![]() |
|
![]() بچوں کی ہلاکتوں کی تصویریں بھی انٹرنیٹ پر شائع کی جا رہی ہیں۔ بچے بھی شرپسند ہیں؟ ’میں ابھی تو کوئٹہ میں ہوں لیکن میرا گھر تراتانی کاہان کے قریب ہے۔ میں 17 دسمبر کو کوہان میں تھا جب تقریباً گیارہ بجے میں نے ہوا میں تین طیارے اور کئی ہیلی کاپٹر اڑتے دیکھے۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے نیچی پرواز کرتے ہوئے طیاروں نے میرے ہمسایوں کے گھر پر بمباری کی۔ یہ ایسا خوفناک منظر تھا کہ لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
ہمارے ہمسائیوں کے گھروں میں تین چار لاشیں مسخ پڑیں تھیں، لوگ لاشیں اکٹھی کرنے سے بھی ڈر رہے تھے کیونکہ جہازوں کے واپس لوٹنے کاڈر رہتا تھا۔ گھروں میں کوئی سامان نہیں بچا تھا اور سب کچھ جل کر راکھ ہو گیا تھا۔ رات کے وقت پہاڑوں سے جڑی بوٹیاں اکٹھی کر کے ہم نے زخمیوں کی مرہم پٹی کی۔ تمام علاقوں سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں بیشتر تعداد بچوں، خواتین اور بوڑھوں کی ہے۔ سب لوگ حیران تھے اور ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ آخر ہو کیا رہا ہے؟ ہمارے گھروں کو جلانے والے اور بچوں کو مارنے والے حکمران یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ مری علاقے میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا، صرف اور صرف شرپسندوں کے ٹھکانوں پر کاروائی کی جا رہی ہے تو ہم حاکموں سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کے آیا ہمارے معصوم بچے اور خواتین بھی شرپسند ہیں؟ کیا ہماری جھگیاں شرپسندوں کے ٹھکانےمعلوم ہوتے ہیں؟ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ غریبوں کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔‘ نجیب اللہ مری، کوئٹہ |
||||||||||||||||||||||||||||||
| ^^ واپس اوپر | |||