کلدیپ نایر  کی یادیں
 
کلدیپ نایر
انٹرویو و تصاویر: نادیہ پرویز
 


کلدیپ نایر پاکستان کے سیالکوٹ سے تقسیم کے بعد ہندوستان آ گئے تھے ۔ انہوں نے اپنے کریئر کی شروعات اردو کے اخبار سے کی اور آگے چل کر ملک کے ایک بڑے صحافی کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ ان کی کہانی، ان ہی کی زبانی:

 کلدیپ نیّر کے سیالکوٹ

’میری پیدائش سیال کوٹ میں ہوئی ۔ تعلیم بھی وہيں حاصل کی۔میرے سکول کا نام گنڈا سکول تھا۔ اب وہ لڑکیوں کا کالج بنا دیا گیا ہے۔ میرے گھر میں ایک قبر تھی۔ میری ماں کہا کرتی تھی کہ وہ ایک پیر کی قبر ہے۔ جب بھی میری ماں پریشان ہوتی تھیں تو ہم انہیں اسی قبر پر بیٹھے ہوئے دیکھتے تھے۔ میری ماں ہمیشہ ہم سے کہتی تھیں کہ جمعرات کو پیر صاحب کی قبر پر ضرور کچھ نہ کچھ چڑھا دیا کرو۔ پیر صاحب کی قبر ہمارے گھر کا ایک اٹوٹ حصہ بن چکی تھی۔

جب میں ممبر آف پارلیمنٹ بن گیا تو مجھے سیالکوٹ جانے کی اجازت مل سکی۔ اس وقت جب میں وہاں گیا تو میں نے وہاں کے لوگوں سے پوچھا کہ آخر وہ قبر کہاں گئی۔ لیکن کسی کو پتہ نہ تھا۔ میں اس قبر کے لیے اس وجہ سے بھی پریشان تھا کیوں کہ جب میری ماں کو پتہ چلا کہ میں سیالکوٹ جا رہا ہوں تو انہوں نے مجھے ایک چادر دی اور کہا کہ اسے پیر صاحب کی قبر پر چھڑا دینا۔ لیکن تمام کوششوں کے بعد پیر صاحب کی قبر مبجھے نہیں ملی۔

آخر میں جب میں نے ایک شخص سے پوچھا تو اس نے کہا صاحب سچائی یہ ہے کہ وہ قبر یہاں تھی لیکن وہ ہمارے دکان کے درمیان میں آ رہی تھی اور ہمارا کاروبار متاثر ہو رہا تھا اس لیے ہم لوگوں نے اسے تڑوا ڈالا ۔ یہ بات میں نے اپنی ماں کو آکر بتائی تو انہوں نے کہا کہ جاؤ یہ چادر نظام الدین کی درگاہ پر جاکر چڑھا دو۔ ابھی کچھ روز قبل مجھے پتہ چلا ہے کہ وہاں ایک اور قبر بنائی جا رہی ہے۔





 
 
آخر وہ قبر کہاں گئی؟
^^ اوپر واپس واپس اوپر >>آپ کی آواز >>تازہ ترین خبریں >>