زلزلہ بیتی: عدنان کی ڈائری
 


 
بٹونگی کیوں نہیں گئے
 


سنیچر: بٹونگی کی جانب

 

ہفتے کی صبح سات بجے ہماری سیدپور سے روانگی ہوئی، بیس کارکن ہمارے ساتھ تھے، ڈاکٹر کاشان جو کافی بیمار تھے ہمارے ساتھ نہیں تھے، ان کی جگہ ہم نے ڈاکٹر خورشید کو لیا، سامان اپنے کندھوں پر لادے کیوں کہ ہمیں اوپر جانا تھا، خچر ہمارے ساتھ نہیں جاسکتے تھے، کچھ مشکل راستوں کے ذریعے جو عام دنوں میں بھی استعمال نہیں ہوتے ہیں ہم صبح نوبجے بٹونگی کے مقام پر پہنچے جو پہاڑیوں میں بارہ سو فِٹ اوپر ہے۔

ہم نے دریائے نیلم کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا تھا، دریائے نیلم کے ساتھ کافی سڑکیں ختم ہوچکی ہیں، ’اٹھ مقام‘ کے بعد بائیں جانب دریائے نیلم پر ایک پُل نیچے پانی کے ساتھ گرا ہوا تھا اس حالت میں کہ ایک وقت میں صرف ایک آدمی اس پر سے ہوکر گزر سکتا تھا، کافی خطرہ بھی تھا کیوں کہ جب میں اس پر سے گزر رہا مجھے تین چار بار ایسا لگا کہ میں کہیں دریا میں نہ گرجاؤں، لیکن مقامی لوگوں کی ہمت کی وجہ سے ہم دوسری جانب جانے میں کامیاب ہوئے اور سامان بھی دریا کے پار لے جایا گیا۔

بٹونگی پہنچنے سے پہلے بھی پہاڑیوں میں ہمیں لوگ نظر آئے جو مختلف پاکٹ میں وہاں رہتے ہیں، میرا خیال نہیں کہ وہاں کوئی امداد پہنچی ہوگی کیوں کہ ہمارے لئے بھی وہ علاقے رسائی والے نہیں ہیں۔ بٹونگی پہنچنے کے لئے بھی ہمیں دو دن کا انتظار کرنا پڑا تھا، سنیچر کے روز بارہ گھنٹے لگاکر وہاں پہنچے۔


بٹونگی کے حالات خراب

 

بٹونگی کے حالات نہایت خراب ہیں، وہاں کی کل آبادی تین سو سے زیادہ ہے، وہاں لوگ بیمار ہیں، زخمی بھی کافی تعداد میں ہیں، بچے اور خواتین سمیت چالیس زخمی تھے، ایک عورت کو ٹیٹنس ہوچکا تھا، دو زخمی تھیں جنہیں ہم نیچے لانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بیس کے قریب بچے تھے جن میں دو بچے شدید زخمی تھے اور دونوں کو ٹیٹنس ہوچکا ہے۔ سات مرد حضرات زخمی ہوئے تھے جن میں سے ایک کی موت جمعرات کو ہوچکی تھی، باقی لوگوں کو ہم نے ٹیٹنس کے ٹیکے لگائے۔

ہم سے جو بھی ممکن ہوا ہم نے کیا، چونکہ اوپر کافی سردی تھی اور ہمارے پاس ٹینٹ موجود نہیں تھے، ہم لیکر ہی نہیں گئے تھے، بٹونگی کی پوری آبادی کے پاس ایک بھی خیمے ہمیں دیکھنے کو نہیں ملے۔ مقامی لوگ ملبے کے نیچے سے شیٹ نکال کر یا ان کے پاس جو ترپال تھے یا کوئی ایسی اشیاء جن کو شیڈ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے، کپڑے کو کپڑے سے جوڑ کر، رضائی کے کپڑے اتار کر، بہت مشکل حالات میں لوگ گزارہ کررہے ہیں۔ اور پچھلے دنوں، تین دن پہلے یہاں بارش بھی ہوئی تھی، بہت ہی ناقص صورت حال تھی۔

بٹونگی کیوں نہیں گئے؟

 

بہت ہی افسوس کا مقام ہے، کہا یہ جارہا ہے میڈیا کی طرف سے، اور حکام کی جانب سے بھی کہ ہم ہر جگہ پہنچ چکے ہیں، ننانوے فیصد ایریا ہم نے کور کرلیا ہے، لیکن بٹونگی کیوں نہیں گئے؟ وہاں مقامی لوگ کئی رات سے آگ لگا رہے تھے، ہم سیدپور سے دیکھ رہے تھے کہ آگ لگائی گئی ہے، واضح اشارے تھے کہ وہ لوگ مدد چاہتے تھے، اور ہم نے پچھلے دو دنوں میں وہاں کوئی ہیلی کاپٹر آتے جاتے نہیں دیکھا، ہمارے پاس (اٹھ مقام سے بیس کلومیٹر دور سیدپور میں) ہیلی کاپٹر ضرور آیا لیکن کچھ موسم کے حالات کی وجہ سے اور یہاں پر تودے گرنے کی وجہ سے ہیلی کاپٹر کو اتارنا خطرناک تھا، ہم ان حالات کو سمجھتے تھے۔ لیکن ہمیں بٹونگی میں کوئی ایسی وجہ نہیں دکھائی دی کہ کیوں کچھ اوپر سے امداد نہیں گرائی جاسکتی تھی؟

غذا کی قلت

 

میں یہ عرض کروں گا کہ بٹونگی میں غذائی قلت شدید ہوچکی ہے، لوگ شدید بیمار ہیں، تمام بیماروں کو کسی بڑے شہر میں جیسے مظفرآباد منتقل کرنے کی فوری ضرورت ہے، چوبیس گھنٹوں میں اگر امداد نہیں پہنچائی جائے گی تو لوگ وہاں شاید بھوکوں مرنا شروع ہوجائیں گے۔ ہمارے پاس جو کچھ بھی تھا، بسکٹ، پانی کی بوتلیں، کافی ہائی ایریا میں ہم گئے تھے، ہم بھی تھک گئے تھے، ہم نے بھی استعمال کیا اور باقی ان کو دیکر آئے ہیں، لیکن وہ قطعی ناکافی ہیں۔

تین سو سے زیادہ آبادی کے اس علاقے میں یہ کافی نہیں، خواتین نے خاص کر ہمارے سامنے اپنے دوپٹے اتارنے شروع کردیے کہ ’بھائی ہم بھوکے مررہے ہیں، ہمیں مدد چاہئے، ہمارے پاس کپڑا نہیں ہے، پہننے کے لئے کپڑا نہیں ہے، جو تھا وہ دب چکا ہے۔۔۔‘ اس صورت حال سے واضح ہے کہ بٹونگی اس وقت کافی سنگین حالت میں ہے، اگر چوبیس گھنٹے کے اندر وہاں امداد نہیں پہنچائی گئی تو یا تو لوگ بھوکوں مرنا شروع ہوجائیں گے یا سردی کی وجہ سے ہلاکتیں شروع ہوجائیں گیں۔ جب ہم بٹونگی پہنچے ہیں تو ان کو تو یہی نہیں پتہ تھا کہ عید ہوچکی ہے یا نہیں۔

اگر آپ اس پر اپنی رائے دینا چاہیں تو یہاں کلک کریں:
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
بٹونگی کیوں نہیں گئے
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
^^ واپس اوپر تازہ ترین خبریں>>آپ کی آواز >>پاکستان >>