جمعرات کی رات، فیض پور:
بارش اور ہلکے جھٹکوں کی وجہ سے پوری رات ٹینٹ میں ہی گزاری، سخت سردی تھی اور سب کی فکر بھی ۔ پتا نہیں سردی تھکن یا بیماری کی وجہ سے کب نیند آ گئی اور صبح 7 بجے آنکھ کھلی۔ یہاں سرکاری امداد بہت کم ہے اور آتے ہی ختم ہو جاتی ہے۔ منصوبہ بندی کے فقدان اور غیر منصفانہ تقسیم سے ایسا ہی ہوتا ہے۔ اب ٹینٹ بھی کم پڑ رہے ہیں اور گرم کپڑوں کے ساتھ غذائی اشیا کی بھی قلت ہے۔ سوکھی لکڑی بھی بہت مشکل سے مل پا رہی ہے۔
صبح سات سے دس بجے:
ہم اس وقت سید پور میں ہیں۔ لہجے کی وجہ سے ان لوگوں کی بات سمجھنے میں دقت ہو رہی ہے۔ ہمارے ساتھ اس وقت ہر عمر کے تقریباً 180 مریض ہیں۔ ان میں سے تین کو ٹیٹنس تشخیص ہو چکا ہے۔ اب ان کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہمارے ڈاکٹر کاشان کل سے بھی زیادہ بیمار ہیں۔ مقامی لوگوں کی مدد سے عید کی نماز کا انتظام کیا اور دکھی دلوں کے ساتھ نماز پڑھی۔
دس بجے سے دوپہر دو بجے:
مظفر آباد بات ہوئی تو پتا چلا کہ ہیلی کاپٹر تو آئے لیکن موسم کی خرابی کے باعث اتر نہیں پا رہے۔ ہمارے پاس دوائیں تو ہیں لیکن خوراک کی بہت قلت ہے۔ جو بھی ہم لائے تھے وہ اب ختم ہونے کو ہے۔ اس پر اب یہ اطلاع ملی ہے کہ دریائے نیلم کے جس پل سے گزر کر ہم آئے تھے وہ بہت ہی خراب ہو چکا ہے اور شائد اب مزید نقل و حمل کے قابل نہیں ہے۔ ہم نے الخدمت فاؤنڈیشن سے رابطہ کیا ہے اور انہوں نے ڈاکٹر، عملہ اور خوراک بھجوانے کا کہا ہے۔ فون کے سگنل صحیح نہیں آ رہے، گھر بھی صحیح بات نہیں ہو پا رہی اور سارے دوست موسم کی وجہ سے ڈسٹرب ہیں کیونکہ سب کی طبعیت خراب ہو رہی ہے۔
مقامی لوگوں نے جس دل سے عید پڑھی وہ بیان کرنا مشکل ہے۔ یہاں کوئی بھی فرد ایسا نہیں جس نے کچھ کھویا نہ ہو۔
ہم نے پوری کوشش کی ہے کہ آج کسی نہ کسی طرح بٹونگی پہنچ جائیں مگر قدرت کو شاید ابھی مزید امتحان لینا ہے۔ دونوں کوششوں میں لینڈ سلائڈ اور بارش کی وجہ سے واپس آنا پڑا۔ تھک ہار کر واپس ٹینٹ میں آ گئے۔ بھوک لگی ہوئی ہے لیکن صرف بسکٹ بچے ہیں۔ سوچتا ہوں اگر یہ بھی کھا لیے تو کل کیا ہوگا۔ اللہ مالک ہے۔
جمعہ، پانچ بجے سہ پہر، فیض پور:
ایک بچی کہتی پھر رہی ہے کہ میرا بابا کہاں ہے۔ اس بچی کو نہ تو سردی کی پرواہ ہے اور نہ ہی اس بات کی کہ آج عید ہے۔ اس کی ماں اس کے پیچھے روتی دھوتی بھاگ رہی ہے۔ کسی میں جرات نہیں کہ اس بچی کو بتا سکے کہ اب اس کا بابا نہیں آئے گا۔
اللہ بڑا کریم ہے کہ آج امریکی فوج اور ریڈ کراس والے نجانے کس طرح ہم تک پہنچ گئے ہیں۔ ان کے پاس ادویات اور کھانے پینے کا کچھ سامان بھی ہے۔ یہ لوگ بہت مدد گار ثابت ہورہے ہیں اور اب ہماری جان میں کچھ جان آئی ہے۔ ہم نے مقامی لوگوں کے ساتھ رات کے کھانے پینے کا بندوبست بھی کر لیا ہے اور تمام مریضوں کو ٹریٹمینٹ ملنا شروع ہوگئی ہے۔
ڈاکٹر کاشان کو کل اسلام آباد اور پھر کراچی منتقل کردیا جائے گا۔
آخری بات:
سخت سردی اور بارش کی وجہ سے ہم نے ٹینٹ میں پناہ لی ہوئی ہے اور خود کو گرم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس بھی گرم کپڑوں کی قلت ہوگئی۔ آج ایک ماں کو اپنے بیٹوں کی قبروں پر بیٹھے دیکھا۔ اس نے سارا دن کچھ نہیں کھایا۔ ہمارے بارہا سمجھانے پر بھی وہ وہاں سے نہ اٹھی۔
ٹیم کے ممبران کی طبیعت کی خرابی اور شدید تھکاوٹ کے پیش نظر سب نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ موسم اور حالات ٹھیک ہوتے ہی ہم اپنے اپنے گھروں کو جائیں گے اور دو تین دن آرام کر کے، نئے ٹیم ممبروں کو لےکر واپس آئیں گے۔
اگر آپ اس پر اپنی رائے دینا چاہیں تو یہاں کلک کریں: