زلزلہ بیتی: عدنان کی ڈائری
 



منگل، تیس نومبر

 
آج صبح سٹور سے گرم کپڑے، بستر، ٹینٹ، راشن لا کر انہیں لے کر وادی نیلم کی سڑک پر نکلا۔ پاکستان فوج نے پوری کوشش کر کے تھوڑا بہت راستہ صاف کروا دیا ہے۔

بڑھتی ہوئی سردی، برف باری اور بارش نے یہاں کے حالات اور زندگی کو بہت بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی سردی کی وجہ سے سب بہت مشکل میں ہیں۔ ہمارا ارادہ تلگران جانے کا تھا مگر خراب موسم کی وجہ سے اور روڈ لنک صاف نہ ہونے کی وجہ سے ہم دھانی کے علاقوں کی طرف نکلے ہیں۔ یہاں کے مقامی ساتھی ہماری بہت مدد کر رہے ہیں اور ہر وقت ساتھ دے رہے ہیں۔

ہم ڈیفینس روڈ پر اپنی گاڑیاں چھوڑ کر پیدل ہی، سامان کے ساتھ اس علاقے کی طرف بڑھے۔ یہاں کے حالات بھی پچھلی بار کی طرح ہی ہیں۔ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتا کہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ آخر انسانیت کے ساتھ اتنا سنگین مذاق کیوں کیا جا رہا ہے؟ آخر یہ سب لوگ کیا چاہتے ہیں۔ میں تو بس یہی کہوں گا کہ اب برف کا قبرستان تیار ہونے ہی والا ہے۔

تین بجے سہ پہر

 

دھانی پہنچنے کے بعد وہاں ہماری توجہ سب سے پہلے بچوں کی طرف تھی۔ یہاں پندرہ بچے نمونیا کا شکار ہو چکے ہیں۔ باقی کو ہم نے ہیپٹائٹس کے ویکسین لگائے اور خواتین کو ادویات دیں۔ ساتھ لائے ہوئے ٹینٹ اور گرم کپڑوں کو تقسیم کیا مگر قلت کی وجہ سے پورا علاقہ کور نہیں ہو سکا۔ یہاں ٹینٹوں اور گرم کپڑوں کی بہت قلت ہے۔

دس بجے رات

 

بہت سردی ہے۔ اس وجہ سے اور کیونکہ میری طبیعت بھی کافی خراب ہو گئی تھی، ہم نے واپسی کا فیصلہ کیا۔ بہت ہی دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے ہم تقریباً پونے نو بجے مظفرآباد پہنچے۔ یہاں بجلی نہیں تھی۔ اس تویل سفر اور سرد موسم نے بہت تھکا دیا تھا۔ تھوڑا آرام کرکے دوبارہ مشن پر کھڑا ہوا ہوں۔

نسیم بی بی کو سلام

 
چودہ سالہ نسیم بی بی کا تعلق دھانی سے ہے۔ یہ ان چند لوگوں میں شامل ہیں جن کو ہم وہاں سے اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں۔ اس لڑکی کی ماں بہت پہلے انتقال کر گئی تھیں۔ باپ ایک مذدور تھے جو اس زلزلے میں ہلاک ہو گئے۔ اب یہ لڑکی اپنے آٹھ چھوٹے بھائی بہنوں کا خیال رکھ رہی ہے۔ کمال ہمت ہے اس میں کہ اتنی چھوٹی عمر میں وہ اپنی ذمہ داری اتنی خوبصورتی سے نبھا رہی ہے۔ ایک چھوٹے سے چھپر کے نیچے بیٹھی اس لڑکی نے مجھے دیکھ کر کہا کہ ’عدنان بھائی میرے بھائی بہنوں کے لیے کچھ انتظام کر دین‘۔

اس نے مجھے بھائی کہا، تو میں اپنی اس بہن کو وہاں چھوڑ کر کیسے جا سکتا تھا؟ ہم انہیں اپنے ساتھ مظفراْآد لے آئے۔ اب انہیں کل اسلام آباد بھیجوں گا۔ نسیم کی خشک آنکھوں میں بس ایک ہی سوال ہے۔۔۔ اب آگے کیا ہوگا؟

میں اپنے کم وسائل کے باوجود جو کچھ کر سکتا ہوں کر رہا ہوں۔ کل ایک بار پھر تلگران جانے کی کوشش کروں گا۔ ایک دفعہ پھر یہی درخواست کروں گا کہ آپ سے جو کچھ ہو سکے ان متاثرین کے لیے ضرور کریں، کیونکہ یہاں کے تباہ حال لوگوں میں ایک دوسری قیامت کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہے۔

اگر آپ اس پر اپنی رائےدینا چاہیں تو یہاں کلک کریں





 
 
’زندگی بہت مشکل میں ہے‘
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
^^ واپس اوپر تازہ ترین خبریں>>آپ کی آواز >>پاکستان >>