کم از کم ایک دو دن تو گزر ہی جائیں گے۔

جمعرات، شام پانچ بج کر چالیس منٹ:

 
شاید رمضان کا آخری روزہ ہو۔ یہاں ایک سو اسی کے قریب مریض تھے جن میں سے پچاس زخمی تھے اور باقی موسم کی سختی سے بیمار ہوگئے۔ یہاں ایک سولہ سے سترہ سال کی بچی، جس نے اپنا نام نہیں بتایا، پولیو کا شکار ہے اور سب کچھ گنوا کے بیٹھی ہے۔ سردی میں دھوپ سینکنے باہر بیٹھی تھی کہ قیامت آگئی مگر اس کے حوصلے بہت بلند ہیں۔ یہ ہمیں بھائی کہتے ہوئے ہم سے لپٹ گئی۔ خدا ہمیں اتنا حوصلہ دے کہ ہم اس کے بھائی ہونے کا فرض ادا کرسکیں۔ ہم نے آگے ایک گاؤں بوتانگے تک جانے کی کوشش کی لیکن راستہ خراب ہونے کی وجہ سے نہ جا پائے، رات کو پھر کوشش کریں گے۔

رات گئے، آخری بات:

 
تھوڑی دیر پہلے کراچی بہن سے بات ہوئی تو پتہ چلا کہ عید کا چاند نظرآگیا ہے اور گہما گہمی کا عالم ہے۔

اس وقت بھی میرے فون پر سگنل آرہے ہیں مگر مجھ میں کچھ کہنے کا حوصلہ نہیں ہے۔ مجھے فخر ہے کہ مجھے ایسے دوست ملے جو مجھ سے ہی نہیں میرے کام سے بھی انتہائی مخلص ہیں۔ مجھے فخر ہے کہ میری ماں نے ان حالات کے باوجود میرا ساتھ دیا۔ مجھے فخر ہے کہ میں اس وقت ان لوگوں کے درمیان ہوں جو سب کچھ گنوا بیٹھے ہیں، مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ میں عید کی مبارک باد کس کو دوں؟ اپنے گھروالوں کو جو مجھ سے دور ہیں اور غموں کا شکار ہیں،؟اپنے ان ہم وطنوں کو جو اتنے بڑے حادثے کو قدرتی آفت کہہ کر اب بازاروں میں گھوم رہے ہیں؟ یا ان حکومتی اداروں کو جو وسائل اور حالات کا رونا رو کر اس تیزی سے کام نہیں کررہے جس کا حق بنتا تھا؟

مجھے آج اپنے بہن بھائی یاد آرہے ہیں، جن کے ساتھ ہم نے یہ عید منانے کا فیصلہ کیا تھا، ماہ رخ اور اس کا لالہ یاد آرہے ہیں جن کو ہم بچا نہ پائے۔ مجھ عائشہ یاد آرہی ہے جو اس وقت نہ جانے کس حال میں ہوگی، عرفان یاد آرہا ہے جو اپنی کٹی ہوئی ٹانگوں کے ساتھ ابھی تک کسی کا انتظار کررہا ہوگا۔ مجھ وہ سب لوگ یاد آرہے ہیں جن کی لاشیں ہم نے دیکھیں اور جو صرف اس قدرتی آفت کا ہی نہیں بلکہ امدادی اداروں اور لوگوں کی بے حسی کا شکار ہوگئے۔

اس وقت یہاں کے لوگوں میں ایک عجیب سی خاموشی سی ہے۔ تین سو کے قریب لوگ ہیں جو ایک خاندان کی طرح مل کر کھانا پکا رہے ہیں، خدا کا شکر ہے کہ ہم نے بچوں کو نئے کپڑے دیے ہیں لیکن لگتا ہے، ہم کسی ویرانے میں ہیں۔ اس وقت تمام مریض بہت مشکل میں ہیں۔ ہمارے پاس ادویات ہیں لیکن ان میں سے بہت سوں کو کسی بڑے ہسپتال منتقل کرنا ضروری ہے۔

ہم سب ایک دوسرے کی شکلیں دیکھ رہے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے گلے مل کر مبارک باد دیں یا چیخ چیخ کر روئیں۔ صبح ہونے میں ابھی بہت دیر ہے مگر اس صبح کے خوف سے ہی میرے رونگھٹے کھڑے جاتے ہیں۔

میں جذباتی یا سینسیشنل نہیں ہورہا، صرف حقیقت بیان کر رہا ہوں، اور شاید رو رہا ہوں، باقی سب کی طرح۔ جس بچی کا ذکر کر رہا ہوں، اس نے اپنا نام شازیہ بتایا ہے، اس کی طرف سے، ہماری پوری ٹیم کی طرف سے اور فیض پور کی طرف سے پورے پاکستان کو عید مبارک۔ خدا آپ کو خوش رکھے۔

پیاری امی اور بہنو، میں کس مشکل میں ہوں، اس کا اندازہ آپ کو یہ ڈائری پڑھ کر ہوجائے گا۔ مجھ میں کسی سے بات کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔ مجھے مرحوم بابا اور آپ کی تربیت نے یہاں روک رکھا ہے۔ کل ڈاکٹر کاشان جارہے ہیں، انہیں سخت چیسٹ انفیکشن ہوگئی ہے۔ میری حالت اب بہت بہتر ہے، بس بار بار جیتا ہوں، بار بار مرتا ہوں۔ آپ کی دعائیں میرا سرمایہ ہیں، ڈاکٹر کاشان کے ہاتھ یہاں کے کچھ پتھر بھیج رہا ہوں کہ یہاں سے بھیجنے کے لئے اب اور کچھ نہیں بچا۔ امی شاید ابھی نکل رہی ہوں گی، بہنو، انہیں تمہاری بہت ضرورت ہے۔ اچھی اچھی سویٹ ڈشز بنانا اور کوشش کرنا کہ اسلام آباد کے کیمپس میں جو بچے ہیں، انہیں جا کر خود سے دینا۔




اگر آپ اس پر اپنی رائے دینا چاہیں تو یہاں کلک کریں:


 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
’کس کو عید مبارک کہوں‘
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
^^ واپس اوپر تازہ ترین خبریں>>آپ کی آواز >>پاکستان >>