شہر سیارہ، کچی آبادی کی زندگی
 

پورا منظر دیکھنے کے لیے کلک اور ڈریگ کریں

’جلد از جلد چھوڑنا چاہتا ہوں:‘ ایئر کرافٹ انجنیئر کی کہانی

 
چھیالیس سالہ سلوراج تھیور
چھیالیس سالہ سلوراج تھیور
میں جلداز جلد دھاروی کو چھوڑنا چاہتا ہوں۔ میں یہاں 1979 سے رہ رہا ہوں اور ہر روز کام پر جاتے وقت اور بینک سے اپنے کچی آبادی کے پتے کے باعث قرض حاصل کرنے کے راستے میں حائل ہونے جیسی رکاوٹوں سے تنگ آچکا ہوں۔ خوش قسمتی سے میرے پاس اب ایک اچھی جاب ہے لیکن پہلے جہاں انٹرویو کے لیے جاتا تو میرا پتہ پوچھنے سے پہلے تک سب کچھ ٹھیک ہوتا تھا۔ جیسے ہی میں علاقے کا نام لیتا وہ کہتے کہ کال کریں گے اور پھر کبھی رابطہ نہیں کرتے۔
• پیشہ: جیٹ ائیرویز کے لیے جہازوں کی مرمت کا کام۔
• آمدنی: ڈالر (140 پاؤنڈ) فی ماہ، گھر میں اکیلا کمانے والا۔
• گھر: ایک کمرے میں بیوی اور ایک بچے کے ساتھ۔
• علاقے میں قیام: ستائیس سال، ایک دن علاقہ چھوڑنے کی امید رکھتے ہیں۔

میں بہت عرصہ پہلے ہی یہ جگہ چھوڑ چکا ہوتا لیکن ممبئی شہر بہت مہنگا ہے اور یہاں اپنی استطاعت کے مطابق رہائش ڈھونڈنا مشکل ہے۔ اگر مجھے قریب میں کوئی کمرہ پسند آتا ہے تو اس کا سکیورٹی ڈپازٹ اور کرایہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

اگر میں کسی ایسی جگہ جاتا ہوں جہاں کرایہ میرے بجٹ کے مطابق ہو تو کام پر جانے کے لیے میرا سفر دگنا ہو جاتا ہے۔ دھاروی ایک کچی آبادی ہے لیکن اس کے علاوہ مجھے یہاں رہنے میں کوئی شکایت نہیں۔ یہ ممبئی کے وسط میں ہے اور یہاں سے شہر کے کسی بھی حصہ میں جانا بہت آسان ہے۔


میں چھ دن کام کرتا ہوں اور مجھے دو چھٹیاں ملتی ہیں۔ بعض اوقات میں صبح سویرے کام کے لیے نکلتا ہوں اور آدھی رات کے بعد گھر لوٹتا ہوں۔ میری چھوٹی سی فیملی میں میری بیوی اور ایک چودہ سال کا بیٹا ہے۔ میری بیوی کام نہیں کرتی اور گھر کی دیکھ بال کرتی ہے۔ میرا بیٹا پڑھتا ہے۔ میں اتنا کما لیتا ہوں کہ جس میں ہمارا سکون سے گزارا ہو جاتا ہے۔ میں خرچے کے معاملے میں ذرا سخت ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ ہم اسی میں گزارا کریں جتنا میں کماتا ہوں تا کہ کسی سے مانگنا نہ پڑے اور ہم کچھ بچت بھی کر سکیں۔




اس بچت کا فائدہ اس وقت ہوتا ہے جب میرے بیٹے کی ٹیوشن فیس یا میڈیکل ایمرجینسی جیسے ضروری اخراجات اچانک پیدا ہوجاتے ہیں۔ ہم سفر نہیں کرتے اور زیادہ باہر نہیں جاتے اور کھانا گھر پر ہی کھاتے ہیں۔

اپنا پیسہ اپنے بیٹے کے اچھے مستقبل کے لیے بچانے کو میں ترجیح دیتا ہوں۔

مجھے دھاروی میں کچی آبادی بسانے کے پروگرام کے تحط ایک نئی بلڈنگ میں کمرہ دیا گیا ہے ۔ کمرہ اچھا ہے لیکن میں پھر بھی اس علاقے سے جانا چاہتا ہوں۔

 
 
ایئر کرافٹ انجینئر کی کہانی
^^ تازہ ترین خبریں >>پاکستانآپ کی آواز